پنجاب کے ضلع قصور میں محکمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) اور ایک بااثر رکن صوبائی اسمبلی کے درمیان اس وقت تنازع پیدا ہوا جب ایم پی اے نے ایک قتل کیس میں دو افراد کو چالان کرنے کا غیر رسمی حکم دیا۔ ضلعی سربراہ سی سی ڈی کی جانب سے انکار پر معاملہ تلخ کلامی تک پہنچا جس کے بعد ڈی پی او قصور عیسیٰ خان سکھیرا نے مداخلت کرتے ہوئے تنازع کو وقتی طور پر ٹھنڈا کیا۔ذرائع کے مطابق شیخم پولیس اسٹیشن کے ماتحت ایک اندھے قتل کیس میں مقتول کی بیوہ اور اس کے آشنا کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا۔ تاہم، مقتول کے بھائی کی خواہش پر ملزم کے بھائیوں کو بھی شامل تفتیش کیا گیا، لیکن جرم ثابت نہ ہونے کے باوجود ایم پی اے ان افراد کے خلاف چالان پر بضد ہیں ۔
اہم شخصیت کے نا ئی کی کار چوری اور پولیس کی فوری کارروائی
ملک کی ایک اہم سیاسی شخصیت کے نائی کی کار چوری ہونے پر وزیر اعظم ہاؤس سے لاہور پولیس کو ہدایات جاری کی گئیں، جس پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اینٹی کار لفٹنگ اسٹاف کے اہلکاروں نے 16 ماڈل کی ایک کرولا گاڑی سپرداری پر دے دی۔ تاہم، ہئیر ڈریسر(نائی) کی جانب سے زیرو میٹر گاڑی کی ضد کے بعد متعلقہ اہلکاروں نے ایک بوگس سپرداری کے ذریعے نئی گاڑی فراہم کر دی۔ سی سی ڈی کے موجودہ سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کی تحقیقات میں یہ فراڈ سامنے آیا جس پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کر کے گاڑی واپس لے لی گئی۔
اعلیٰ افسران کو دی گئی گاڑیاں واپس، مہنگی مرمت کی مخالفت
سی سی ڈی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مختلف محکموں کے افسران کو اے وی ایل ایس کی جانب سے غیر قانونی طور پر بیش قیمت لگژری گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ ایک خاتون پولیس افسر نے مرسڈیز گاڑی کو خوب انجوائے کیاجوگاڑی خراب ہونے پر دس لاکھ روپے کی مرمت کابل سن کر گاڑی واپس بھجوا دی اور نئی گاڑی کا تقاضا کیا، تاہم سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کے حکم کا سن کر خاموشی اختیار کر لی ۔اسی طرح پولیساور دیگر محکموں کے اعلی افسران سے بھی بیش قیمت لگژری گاڑیاں واپس منگوا لی گئیں
کراچی میں زیادتی کے ملزمان کا پولیس مقابلہ، جائیداد کی بوگس منتقلی کا انکشاف
کراچی میں ایک دوشیزہ سے زیادتی میں ملوث تین ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔ سی سی ڈی اور کراچی پولیس کی مشترکہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمان کی جائیدادیں اور ویڈیوز کے بدلے رشوت وصول کی گئی۔ کراچی پولیس کے ایک انسپکٹر پر الزام ہے کہ اس نے ملزمان سے ان کا فلیٹ اپنے نام کروا لیا، جبکہ سب انسپکٹر نے ویڈیو کی بنیاد پر 70 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ چونکہ ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے، اس لیے وہ ان کی جائیداد یا املاک واپس نہیں لینا چاہتے۔ تاہم، سی سی ڈی کی جانب سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ضبط شدہ جائیداد متاثرہ افراد کو دی جائے گی۔لاہور میں جعلی پولیس مقابلے اور ایک نڈر افسر کی شہاد ت ماضی میں سبزہ زار، لاہور میں پانچ افراد کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے کیس میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پولیس افسران پر ماورائے عدالت قتل کا الزام لگا۔ اس کے بعد ایک اور واقعے میں، مذہبی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے انسپکٹر کرامت بھٹی نے معذرت کی تو ڈی ایس پی طارق کمبوہ کو یہ ٹاسک سونپا گیا۔طارق کمبوہ نے آپریشنز میں بھرپور حصہ لیا، لیکن نئے افسران کی تعیناتی کے بعد ان کی سکیورٹی واپس لے لی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے فوری انشورنس کروا لی اور کچھ ہی روز بعد ایک حملے میں شہید ہو گئے۔ محکمے کے اندر یہ سوال اب بھی زیرِ بحث ہے کہ کیا وہ ریاستی تحفظ کے بغیر چھوڑ دیے گئے تھے۔
کیا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سیاسی دباؤ کے آگے ڈٹ سکے گا؟سی سی ڈی کی حالیہ کارکردگی اور اس پر سیاسی اثر و رسوخ کا دباؤ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ پولیسنگ اور احتساب کے نظام میں اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ اعلیٰ افسران کی جانب سے اصلاحات کی کوششیں اور شفاف کارروائیاں ایک جانب، لیکن سیاسی شخصیات کی مداخلت اور ماتحت اہلکاروں کی بدعنوانیاں اس تاثر کو زائل کر رہی ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا سی سی ڈی ان آزمائشوں میں اپنے ادارہ جاتی وقار اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔



