فلمی میدان میں ہمایوں سعید، فہدمصطفیٰ کا راج،شان اپنی ہی انا کا شکار؟

لندن:(حسنین جمیل)برطانیہ میں پاکستانی اردو ٹی وی ڈرامے بہت مقبول ہیں بھارتی، افغانی، بنگلہ دیشی، نیپالی سب دیکھتے ہیں۔ فہد مصطفیٰ، ہمایوں سعید، فواد خان، ماہرہ خان اور مہوش حیات بہت مقبول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمیں جب سنیما میں لگتی ہیں تو سب دیکھنے جاتے ہیں۔
شان کو یہی جلن ہے کہ وہ کیوں مقبول نہیں۔ اسے یہ نہیں پتہ کہ ہر 55 سال سے اوپر کا ہیرو شاہ رخ، عامر، سلمان، اجے یا اکشے نہیں ہوتا۔ بالی وڈ کا اپنا ایک انداز ہے، وہ ہم سے بہت آگے ہیں۔ ہماری بقا ہمارے اردو ٹی وی ڈراموں میں ہے۔
میں حیران ہو گیا جب برطانیہ کی وفاقی وزیر شبانہ محمود نے ڈرامہ "کفیل” کا تذکرہ کیا۔ لہٰذا شان کو حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے اپنے جونیئرز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، اس سے مثبت پیغام جائے گا۔ مگریو ں محسوس ہوتا ہے شان پرانا کینہ پرور ہیں ان سے تو ماضی میں بابر علی کی کامیابی بھی ہضم نہیں ہوئی تھی، جب دونوں دو فلموں "گھر کب آؤ گے” اور "سنگرام” میں یکجا ہوئے تھے، اور "میلہ” بابر علی لوٹ گیا تھا۔
پچھلے دنوں شان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں فہد اور ہمایوں کے خلاف اس لیے محاذ گرم کیا کیونکہ وہ اپنے اندر کی جلن اور کینہ پروری چھپا نہ سکے عید الفطر پر فہد اور شان کی فلمیں ریلیز ہوئیں تھیں۔ فہد مصطفیٰ کی "آگ لگی بستی میں” اب تک 90 کروڑ، اور شان کی "بلھا” اب تک 22 کروڑ کا بزنس کر چکی ہے۔
اس سے قبل ایک سال پہلے ہمایوں سعید کی "لو گرو” نے 77 کروڑ کا بزنس کیا تھا، اور "پنجاب نہیں جاؤں گی” اور "لندن نہیں جاؤں گا” نے 80 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا تھا۔ جبکہ شان کی آخری سپر ہٹ فلم "وار” تھی، جو 2014 میں ریلیز ہوئی۔
پچھلے دس سال کی ناکامیوں کے بعد جب "بلھا” کو یہ محدود کامیابی ملی تو شان اپنے آپے سے باہر ہو چکے ہیں وہ یہ بھول چکے ہیں کہ فہد مصطفیٰ اور ہمایوں سعید نئی نسل کے ہیروز ہیں۔ یہ دونوں ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں بیک وقت کامیاب ہیں۔
شان کی پنجابی فلم "بلھا” کا پنجاب میں بزنس فہد کی اردو فلم "آگ لگی بستی میں” سے کم تھا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اردو فلم پنجاب میں بزنس نہیں کرتی، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اردو کی ترویج ہی پنجاب میں ہوئی ہے، اور پاکستان کے اردو ٹی وی ڈراموں کے 70 فیصد شائقین پنجاب سے ہیں۔
فلم "گھر کب آؤ گے” کےمرکزی ہیرو شان اور بابر علی ولن تھے جوانٹرول میں مرجاتے ہیں مگر اپنی شاندار اداکاری کی ایسی چھاپ چھوڑتے ہیں کہ فلم بین انٹرول میں ہی اس کے ساتھ چلے جاتے ہیں اور باقی فلم بے مزہ ہو جاتی ہے۔
اب بڑی عید پر شان کی فلم "سائیکو” اور فہد مصطفیٰ کی "Zombeid” پھر ساتھ لگ رہی ہیں۔ توقعات یہی ہیں کہ فہد مصطفیٰ کی فلم کا بزنس شان کی "سائیکو” سے دوگنا نہیں بلکہ پانچ گنا زیادہ ہوگا۔ تب شان پھر بیان بازی کر کے خوش ہوں گے ایک سینئر ترین اداکار کا یہ رویہ افسوسناک ہے۔



