انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبصحتکالم

پاکستان کا انوکھا نظام صحت

عقیل انجم اعوان

تصور کیجیے ایک ایسا ملک جہاں ہر پچاس منٹ بعد ایک عورت محض اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے کہ وہ حمل یا زچگی کے دوران پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی افسانوی منظرنامہ نہیں بلکہ پاکستان کی موجودہ حقیقت ہے جسے اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے آبادی (UNFPA) اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بیان کر چکا ہے۔ اگر اس خوفناک حقیقت کو اس امر کے ساتھ جوڑ دیا جائے کہ ملک اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا محض ایک فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم کسی معمولی مسئلے سے دوچار نہیں بلکہ قومی سطح کی ایک ہنگامی صورتِ حال کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ بحران نہ صرف عوامی صحت کو تباہ کرتا ہے بلکہ معیشت کی بقا اور سماجی ڈھانچے کے استحکام کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

پاکستان کا نظامِ صحت اپنی ساخت اور ترجیحات کے اعتبار سے دنیا کے دوسرے ممالک کے برعکس اور الٹ چلتا ہے۔ دنیا بھر میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ نرسوں، پیرامیڈکس اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز پر استوار ہوتا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو عوام کو بنیادی علاج، حفاظتی تدابیر اور ابتدائی نگہداشت فراہم کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس پورے طبقے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہاں نظام زیادہ تر اسپتالوں اور ڈاکٹروں کے گرد گھومتا ہے، نتیجہ یہ کہ نرسوں اور معاون عملے کی کمی روز بروز شدت اختیار کر رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ڈاکٹروں کی تعداد نرسوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے جو عالمی معیار کے بالکل برعکس ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ڈاکٹر کے مقابلے میں کم از کم تین نرسیں ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں معاملہ الٹا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کو اس وقت دس لاکھ سے زیادہ نرسوں اور معاون طبی عملے کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی اور احتیاطی علاج ممکن ہو سکے۔

اس سنگین کمی کا براہ راست نتیجہ ہلاکت خیز صورت میں نکلتا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی دیہی یا نیم شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہے لیکن ان خطوں میں معیاری علاج تک رسائی تقریباً ناممکن ہے۔ جہاں سہولت موجود ہے وہ زیادہ تر مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں کی شکل میں ہے جو عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ہنگامی صورت حال میں محض اسپتال تک پہنچنے کا خرچ ہی مجموعی علاج کے بائیس فیصد کے برابر ہو سکتا ہے جو اکثر کسی غریب خاندان کے مالی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ یہ صورتحال محض صحت کے شعبے کی ناکامی نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی ناانصافی ہے جو معاشرتی بے چینی اور ریاست سے عوامی اعتماد کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس بگاڑ کی کئی وجوہات ہیں لیکن بنیادی طور پر تین بڑے عوامل نمایاں ہیں۔

پہلا اور سب سے اہم عنصر مستقل مالی غفلت ہے۔ پاکستان کا صحت کا بجٹ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ بھارت اپنی جی ڈی پی کا تقریباً تین فیصد، سری لنکا چار فیصد اور بنگلہ دیش ڈھائی فیصد صحت پر خرچ کرتے ہیں جب کہ پاکستان بمشکل ایک فیصد مختص کرتا ہے۔ اس کم سرمائے کے نتیجے میں اسپتالوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں۔ تربیت کے ادارے فرسودہ نصاب پڑھا رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر فرنٹ لائن طبی عملہ یعنی نرسیں، پیرامیڈکس اور لیڈی ہیلتھ ورکرز شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ انہیں نہ مناسب معاوضہ ملتا ہے نہ عزت و احترام اور نہ ہی پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سا اہل عملہ بیرونِ ملک نقل مکانی کر لیتا ہے جس سے اندرونِ ملک بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

دوسرا عنصر نظام کا غیر متوازن ڈھانچہ ہے۔ صحت کے پورے ڈھانچے کو بڑے اسپتالوں کے گرد گھما دیا گیا ہے۔ ایک تیسرے درجے کا اسپتال پچاس ملین ڈالر سے زیادہ لاگت لیتا ہے اور سیاست دانوں کے لیے یہ ادارے محض فوٹو سیشن اور افتتاحی تقریبات کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ان اسپتالوں میں جدید مشینری تو موجود ہوتی ہے لیکن بنیادی علاج تک رسائی نایاب ہے۔ اس کے برعکس وہ بنیادی مراکزِ صحت اور دیہی ڈسپنسریاں جو کم خرچ اور فوری علاج کی سہولت فراہم کر سکتی ہیں مسلسل نظر انداز کی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ شہری علاقوں میں چند بڑے اسپتال ضرورت سے زیادہ بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور دیہی عوام کے لیے صحت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔

تیسرا اور نہایت خطرناک عنصر طبی عملے کا ذہنی اور جسمانی استحصال ہے۔ نرسیں، پیرامیڈکس اور کمیونٹی ورکرز ناقص تربیت اور وسائل کی کمی کے باعث اپنی اصل ذمہ داریوں کے بجائے دوسرے کئی کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر نرسوں کا کام کرتے ہیں نرسیں پیرامیڈکس کے فرائض سنبھالتی ہیں اور پیرامیڈکس صفائی اور دیگر غیر طبی کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ اس غیر فطری تقسیم کے نتیجے میں ہر سطح پر تھکن، بے چینی اور معیارِ خدمات میں شدید کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ نظام ہر فرد سے زیادہ سے زیادہ کام تو لیتا ہے لیکن کسی کو اس کی صلاحیت کے مطابق مقام نہیں دیتا۔

اگرچہ تصویر مایوس کن ہے لیکن امید کی کرن اب بھی باقی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم جراتمندانہ فیصلے اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ ماہرین کے مطابق اس بحران سے نکلنے کے لیے تین بڑے حکمتِ عملی پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔

پاکستان کے مستقبل کا انحصار زیادہ ڈاکٹروں یا بڑے اسپتالوں کی تعمیر پر نہیں بلکہ تربیت یافتہ نرسوں، پیرا میڈکس اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز پر ہے۔ ہمیں فوری طور پر ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ پروگرامز متعارف کرانے ہوں گے جو جدید نصاب اور عملی تربیت پر مبنی ہوں۔ ان پروگرامز کا آغاز محروم اور دیہی علاقوں میں ہونا چاہیے تاکہ مقامی نوجوان براہِ راست کمیونٹی کی خدمت کر سکیں۔ جدید سیمولیشن لیبز، ای-لرننگ پلیٹ فارمز اور تربیتی معیار کے آزادانہ آڈٹ کے ذریعے معیار کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل ہیلتھ اگر درست سمت میں بروئے کار لائے جائیں تو صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیص، موبائل ہیلتھ مانیٹرنگ اور آن لائن مشاورت کے ذریعے ماہرین کی خدمات دیہی علاقوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے بنیادی ڈھانچہ ضروری ہے جیسے ملک گیر انٹرنیٹ رسائی، محفوظ ڈیجیٹل ریکارڈز اور صارف دوست پلیٹ فارم۔ مزید یہ کہ ہزاروں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مختصر ڈیجیٹل کورسز کے ذریعے اپ اسکل کر کے انہیں صحت کی نگرانی اور ڈیٹا فراہم کرنے کا فعال ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

اگر عملہ بہتر مواقع نہ ملنے کے باعث بیرونِ ملک چلا جائے تو تربیت کا سارا سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نرسوں اور پیرا میڈکس کو مناسب تنخواہیں، محفوظ روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے واضح راستے فراہم کیے جائیں۔ خواتین کی اکثریت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں خصوصی پالیسیوں کی ضرورت ہے، جیسے اسکالرشپس، ڈے کیئر سہولتیں، ٹرانسپورٹ کے انتظامات اور محفوظ ماحول۔ یہ اقدامات نہ صرف ان کی کارکردگی میں اضافہ کریں گے بلکہ عزتِ نفس اور استقامت کو بھی یقینی بنائیں گے۔

صحت کی عدم دستیابی غربت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب کوئی مزدور بیماری کے باعث علاج نہیں کرا پاتا تو وہ کام کرنے سے محروم ہو جاتا ہے نتیجہ یہ کہ پورا خاندان غربت کے دائرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ مزید برآں جب عوام دیکھتے ہیں کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی علاج پوری نہیں کر پا رہی تو ریاست پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جو معاشرتی انتشار اور بے چینی کو جنم دیتا ہے۔

یہ بات محض نظریہ نہیں بلکہ تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ صحت پر ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری چار گنا معاشی فائدہ دیتی ہے۔ ایک صحت مند آبادی ایک متحرک معیشت اور مستحکم معاشرت کی بنیاد ہے۔ امریکہ، یورپ اور یہاں تک کہ افریقہ کے بعض ممالک نے صحت پر سرمایہ کاری بڑھا کر اپنے معاشی حالات میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ پاکستان بھی اسی ماڈل سے سبق لے سکتا ہے۔

پاکستان میں صحت کے شعبے میں خلا اس قدر وسیع ہے کہ صرف حکومت اسے پُر نہیں کر سکتی۔ فلاحی ادارے، نجی شعبہ، جامعات، صنعتیں اور تربیتی مراکز اس خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کئی غیر سرکاری تنظیمیں پہلے ہی دیہی علاقوں میں بنیادی علاج فراہم کر رہی ہیں لیکن یہ کوششیں قومی سطح کے اشتراک کے بغیر محدود رہ جاتی ہیں۔ اگر حکومت انہیں پالیسی سطح پر شامل کرے اور شفاف نظام وضع کرے تو یہ ماڈل پورے ملک میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک بھی نہایت ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت، یونیسف اور دیگر ڈونر ایجنسیاں پاکستان کو مالی، تکنیکی اور تربیتی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور انتظامی طریقوں کو اپنانے سے ہم کئی دہائیوں کا فاصلہ قلیل مدت میں طے کر سکتے ہیں۔

ہمیں ایک بار پھر آغاز کی طرف لوٹنا چاہیے۔ ہر پچاس منٹ بعد ایک خاتون ایسی بیماری سے مر جاتی ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ یہ کوئی خشک اعداد و شمار نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ناقابلِ معافی الزام ہے۔ اگر ہم نے اپنے فرنٹ لائن طبی عملے کو نظر انداز کیا تو ہم مزید عدم مساوات، معاشرتی بدامنی اور معاشی زوال کی طرف بڑھتے جائیں گے۔ لیکن اگر ہم جراتمندانہ فیصلے کر کے بنیادی صحت پر سرمایہ کاری کریں، نرسوں اور پیرامیڈکس کو بااختیار بنائیں اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لائیں تو ایک صحت مند، خوشحال اور مستحکم پاکستان ممکن ہے۔

پاکستان اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کتنا دور اندیش اور سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ صحت کوئی عیاشی نہیں بلکہ زندہ رہنے کی بنیادی ضرورت ہے، اور جو قوم اس ضرورت کو نظر انداز کرے وہ ترقی اور استحکام کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہتی ہے۔ اگر آج ہم نے یہ کڑا فیصلہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button