اردو ادب میں سفرنامہ نگاری کی روایت نہایت قدیم ہے۔ ابتدائی ادوار میں سفرنامے محض جغرافیائی و مشاہداتی روداد ہوا کرتے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان میں فکری اور تہذیبی و ثقافتی عناصر شامل ہوتے گئے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، محمد حسین آزاد اور ابن انشاء جیسے سفرنامہ نگاروں نے اردو سفرنامے کو ایک ادبی صنف کا درجہ دیا، جس میں تفکر، طنز، مزاح اور معاشرتی مشاہدات کی آمیزش نے اسے مزید جاندار بنا دیا۔ عصرِ حاضر میں دیگر قلمکاروں نے سفرنامے کو ایک نئی جہت دی ہے، جس میں ذاتی تجربات، بین الاقوامی ثقافتوں سے ٹکراؤ اور دعوتِ دین جیسے موضوعات بھی شامل ہو گئے ہیں۔ مصنف سفر نامہ کا آغاز اس انداز سے کرتے ہیں کہ "ایک بار میں پاکستان سے برطانیہ کا سفر کر رہا تھا۔ ہمارا اسٹاپ اوور دبئی میں تھا۔ کچھ مسافروں کو تبدیل کیا گیا، اور پھر ہماری فلائٹ کو بھی ایک بڑے جہاز میں منتقل کر دیا گیا۔ عام طور پر میں ہمیشہ آگے کی سیٹ کی درخواست کرتا ہوں، لیکن اس بار میں نے کچھ نہیں کہا، یہ سوچ کر کہ آٹھ گھنٹے کی فلائٹ ہے، گزار ہی لوں گا۔ جب میں جہاز میں سوار ہوا تو میری سیٹ آئسَل (Aisle) پر تھی، بیچ کی سیٹ پر ایک سفید فام برطانوی لڑکی (عام زبان میں گوری) بیٹھی تھیں، اور کھڑکی کے ساتھ ایک انکل بیٹھے تھے۔ جیسے ہی میں اپنی سیٹ پر پہنچا، میں نے اس خاتون سے کہا کہ اگر آپ دو مردوں کے درمیان بیچ کی سیٹ پر غیر آرام دہ محسوس کر رہی ہیں تو آپ میری آئسَل سیٹ لے لیں، میں بیچ میں بیٹھ جاتا ہوں۔ تاکہ اگر آپ کو واش روم جانا ہو یا کچھ اور، تو آپ کو مجھ پر چڑھ کر نہیں جانا پڑے گا”۔
محمد آفاق خان کا سفرنامہ "کیک کے بدلے جنت” اسی جدید روایت کا نمائندہ سفرنامہ ہے، جو نہ صرف ایک بین الاقوامی سفر کی روداد ہے، بلکہ ایک فکری مکالمے اور روحانی بیداری کا بیانیہ بھی ہے۔ محمد آفاق خان لکھتے ہیں "انکل نے مجھے بہت گور کر دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا مجھ سے گوری کو دور کیوں کردیا، میں نے احترام میں انکل کو کہا کہ آپ چاہیں تو میں کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتا ہوں، انکل نے کہا نہیں میں سگریٹ اور سیٹ نہیں بدلتا، میں بھی خاموش ہوگیا۔۔پھر سفر شروع ہوا۔ جب کھانا سرو ہوا تو مجھے ایئرلائن کا کھانا زیادہ پسند نہیں آیا، میں صرف تھوڑا سا کھایا اور سوچا کہ چلو چائے آئے گی تو کیک کے ساتھ پیوں گا۔ پھر اس خاتون نے میری طرف دیکھا اور بولی: "آپ مزید نہیں کھا رہے؟” میں نے کہا: "نہیں، میں کھانا کم کھاتا ہوں اگر آپ کو کیک کھانے کا دل ہے تو لے لیں، میں نے ابھی تک اسے چھوا بھی نہیں۔” میں نے ایک نظر اُس کی ٹرے پر ڈالی تو دیکھا کہ اُس نے تو سارا کھانا صاف کر دیا تھا”۔
"کیک کے بدلے جنت” ایک بظاہر سادہ، مگر حقیقت میں نہایت گہرا اور معنویت سے بھرپور سفرنامہ ہے۔ یہ صرف دبئی سے لندن کی آٹھ گھنٹے کی پرواز کا بیان ہی نہیں بلکہ مصنف کی شخصیت، اس کی اقدار، اس کے ایمان اور ایک عالمی تناظر میں مسلم تشخص کی پرزور نمائندگی کا عکاس بھی ہے۔ ایک چھوٹے سے عملِ خیر (یعنی کیک گفٹ کرنے) سے شروع ہونے والا یہ بیانیہ آخرکار ایک غیرمسلم خاتون کے اسلام قبول کرنے اور دینی سکون حاصل کرنے پر منتج ہوتا ہے۔ مصنف رقمطراز ہیں "وہ فوراً بولی: "اوہ ہاں، شکریہ، اگر آپ دے رہے ہیں تو میں ضرور لوں گی۔” اور اُس نے کیک لے لیا۔ اس وقت دل میں ایک لمحے کو آیا کہ "میں نے کیک کیوں دے دیا!” خاموش ہوجاتا اچھا تتا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اس ایک کیک کے بدلے میں مجھے جو ملنے والا ہے، وہ کسی تصور سے بھی باہر ہے۔ (یاد رہے برطانیہ میں خواتین بات کرتے ہوئے نہیں شرماتی لیکن اگر آپ سے بات کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ بد کردار ہے)”۔
مصنف کا انداز تبلیغی ہے، مگر نہ تو مذہبی شدت کا حامل ہے اور نہ ہی تصنع سے بھرا ہوا۔ گفتگو کا آغاز محض ایک نشست کی تبدیلی سے ہوتا ہے، جو نہایت شائستگی سے عورت کے آرام کا خیال رکھنے کے جذبے سے پھوٹتی ہے۔ پھر ایک کیک کے تحفے سے گفتگو کا دروازہ کھلتا ہے، اور بات اسلام کے بنیادی اصولوں تک جا پہنچتی ہے۔ اس اندازِ دعوت میں نرمی، احترام اور سلیقہ نمایاں ہے، جو ایک حقیقی داعی کی پہچان ہے۔ مصنف مزید لکھتے ہیں "بس، اسی بات سے بات چیت کا آغاز ہو گیا۔ اُس نے بتایا کہ وہ دبئی اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے گئی تھی، اور یہ اُس کا تیسرا بوائے فرینڈ تھا۔ میں حیران ہوا، تو کہنے لگی کہ کوئی بھی وفادار نہیں نکلا، سب کے اور تعلقات بھی ہوتے تھے۔ میں نے اُس سے کہا: "آپ شادی کیوں نہیں کر لیتیں؟ شادی میں ایک ذمہ داری، ایک وفاداری ہوتی ہے۔” وہ کہنے لگی: "ہمارے کلچر میں پہلے بوائے فرینڈ، پھر منگنی، پھر شادی ہوتی ہے۔” میں نے کہا: "ہمارے دین اور کلچر میں بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم سیدھا منگنی کرتے ہیں، پھر نکاح ہوتا ہے۔” وہ کہنے لگی: "اوہ، یہ تو دلچسپ ہے۔” پھر اُس نے مجھ سے مزید سوالات کیے کہ شادی کیسے ہوتی ہے، اسلام میں اس کے کیا اصول ہیں”۔
سفرنامے میں مشرق اور مغرب کے تہذیبی و ثقافتی فرق کو ایک مکالماتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مغربی معاشرت میں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے رشتے کو عام اور معمولی سمجھا جاتا ہے، جبکہ مصنف اپنے مذہب اور مشرقی اقدار کی روشنی میں اس روایت کو چیلنج کرتا ہے، لیکن بغیر کسی تنقید یا تضحیک کے۔ یہ مکالمہ قاری کو نہ صرف سوچنے اور غور و فکر پر مجبور کرتا ہے بلکہ اسے بین الثقافتی فہم کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ محمد آفاق خان لکھتے ہیں "میں نے اُسے بتایا کہ اسلام میں مرد پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی اور گھر والوں کا خرچ اٹھائے، ان کا کفیل بنے۔ پھر میں نے اُسے بتایا کہ اسلام دل کا سکون دیتا ہے۔ میں نے کہا: "برطانیہ میں بہت سی خواتین ہمارے پاس آتی ہیں، اسلام قبول کرتی ہیں، پھر شادی کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کی زندگی بدل گئی ہے۔” وہ کہنے لگی: "مجھے مزید جاننا ہے۔” تو میں نے اُسے ایک ایپ کا نام دیا جس میں قرآن مجید کے ساتھ انگریزی ترجمہ بھی تھا۔ ساتھ ہی کچھ انگریزی زبان کے اسلامی اسکالرز کے نام بھی بتائے۔ وقت گزرتا گیا، جب ہم لینڈ کرنے والے تھے تو میں نے سوچا ایک چھکا مار لیتا ہوں اور مذاق میں کہا: "کیا تم نے کبھی اسلام قبول کرنے کے بارے میں سوچا؟ اسلام کے بارے میں پڑھو، اور اگر کوئی سوال ہو تو مجھے انسٹاگرام پر میسج کرنا۔” ہم دونوں نے ایک دوسرے کو انسٹاگرام پر ایڈ کر لیا، اس نے فالو کرلیا، لیکن میرے پاس نیٹ نہیں تھا تو کہا آپ کو گھر جاکر فالو بیک کرلونگا”۔
محمد آفاق خان کا طرز تحریر نہایت سادہ، رواں اور موھودہ دور کے قاری کے لیے قابلِ فہم ہے۔ وہ انسٹاگرام، ایپس، ڈی ایمز، اور فالو ان فالو کی زبان میں دعوتِ دین کی بات کرتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو دین کی اشاعت کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں "میں نے اسے فالو کیا اور کچھ دن بعد ان فالو کردیا کیونکہ میرے فالوورز سب اس کو فالو کرنے لگ گئے تھے۔۔ پھر سالوں تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ میں نے نہ کبھی اُسے میسج کیا، نہ اُس نے مجھے۔ کچھ دن پہلے میں نے انسٹاگرام کے ڈی ایمز چیک کیے، جو میں عام طور پر نہیں کرتا، تو ایک وائس نوٹ آیا ہوا تھا۔ وہ ایک لمبا میسج تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے اسلام قبول کر لیا ہے، اور ایک ایسے شخص سے شادی کی ہے جو ماشاءاللّٰہ عالمِ دین ہے۔ اُس نے کہا کہ اُس کی زندگی بالکل بدل چکی ہے، اب کوئی ڈپریشن نہیں، سکون ہی سکون ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ کس طرح سب کچھ اللہ کے منصوبے کے تحت تھا۔ میری سیٹ کا اُس جگہ ہونا، اُس سے ملاقات، ایک چھوٹے سے کیک کا دینا، بات چیت، دعوت دینا — سب کچھ طے شدہ تھا”
سفرنامہ بیانیہ انداز میں لکھا گیا ہے۔ مکالمے کی برجستگی، واقعات کی طبعی ترتیب اور غیر متوقع انجام، ان سب نے تحریر کو بامقصد اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ مصنف طنز و مزاح سے اجتناب کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ اپنی بات پہنچاتا ہے، لیکن پھر بھی قاری کو بور نہیں ہونے دیتا۔ مصنف سفر نامے کا اختتام اس انداز سے کرتے ہیں "اس سفر نے مجھے سکھایا کہ کبھی بھی شرم محسوس نہ کرو دین کی بات کرنے میں، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہاری ایک چھوٹی سی بات، یا ایک معمولی سا عمل، کسی کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ اور تمہیں بدلے میں وہ چیز مل سکتی ہے جو دنیا کی کسی چیز سے بڑھ کر ہو”۔
یہ سفرنامہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان کا ہر عمل، ہر ملاقات، ہر نشست اللہ کی جانب سے ایک مقصد کے تحت ہوتی ہے۔ ایک معمولی کیک کا تحفہ، جو بظاہر ایک وقتی فیاضی ہے، ایک انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں کسی نیکی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، اور دین کی دعوت میں کبھی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
"کیک کے بدلے جنت” ایک جدید، فکری، اور دعوتی سفرنامہ ہے، جو اردو ادب میں ایک منفرد اضافہ ہے۔ یہ سفرنامہ ہمیں نہ صرف مختلف ثقافتوں سے آشنا کرتا ہے بلکہ ہمیں ہمارے دینی فریضے کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔ محمد آفاق خان نے ایک عام سے سفر کو غیرمعمولی معنویت دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر مسلمان ایک داعی ہے، چاہے وہ کسی بھی پیشے یا ملک میں ہو۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے



