پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ٹرانسپورٹر کے پولیس پرکرپشن کے الزامات،ڈی آئی جی نے کچا چٹھا کھول دیا

پولیس اہلکاروں کیش کائونٹر میں داخل ،کام روک دیا:بجاش نیازی،نیازی بس سروس جعلی شناختی کارڈ پر مسافروں کی انٹری کرتے پکڑی گئی:ایس ایچ او،قانونی کارروائی جاری ہے:ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) لاہور میں ٹرانسپورٹر نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈویڈیوز میں شیراکوٹ کے ایس ایچ اوسمیت پولیس حکام پر سنگین الزامات عائد کردیئے جس پر نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنزنے سارا کچا چٹھا کھول دیا۔

ٹرانسپورٹر بجاش نیازی نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار کیش کائونٹر میں گھس آئے اور ملازمین کو باہر نکال دیا ،کام بھی روک دیا ۔

بکنگ کرائی گئی ٹکٹوں کاعکس

پولیس کے مطابق اشتہاری و مفروران کو پکڑنے میں روکاوٹ بننے والا ٹرانسپورٹر گرفت میں آگیا ہے ، نیازی بس سروس جعلی شناختی کارڈز پر مسافروں کی انٹری کرتے پکڑی گئی۔

8 جعلی شناختی کارڈوں پر پوری بس کے مسافروں کی انٹری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، پولیس کی بروقت کارروائی سے تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ قانونی کاروائی جاری ہے ۔

ایس ایچ اوشیراکوٹ رفیع خان نے سی این این اردوکوموقف میں بتایا کہ اشتہاری و مفروروں کی گرفتاری کے حوالے سے ٹریول آئی سافٹ وئیر استعمال ہوتا ہے جس کی خلاف ورزی جاری تھی جبکہ ایک ہی شناختی کارڈ پر 8تا10افراد کی بکنگ کی جارہی تھی اور جعلی انٹریاں کی جارہی تھیں ،مفروروں اور اشتہاریوں کی جانب سے سفری سہولیات ملنے کی اطلاعات پر کارروائی کی گئی ہے۔

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ نیازی بس سروس پر ٹریول آئی سافٹ وئیر میں جعلی انٹریاں کی جا رہی تھیں، اشتہاری و مفروران عید کے دنوں میں آبائی گھروں کو سفر کرتے ہیں،ٹریول آئی سافٹ وئیر کی مدد سے اشتہاریوں، مفروران کو پکڑا جاتا ہے،دیگر صوبوں کے بیشتر افراد نیازی بس سروس کا استعمال کرتے ہیں۔

ماضی میں متعدد اشتہاری و افغان شہری بس سروس اڈوں سے سفر کی کوشش میں پکڑے گئے،جرم پکڑے جانے پر بس سروس مالک و معروف ٹک ٹاکر نے پولیس کو ہراساں کرنے کی کوشش کی،جرم چھپانے کے لیے پولیس کو زبردستی روکنے کی کوشش اور الزام تراشی کی گئی۔

ٹک ٹاکر کی طرف پولیس پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، سواریوں کی شناخت چھپانے سے اشتہاری یا دہشت گرد کو سہولت کاری مل سکتی ہے۔

ذرا سا لالچ یا لاپرواہی کسی بڑی سانحہ کا سبب بن سکتی ہے،مجرموں کو جیل میں رکھنا، اپنے لوگوں کی حفاظت لاہور پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button