لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)سروسزہسپتال میں قائم کینٹین اور اورنج فارمیسی پر ٹھیکہ ختم ہونے کے باوجو قومی وسائل کی دھڑلے سے لوٹ مارجاری ہے جبکہ حکام تاریخی سکینڈل پر خاموش ہیں۔

سروسز ہسپتال لاہورمیں کینٹین کا ٹھیکہ کئی ماہ قبل ختم ہوچکا ہے جبکہ بجلی ،پانی سمیت دیگر سرکاری وسائل کابے دریغ استعمال جاری ہے جس پر کوئی پوچھنے والا نہیں،ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام بھی اس حوالے سے کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث ہیں جنہوں نے کینٹین والوں کو اپنے ’’چائے پانی ‘‘ کے چکر میں کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔

2024میں کینٹین کا ٹھیکہ ختم ہوجانے کے باوجود دوبارہ دسمبر 2024تک توسیع دی گئی مگر اس کے باوجود نہ تو کوئی نیا ٹینڈر جاری ہوانہ ہی نیا ٹھیکہ دیا گیا ہے ۔
کینٹین کا ٹھیکہ بھی مبینہ طور پر غلط ناموں کے اندراج سے جاری کرایا گیا جو ناصر اینڈ یاسر کے نام سے نہیں بلکہ کسی اور نام سے ٹھیکہ حاصل کرنے کا انکشاف ہواہے۔اعلیٰ حکام کی سرپرستی کی وجہ سے کینٹین پر دھڑلے سے اوورچارجنگ جاری ہے جبکہ ناقص اشیا کی بھی فروخت جاری ہے جس پر کوئی پوچھنے والا نہیں ذرائع کے مطابق بعض ڈاکٹربھی کینٹین والوں کی سرپرستی کررہے ہیں جس کا سارا خمیازہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو بھگتنا پڑ رہا ہے ،سابق ایم ایس منیر ملک کے دور سابق میں پیڈا زدہ اے ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر نیاز نے غیر قانونی طور پر جگہ کینٹین کیلئے جگہ فراہم کی تھی۔

دریں اثناسروسز ہسپتال میں قائم اورنج فارمیسی جو 2016میں قائم کی گئی تھی وہ بھی کئی سال سے بغیرکسی ادائیگی اور قواعد وضوابط کےتحت چل رہی ہے ،اورنج فارمیسی والوں نے جعلسازی سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے جو سابق ایم ایس ڈاکٹر عبدالمدبر کی وجہ سے سامنے آیا تھا لیکن آج تک کسی نے فارمیسی خالی کرانے کی جرات تک نہیں کی،اورنج فارمیسی پر ادویات سستی دینے کی بجائے مہنگی فروخت کی جارہی ہیں جبکہ بجلی کا بھی بے دریغ استعمال جاری ہے ۔
کینٹین اور فارمیسی مافیا کی لوٹ مارکے سامنے سب بے بس نظر آتے ہیں،شہریوں نے وزیراعلیٰ مریم نوازوزیر صحت اور دیگرحکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وسائل کی لوٹ ماراور غبن کا نوٹس لے کر انکوائری کرائی جائے ،ملوث افراد کو فوری اور کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے۔
موجودہ ایم ایس ڈاکٹر عابد غوری جو 2024سے تعینات ہیں ان کی طرف سے مبینہ طورپرکوئی ایکشن نہیں لیا گیا نہ ہی کوئی انکوائری یا آڈٹ کرایا گیا ہے ، سی این این اردوکے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ فارمیسی مالکان کی جانب سے حکم امتناعی کے خاتمہ کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔



