
دنیا کی سیاست میں طاقت ہمیشہ سلامتی کے نام پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ بڑی طاقتیں خود کو عالمی امن کا محافظ بھی قرار دیتی ہیں اور عالمی سیکیورٹی کے ضامن بھی۔ مگر تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ جب طاقت کے دعوے حقیقت کی آزمائش سے گزرتے ہیں تو کئی سوال جنم لیتے ہیں۔ کبھی ایک واقعہ پورے نظام کو ہلا دیتا ہے اور کبھی ایک چھوٹی سی کمزوری عالمی سطح پر اعتماد کے بحران کو جنم دے دیتی ہے۔
حالیہ دنوں میں Donald Trump پر ہونے والے حملے نے بھی اسی نوعیت کے سوالات کو جنم دیا ہے۔ جس تقریب میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں کئی ہائی پروفائل شخصیات اور اہم سیاسی افراد موجود تھے۔ ایسے پروگراموں میں سیکیورٹی کے کئی حصار قائم کیے جاتے ہیں، انٹیلی جنس ادارے پیشگی معلومات جمع کرتے ہیں اور حفاظتی ادارے ہر پہلو پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی حملہ ہو جائے تو یہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں بلکہ اس پورے سیکیورٹی نظام پر سوال بن جاتا ہے جو خود کو دنیا کا سب سے مضبوط نظام قرار دیتا ہے۔
دنیا کو ابھی تک وہ دن یاد ہے جب 11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر دہشت گرد حملے ہوئے جنہیں September 11 attacks کہا جاتا ہے۔ اس دن چار مسافر طیارے اغوا کیے گئے، جن میں سے دو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا گئے، ایک پینٹاگون سے ٹکرایا اور چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر گیا۔ اس سانحے کے بعد United States نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع کی اور Afghanistan پر حملہ کیا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ سوال بار بار اٹھتا رہا کہ دنیا کے طاقتور ترین انٹیلی جنس نظام کے باوجود ایسا واقعہ کیسے پیش آ گیا۔
آج جب ایک بار پھر امریکی صدر پر حملے کی خبر سامنے آتی ہے تو عالمی حلقوں میں یہ سوال پھر زندہ ہو جاتا ہے کہ آخر وہ ادارے کہاں تھے جو دنیا کے دوسرے ممالک کے بارے میں رپورٹس تیار کرتے ہیں اور جن کی بنیاد پر کئی ممالک کے خلاف پالیسیاں اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔
اسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک پرانی تمثیلی کہانی بہت کچھ سمجھا دیتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ایک بہت بڑا تاجر تھا جس کے پاس بے شمار دولت اور طاقت تھی۔ اس کے گھر کے گرد اونچی دیواریں تھیں اور دروازوں پر مسلح محافظ کھڑے رہتے تھے۔ وہ اکثر اپنے ہمسایوں کو یہ نصیحت کرتا رہتا تھا کہ حفاظت کیسے کی جاتی ہے اور دشمنوں سے کیسے بچا جاتا ہے۔
ایک رات اس کے گھر میں چوری ہو گئی۔صبح جب اسے اس کا علم ہوا تو وہ غصے سے پاگل ہو گیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ محافظ بھی موجود تھے، دروازے بھی بند تھے اور دیواریں بھی سلامت تھیں۔ مگر پھر بھی خزانے میں ہاتھ پڑ چکا تھا۔اصل چور کو تلاش کرنے کے بجائے اس نے اپنے سامنے والے ہمسائے پر شک کر لیا۔ اس ہمسائے کا گھر خوبصورت بھی تھا اور خوشحال بھی۔ شاید یہی خوشحالی اس تاجر کو اندر ہی اندر کھٹکتی تھی۔
غصے میں اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ اس گھر پر حملہ کر دیا جائے۔چنانچہ اس کے آدمیوں نے گھر پر دھاوا بول دیا۔ گھر کے افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ کئی دنوں تک اس گھر کی تلاشی لی جاتی رہی۔ دیواریں توڑ دی گئیں، کمرے اکھاڑ دیے گئے اور پورا گھر تباہ کر دیا گیا۔ مگر آخر میں کچھ بھی نہ ملا۔چوری کا کوئی ثبوت نہیں، کوئی مجرم نہیں۔مگر وہ تاجر پھر بھی مطمئن تھا، کیونکہ اس نے اپنے شک کی بنیاد پر ایک خوبصورت گھر کو برباد کر دیا تھا — وہ گھر جس کی خوشحالی اسے پہلے دن سے ناگوار تھی۔
یہ کہانی دراصل عالمی سیاست کی ایک علامت ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کہیں اور ہوتا ہے مگر ردعمل کہیں اور دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے آج جب عالمی سیکیورٹی کے دعووں پر سوال اٹھتے ہیں تو دنیا مختلف مثالوں کو دیکھ کر موازنہ کرنے لگتی ہے۔اسی تناظر میں Pakistan کی مثال بھی سامنے آتی ہے۔
پاکستان نے نہ صرف عالمی سطح کے سیکیورٹی پروگرام اور امن کانفرنسیں منعقد کیں بلکہ ایسے مواقع بھی آئے جب دنیا کی اہم قیادت کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی اور وہ مکمل اعتماد کے ساتھ یہاں آئے اور محفوظ واپس بھی گئے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
جب ایک ایسا ملک جسے کبھی عالمی سطح پر سیکیورٹی خطرہ قرار دیا جاتا تھا، وہ دنیا کے اہم سربراہان کو اپنے ملک میں مدعو بھی کرے اور مکمل حفاظت کے ساتھ واپس بھی بھیجے تو یہ کس چیز کا ثبوت ہے؟
یہ دراصل پاکستان کے سیکیورٹی نظام، اس کی عسکری قیادت اور اس کے انٹیلی جنس اداروں پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔یہی وجہ ہے کہ خطے کے حساس حالات کے باوجود Iran جیسے ملک کی قیادت نے بھی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت پر اعتماد کیا۔ وہ قیادت جو اکثر اپنی سلامتی کے پیش نظر انتہائی محدود اور خفیہ انداز میں سفر کرتی ہے، وہ پاکستان آئی اور مکمل تحفظ کے ساتھ واپس بھی گئی۔
یہ اعتماد صرف سفارتی تعلقات کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام کی مضبوطی کا عملی ثبوت ہے۔
پاکستان کی عسکری قیادت، جس کی نمائندگی Syed Asim Munir جیسے رہنما کرتے ہیں، صرف طاقت کی علامت نہیں بلکہ امن کے پیغام کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ دراصل یہ سوچ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کی سوچ کی ترجمانی ہے — ایک ایسی قوم کی جو جنگ اور دہشت گردی کے نقصانات کو قریب سے دیکھ چکی ہے اور جانتی ہے کہ اصل طاقت جنگ نہیں بلکہ امن قائم رکھنے میں ہے۔
پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کی خاموش مگر مضبوط گرفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا نیٹ ورک مکمل طور پر فعال ہے۔ وہ اپنی کارکردگی کا شور نہیں مچاتے مگر ان کے نتائج خود ان کی صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔دنیا کی تاریخ ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے۔
طاقت کے دعوے وقتی ہو سکتے ہیں، مگر اعتماد اور امن وہ بنیادیں ہیں جن پر حقیقی عالمی سلامتی قائم ہوتی ہے۔اور شاید آج دنیا کو اسی سبق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔



