انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکاروبار

سٹیٹ بینک کا شرح سودمیں ایک فیصد اضافہ کا اعلان،مہنگائی میں اضافہ،پاکستان بزنس فورم کاشدید ردعمل

کراچی :(کامرس رپورٹر) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے زری پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا گیا۔ زری پالیسی کمیٹی نے پیر کو اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ 100 بیسس پوائنٹ بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیصلے کا اطلاق آج منگل 28اپریل سے ہوگا۔

کمیٹی نے محسوس کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی طوالت سے میکرو اکنامک منظرنامے کو لاحق خطرات شدید ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کی عالمی قیمتیں، باربرداری کے اخراجات اور بیمہ پریمیم تنازع سے پہلے کی سطح سے خاصے اوپر رہیں گے۔ مزید برآں، سپلائی چین میں خلل نے بھی موجودہ غیر یقینی کیفیت بڑھا دی ہے۔ اگرچہ اب تک موصول ہونے والا ڈیٹا بڑی حد تک زری پالیسی کمیٹی کی توقعات کے مطابق ہی ہے، تاہم اس عالمی پیش رفت کے اثرات آئندہ اہم اقتصادی اظہاریوں میں ظاہر ہوں گے۔

اس تناظر میں، کمیٹی کا تجزیہ تھا کہ مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے اور اگلی چند سہ ماہیوں میں یہ ہدفی حد سے اوپر رہے گی۔ چنانچہ کمیٹی نے سخت پالیسی موقف برقرار رکھنا ضروری سمجھا تاکہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں، اور موجودہ رسدی دھچکوں کے دورِ ثانی کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے تاکہ مہنگائی ہدفی حد کے اندر لائی جائے۔ میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا اہم ہوگا جو کہ پائیدار معاشی نمو کیلئے ضروری ہے۔ مشرق ِ وسطیٰ میں جغرافیائی اور سیاسی واقعات کے علاوہ زری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی اہم پیش رفت پر نظر ڈالی: پہلی، مارچ میں مہنگائی بڑھ کر7.3 فیصد ہوگئی، جبکہ قوزی مہنگائی اضافے کے ساتھ 7.8 فیصد تک پہنچ گئی۔

دوسری، تازہ ترین سرویز میں مہنگائی کی توقعات، اور صارفین اور کاروباری اداروں کے اعتماد میں بگاڑ دیکھا گیا۔ تیسری، مالی سال 26 کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3.8 فیصد نمو ہوئی، جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 1.9 فیصد تھی۔ چوتھی، جولائی تا مارچ مالی سال 26 کے دوران جاری کھاتے میں معمولی سرپلس درج کیا گیا۔

پانچویں، قرضوں کی خاصی واپسی کے باوجود سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 24 اپریل 2026 تک تقریبا 15.8 ارب ڈالر ہیں، جسے یورو بانڈز کے اجرا سے مدد ملی، کیونکہ پاکستان چار برس سے زائد کے وقفے سے بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں میں دوبارہ داخل ہوا۔ آخر میں، آئی ایم ایف کے ساتھ 27 مارچ کو اسٹاف لیول کا سمجھوتہ طے پایا تھا۔

مذکورہ بالا پیش رفت اور ابھرتے ہوئے خطرات کے تناظر میں، زری پالیسی کمیٹی نے آج کے فیصلے کو وسط مدت میں قیمتوں کے استحکام کا ہدف حاصل کرنے کیلئے اہم قرار دیا۔ کمیٹی نے بیرونی بفرز میں مسلسل اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کے اہم کردار کا اعادہ کیا۔ ان اقدامات کی بدولت حالیہ جغرافیائی و سیاسی تنازعے کے آغاز پر معیشت کی ابتدائی حالت ماضیِ قریب میں پیش آنے والے اسی نوعیت کے دھچکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط رہی ۔ زری پالیسی کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بیرونی کھاتے کو مزید لچک دار بنانے اور پائیدار معاشی نمو یقینی بنانے کیلئے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

مالی سال 26 کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی حقیقی نمو عبوری طور پر 3.9 فیصد درج ہوئی جس کے بعد مالی سال کی پہلی ششماہی کی مجموعی نمو 3.8 فیصد رہی، جو گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں اقتصادی سرگرمیوں میں وسیع البنیاد بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی کی کارکردگی عمدہ رہی اور جولائی تا فروری مالی سال 26 کے دوران اس میں 5.9 فیصد نمو ہوئی۔ صنعت اور خدمات کے شعبوں کے بلند تعدد والے اظہاریے فروری تک اقتصادی سرگرمیوں میں مستحکم تحرک دکھا رہے تھے تاہم مارچ میں ان میں اعتدال کی کچھ علامات ظاہر ہوئیں۔ زراعت میں نمو کے امکانات معمولی سے معتدل ہوئے جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ زراعت پر وفاقی کمیٹی نے اپنے اولین تخمینوں میں گندم کی جو ممکنہ پیداوار بتائی تھی، حقیقی پیداوار اس سے کم ہوئی۔

اس امر کے علاوہ مشرقِ وسطی میں جاری تنازع کے جو متوقع اثرات چوتھی سہ ماہی میں صنعت اور خدمات کے شعبوں کی سرگرمی پر پڑیں گے ان کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ مالی سال 26 میں جی ڈی پی کی حقیقی نمو سابقہ تخمینے کی نچلی سطح کے قریب رہے گی۔ مالی سال 27 میں اقتصادی سرگرمیوں میں اعتدال جاری رہنے کا امکان ہے، اگرچہ یہ منظرنامہ متعدد خطرات پر منحصر ہے جن میں جاری تنازع کا دورانیہ اور اس کی شدت بھی شامل ہیں۔ فروری اور مارچ میں کرنٹ اکانٹ لگاتار سرپلس رہنے کے نتیجے میں جولائی تا مارچ مالی سال 26 کے دوران مجموعی طور پر جاری کھاتے میں معمولی سرپلس حاصل ہوا۔

اس کھاتے کو اہم معاونت کارکنوں کی مستحکم ترسیلات زر سے ملی۔ چنانچہ، دشوار بیرونی حالات بشمول تناسباتِ تجارت کے خاصے بگاڑ کے باوجود مالی سال 26 میں کرنٹ اکانٹ سابقہ تخمین شدہ حد کی نچلی سطح کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ فنانسنگ کے لحاظ سے حکومت نے اضافی دو طرفہ سمجھوتوں اور یورو بانڈز جاری کرکے بیرونی فنانسنگ فعال طریقے سے حاصل کی، جس سے قرض اور واجبات کی حالیہ واپسی کا اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر پر اثر جذب کرنے میں مدد ملی۔

اس ضمن میں جون 2026 تک سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا تخمینہ ہے۔ کمیٹی نے عالمی معاشی حالات میں بے یقینی کے پیشِ نظر زرمبادلہ ذخائر کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ مارچ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی ہدف سے کم رہی، جس کے نتیجے میں جولائی تا مارچ مالی سال 26 کے دوران مجموعی کمی بڑھ کر 611 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس سے قطع نظر، مالکاری سے متعلق تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ مارچ تک مالیاتی خسارہ محدود رہا۔

تاہم، مشرقِ وسطی میں جاری تنازعے نے مالیاتی نظم و نسق کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ تیل کی بین الاقوامی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ ملکی صارفین تک منتقل ہونے کے باعث کمزور طبقوں کیلئے ہدفی زرِ اعانت کی فراہمی ضروری ہوگئی۔ سال بھر کے بنیادی سرپلس ہدف کے حصول کیلئے اخراجات میں بڑی کٹوتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ اس ضمن میں، زری پالیسی کمیٹی نے پائیدار مالیاتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جن میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانا اور سرکاری اداروں (ایس او ایز)کے خساروں میں کمی لانا شامل ہے، تاکہ مالیاتی پائیداری اور استحکام کو مضبوط بنایا جا سکے۔زرِ وسیع کی نمو 10 اپریل تک گرکر14.5 فیصد رہ گئی، جو 20 فروری کو16.0 فیصد تھی۔ یہ اعتدال بنیادی طور پر بینکوں سے خالص میزانی قرض گیری میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

دریں اثنا، نجی شعبے کے قرضوں میں بدستور اضافہ ہوا اور وہ تقریبا 13 فیصد رہا، جو معاشی سرگرمی میں بہتری اور پالیسی ریٹ میں گزشتہ کٹوتیوں کے تاخیری اثرات سے ہم آہنگ ہے۔ جولائی تا مارچ مالی سال 26 کے دوران، نجی شعبے کے قرضوں کا بہا جاری سرمائے، معینہ سرمایہ کاری اور صارفی قرضوں سب میں بڑھ گیا۔ قرضوں کا شعبہ جاتی بہاو ٹیکسٹائل، تھوک اور خردہ تجارت، اور کیمیکلز میں مرکوز رہا، جبکہ صارفی قرضوں میں مسلسل اضافہ گھریلو طلب میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔

زری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے واجبات کے زمرے میں زیرِ گردش کرنسی اور ڈپازٹس دونوں میں کمی آئی ہے۔ مارچ میں عمومی مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی، جبکہ قوزی مہنگائی بھی معمولی اضافے کے ساتھ 7.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تنازع شروع ہونے سے قبل مہنگائی ہدفی حد کی بالائی سطح کے قریب پہنچنے کی پیش گوئی کی جا رہی تھی، جس کی بنیادی وجہ منفی اساسی اثر تھا۔ نتیجتا، توانائی کی قیمتوں کے دھچکوں کے باعث ایندھن کے نرخوں میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات کرایوں میں اضافے کے ذریعے قوزی مہنگائی میں منتقل ہونا شروع ہو چکے ہیں، البتہ وافر رسد کی بدولت غذائی گرانی کے قابو میں رہنے سے عمومی مہنگائی پر اس کے اثرات کا کسی حد تک ازالہ ہونے کا امکان ہے۔

تاہم مستقبل کے حوالے سے زری پالیسی کمیٹی کا تجزیہ یہ تھا کہ حالیہ رسدی دھچکا آنے والے مہینوں میں مہنگائی کو دہرے ہندسوں میں لے جا سکتا ہے، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ اس کے باوجود، مالی سال 2027 کے بیشتر عرصے میں مہنگائی 5 تا 7 فیصد ہدفی حد کی بالائی سطح سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ یہ منظرنامہ خاص طور پر جاری تنازعے کی مدت اور شدت، توانائی کی عالمی قیمتوں میں ردوبدل کی ملکی معیشت میں منتقل ہونے کی مقدار، اور مالیاتی خسارے میں ممکنہ اضافے جیسے متعدد خطرات پر منحصر ہے۔

دریں اثنا پاکستان بزنس فورم نے کہا ہے کہ مانیٹری پالیسی کا اعلان عندیہ ہے کہ بجٹ میں ٹیکس ہی ٹیکس ہوں گے، معیشت اگر آئی ایم ایف نے چلانی ہے تو بزنس کمیونٹی کو واضح کر دیا جائے۔جاری بیان میں پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ شرحِ سود میں اضافہ سے نجی شعبے کو قرض میں مزید مشکلات ہوں گی، ہماری کاروباری لاگت خطے کے مقابلے میں پہلے ہی 34فیصد زیادہ ہے، سنگل ڈیجٹ شرح سود سے سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملنے کی توقع تھی۔

صدر پی بی ایف نے کہا کہ حکومت سنجیدگی دکھائے تو دبئی سے پاکستانی سرمایہ واپس لانے کا بہترین موقع ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کے پیش نظر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 240 روپے ہونی چاہیے، روپے کو مضبوط کریں تو آدھے مسائل حل ہوں جائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button