گلگت بلتستان انتخابات:تیر چل گیا،ن لیگ پیچھے ؟غیر حتمی نتائج کا سلسلہ جاری

ہنزہ:(ویب ڈیسک)گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) آگے ہے۔
اب تک کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 3 حلقوں میں میدان مار لیا، آزاد امیدواروں نے 2 نشستیں جیت لیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور مجلس وحدت المسلمین ایک ایک نشست پر کامیاب قرار پائے۔
مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج
جی بی اے 3 گلگت-3:
جی بی اے 3 گلگت-3 کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا ہے جس کے مطابق آزاد امیدوار سید سہیل عباس 7877 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7360 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 4 نگر:
جی بی اے 4 نگر کے تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا، جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7670 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6566 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 7 اسکردو-1:
اسی طرح جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4500 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 4056 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 8 اسکردو 2:
جی بی اے 8 اسکردو-2 کے تمام 70 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا ہے جس کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10 ہزار 474 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔ اس نشست پر پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10 ہزار 118 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 9 اسکردو-3:
جی بی اے 9 اسکردو 3 کے تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے، جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔
جی بی اے 22 گھانچے-1:
جی بی اے 22 گھانچے 1 کے بھی تمام 58 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا، جس کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9308 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8052 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 24 گھانچے-3:
جی بی اے 24 گھانچے 3 کے بھی تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا، جس کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
دیگر حلقوں کے ووٹوں کی گنتی جاری
جی بی اے 1 گلگت-1:
جی بی اے 1 گلگت 1 کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 80 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 پولنگ اسٹیشنز پر پیپلز پارٹی کے امجد حسین 873 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ مسلم ليگ ن کے محمد شفیق الدین 473 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 2 گلگت-2:
جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم ليگ ن کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر جبکہ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 5 نگر-2:
جی بی اے 5 نگر-2 میں 32 میں سے 10 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 743 ووٹ لیکر آگے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 560 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔
جی بی اے 6 ہنزہ:
جی بی اے 6 ہنزہ میں 88 میں سے 77 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 5612 ووٹوں کے ساتھ پہلے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 4540 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 10 اسکردو-4 :
جی بی اے 10 اسکردو-4 میں 51 میں سے 9 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مشتاق حسین 1059 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 947 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔
جی بی اے 11 کھرمنگ:
جی بی اے 11 کھرمنگ میں 51 میں سے 9 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 1174 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار شجاعت حسین 758 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 12 شگر:
جی بی اے 12 شگر میں 71 میں سے 66 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 11663 ووٹ لے کر پہلے اسلامی تحریک پاکستان کے راجا محمد اعظم خان 7667 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 13 استور-1 :
جی بی اے 13 استور-1 کے 57 میں سے 36 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 14 استور-2:
جی بی اے 14 استور-2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 35 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا ہے، جس کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے رانا محمد فاروق 4300 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3865 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
جی بی اے 15 دیامر-1:
جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا، جس کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1274 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام کے ولی الحمان 805 ووٹ لیکر دوسرے نمبر ہیں۔
جی بی اے 16 دیامر 2:
جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا ہے جس کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللّٰہ 678 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے عطا اللّٰہ 565 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 17 دیامر-3 :
جی بی اے 17 دیامر-3 کے 46 میں سے 6 پولنگ اسٹیشنز پر غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 1306 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ آزاد امیدوار عبدالکریم 803 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔
جی بی اے 18 دیامر-4 :
جی بی اے 18 دیامر-4 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 25 کے غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے کفایت الرحمان 3631 ووٹ لیکر پہلے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 3298 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 19 غذر-1:
جی بی اے 19 غذر-1 کے 78 پولنگ اسٹیشنز میں سے 24 کے غیر سرکاری غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ (ن) کے ظفر محمد 2556 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 2413 دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 20 غذر-2:
جی بی اے 20 غذر-2 کے 69 میں سے 25 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 2827 ووٹوں کے ساتھ آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 2713 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 21 غذر-3:
جی بی اے 21 غذر-3 کے 60 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا ہے جس کے مطابق آزاد امیدوار امان علی 4127 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ مسلم ليگ (ن) کے غلام محمد 2928 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 23 گھانچے-2:
جی بی اے 23 گھانچے-2 کے 50 میں سے 6 پولنگ اسٹیشنز پر غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 1328 ووٹ لیکر آگے اور آزاد امیدوار عبد الحمید 254 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔
403 امیدوار میدان میں
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے گئے۔ الیکشن میں مجموعی طور پر 403 امیدواروں نے حصہ لیا۔
انتخابات میں 396 مرد اور 8 خواتین امیدوار نے حصہ لیا، پولنگ صبح 8 سے شام 5 بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہی۔



