انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

ایک نہ کی سزا موت؟

ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ایک عورت کی پوری زندگی صرف دو لفظوں کے درمیان گزر جاتی ہے۔ ایک "ہاں” اور ایک "نہ”۔ ہاں وہ بچپن سے سنتی آتی ہے۔ ہاں باپ کی مرضی کے لیے، ہاں بھائی کے فیصلوں کے لیے، ہاں شوہر کی خواہشات کے لیے، ہاں خاندان کی عزت کے لیے۔ مگر جب وہ زندگی میں کبھی ایک مرتبہ "نہ” کہہ دے تو گویا زمین و آسمان ایک ہو جاتے ہیں۔

کراچی میں پیش آنے والا ایک واقعہ کئی دنوں سے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ اٹھاون سالہ عورت۔ چالیس برس کا ازدواجی سفر۔ ایک گھر، ایک خاندان، ایک پوری عمر۔ پھر ایک دن اس کی زندگی ختم کر دی گئی۔ ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے۔ یہ کوئی نئی نویلی دلہن نہیں تھی۔ کوئی فلمی کہانی نہیں تھی۔ یہ ایک ایسی عورت تھی جس نے اپنی جوانی، اپنی توانائی، اپنے خواب اور اپنی زندگی کا بہترین حصہ ایک رشتے کے نام کر دیا تھا۔

عجیب بات یہ ہے کہ مقتولہ کے لیے افسوس سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ اس نے انکار کیوں کیا۔

ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں۔

یہاں مقتول سے پہلے اس کا کردار مارا جاتا ہے۔

یہاں ظلم سے پہلے مظلوم کا احتساب ہوتا ہے۔

یہاں قاتل کے لیے وجوہات تلاش کی جاتی ہیں اور مقتول کے لیے الزام۔

سوشل میڈیا پر تبصرے پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ایک عورت کی جان نہیں گئی بلکہ کسی نے ایک ناقابلِ معافی جرم کر دیا ہو۔ کوئی کہتا ہے شوہر کی ضرورت تھی۔ کوئی کہتا ہے بیوی کو انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کوئی کہتا ہے عورتیں مردوں کو دوسری شادی نہیں کرنے دیتیں۔

مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ایک انسان کی جان لینے کا اختیار کس نے دیا؟

ہمارے ہاں عورت کو اکثر انسان کم اور ذمہ داری زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ بیٹی ہے تو خاندان کی عزت۔ بیوی ہے تو شوہر کی خدمت۔ ماں ہے تو بچوں کی قربانی۔ مگر وہ ایک انسان بھی ہے، اس کی اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی حدود بھی ہیں، اس کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔

ایک عورت جب شادی کرتی ہے تو صرف گھر نہیں بساتی، وہ اپنی پوری زندگی اس گھر میں منتقل کر دیتی ہے۔ اس کے خواب، اس کی خواہشیں، اس کی جوانی، اس کی صحت، سب آہستہ آہستہ اسی گھر کی دیواروں میں جذب ہو جاتے ہیں۔ پھر بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی پرورش ہوتی ہے۔ راتوں کی نیند قربان ہوتی ہے۔ بیماری میں بھی گھر چلتا رہتا ہے۔

عمر گزرتی رہتی ہے۔

پھر ایک وقت آتا ہے جب جسم پہلے جیسا نہیں رہتا۔

چالیس، پینتالیس اور پچاس سال کی عمر کے بعد عورت ایک ایسے مرحلے سے گزرتی ہے جسے ہم سنِ یاس یا مینوپاز کہتے ہیں۔ یہ صرف ایک طبی تبدیلی نہیں بلکہ ایک پورا طوفان ہے جو جسم اور ذہن دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نیند کم ہو جاتی ہے، تھکن بڑھ جاتی ہے، ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں، مزاج بدلنے لگتا ہے۔

مگر ہمارے معاشرے میں اس تکلیف کو بیماری نہیں، بہانہ سمجھا جاتا ہے۔

عورت اگر خاموش رہے تو مغرور۔

بولے تو بدتمیز۔

انکار کرے تو نافرمان۔

اور اگر احتجاج کرے تو باغی۔

ہم نے عورت کے لیے ہر نام ایجاد کر لیا ہے سوائے انسان کے۔

یہ بھی سچ ہے کہ ہر مرد ظالم نہیں ہوتا۔ اس ملک میں ہزاروں ایسے شوہر موجود ہیں جو اپنی بیویوں کو عزت دیتے ہیں۔ بیماری میں ان کا ہاتھ تھامتے ہیں۔ ان کی کمزوری کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ایسے مرد بھی ہیں جو اپنی شریکِ حیات کے بغیر اپنی زندگی کا تصور نہیں کر سکتے۔ جن کے لیے محبت صرف جوانی کا نام نہیں بلکہ بڑھاپے تک ساتھ نبھانے کا عہد ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ اچھے لوگوں کی مثالیں کم اور برے رویوں کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔

ہم نے بیٹیوں کو برداشت سکھائی۔

خاموشی سکھائی۔

قربانی سکھائی۔

مگر بیٹوں کو احساس کم سکھایا۔

انہیں بتایا گیا کہ وہ گھر کے سربراہ ہیں مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ سربراہی کا مطلب خدمت بھی ہوتا ہے۔

انہیں اختیار دیا گیا مگر ذمہ داری کا سبق ادھورا رہ گیا۔

گھر میں باپ اگر ماں کی عزت کرے تو بیٹا عورت کی عزت سیکھتا ہے۔

اگر ماں کی تذلیل ہو تو بیٹا یہی سمجھتا ہے کہ عورت سے ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔

معاشرے کی بڑی بڑی تبدیلیاں دراصل گھروں کے چھوٹے چھوٹے کمروں سے شروع ہوتی ہیں۔

ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی عورتیں تشدد برداشت کرتے کرتے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ شروع میں انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ مرد کا غصہ وقتی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے بچے بڑے ہو جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر کہا جاتا ہے اب اتنی عمر میں کہاں جاؤ گی۔

یوں ایک پوری زندگی انتظار میں گزر جاتی ہے۔

مگر ظلم کا مزاج عجیب ہوتا ہے۔

وہ وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتا، بڑھتا ہے۔

ایک بار اٹھنے والا ہاتھ اکثر دوبارہ بھی اٹھتا ہے۔

ایک بار دی جانے والی گالی اکثر معمول بن جاتی ہے۔

اور ایک بار چھینی جانے والی عزت بار بار چھینی جاتی ہے۔

گھریلو تشدد کبھی معمولی نہیں ہوتا۔

کیونکہ بعض اوقات اس کا انجام قبرستان کے ایک خاموش کونے پر ہوتا ہے۔

کراچی کی اس عورت کی کہانی صرف ایک عورت کی کہانی نہیں۔ یہ ان ہزاروں عورتوں کی کہانی ہے جو خاموش ہیں۔ جو زندہ ہیں مگر خوف میں زندہ ہیں۔ جو گھر میں موجود ہیں مگر ان کی اپنی کوئی جگہ نہیں۔

شاید سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے محبت کے رشتے کو طاقت کے رشتے میں بدل دیا ہے۔

شادی دو انسانوں کا ساتھ ہے، مالک اور غلام کا تعلق نہیں۔

عزت مانگی نہیں جاتی، دی جاتی ہے۔

وفاداری خریدی نہیں جاتی، کمائی جاتی ہے۔

اور محبت کبھی خوف کے سائے میں پروان نہیں چڑھتی۔

ایک معاشرہ اس وقت مہذب بنتا ہے جب وہ اپنے کمزور لوگوں کو تحفظ دیتا ہے۔ جب وہ عورت کی آواز سنتا ہے۔ جب وہ ایک انسان کی جان کو ہر بحث، ہر دلیل اور ہر روایت سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہے۔

ورنہ پھر خبریں بدلتی رہتی ہیں، نام بدلتے رہتے ہیں، شہر بدلتے رہتے ہیں، مگر کہانیاں وہی رہتی ہیں۔

کسی اخبار کے ایک کونے میں چھپی ایک خبر۔ ایک عورت۔ ایک گھر۔ ایک خاموش چیخ۔ اور ایک "نہ” جس کی قیمت زندگی سے ادا کی گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button