پناہ گزین کیمپوں، خیموں پر بمباری، مزید 111فلسطینی شہید، مزاحمت کاروں کی کارروائی، 5اسرائیلی فوجی ہلاک ، 14زخمی
مالٹا کا بھی فلسطین کو بطور ریاست مشروط تسلیم کرنے کا اعلان، امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو اسلحہ فروخت روکنے کی قراردادیں مسترد
غزہ، ویلیٹا، واشنگٹن (ویب ڈیسک) غزہ کے پناہ گزین کیمپوں اور خیموں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے مزید درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے معصوم فلسطینیوں پر اپنی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں مزید111فلسطینی شہید ہوگئے۔ دوسری جانب شمالی غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے کارروائی کرتے ہوئے 5اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر دیا جبکہ 14اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے جس کی اسرائیلی فوج کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے۔
ادھر برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے بعد یورپی یونین میں شامل ایک اور ملک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔ مالٹا کے وزیراعظم رابرٹ ابیلا نے بھی ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست مشروط تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینیٹ میں غزہ میں شہری ہلاکتوں کے ردِ عمل میں اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت روکنے کے لیے پیش کی گئی 2قراردادیں مسترد ہو گئیں، برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق قراردادیں ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے آزاد رکن اور ڈیموکریٹس کے حامی تصور کیے جانے والے سینیٹر برنی سینڈرز نے پیش کی تھیں، 100رکنی ایوان میں یہ قراردادیں بالترتیب 73کے مقابلے میں 24اور 70کے مقابلے میں 27ووٹوں سے مسترد کی گئیں۔ادھر آسٹریلیا کے وزیر خزانہ جم چالمرز نے بھی کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اب محض کچھ وقت کی بات ہے۔
آسٹریلوی وزیر خزانہ نے ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی لیکن یہ بہت جلد ممکن ہے۔ جم چالمرز نے مزید کہا کہ تاہم حماس کے یرغمالیوں کے ساتھ سلوک اور مستقبل کی فلسطینی ریاست میں حماس کے ممکنہ کردار جیسے مسائل آسٹریلیا کے لیے سنجیدہ رکاوٹیں ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے عہدیداروں اور ارکان پر پابندیاں لگا دی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ نے امن عمل کو نقصان پہنچانے پر پی اے کے عہدیداروں اور پی ایل او کے ارکان پر پابندیاں لگائی ہیں، پابندی کے شکار افراد امریکہ کا سفر کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو کہ دہشتگردی کی حمایت کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امن عمل کو نقصان پہنچانے والوں کو جوابدہ کرنا اور ان پر پابندیاں لگانا ہمارے قومی مفاد میں ہے۔



