لاہور: (بیوروچیف )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 9 مئی جلائو گھیرائو کے 8 کیسوں میں عمران خان کی ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔
دوران سماعت یہ پہلو بھی زیر سماعت آیا کہ پولی گرافک ٹیسٹ سے پہلےبانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے آٹھ مقدمات میں درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا جاسکتا ہے یا نہیں ، پراسکیوٹر نے ملزم کے پولی گرافک اور فوٹو گرامیٹک سمیت وائس میچنگ ٹیسٹ کروانے سے متعلق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہاکہ اب ٹرائل کورٹ کا فیصلہ آچکا، ضمانت کی موجودہ درخواستیں غیر موثر ہوچکی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس فاروق حیدر نے صنم جاوید کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری سماعت کےلیے منظور کرلی اورایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نےکوٹ لکھپت جیل میں تھانہ شادمان نذر آتش اور عسکری ٹاور حملہ کیس کی سماعت 2 جون جبکہ جناح ہائوس سمیت 2 مقدمات کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی۔
عالیہ حمزہ، خدیجہ شاہ،ڈاکٹر یاسمین راشد ، عمر سرفراز چیمہ، صنم جاوید٫ طیبہ راجہ، روبینہ جمیل و دیگران نے حاضری مکمل کروائی، پراسیکیوشن کے ایک گواہ نے پی ٹی آئی کارکنان اور رہنماؤں کیخلاف شہادت ریکارڈ کرائی،عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کو شہادت کیلئے طلب کرلیا۔



