پاک، سعودی سرمایہ کاری، تجارت مزید مستحکم کرینگے : وزیراعظم کا عزم
سعودیہ اور پاکستان جارح کے مقابل ایک ہی صف میں، ہمیشہ اور ابد تک، سعودی وزیر دفاع: معاہدہ طویل المدتی تعاون کا عکاس، کسی مخصوص واقعے کا ردِعمل نہیں، اعلیٰ عہدیدار
اسلام آباد، کراچی، ریاض، لندن، پیرس ( ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب مکمل کرکے لندن پہنچ گئے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم دورہ سعودی عرب مکمل کر کے ریاض سے لندن روانہ ہوئے، ریاض کے نائب گورنر عزت محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم کو الوداع کیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔
وزیراعظم دورہ برطانیہ کے بعد امریکہ جائیں گے، جہاں وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے ریاض پہنچنے پر شاندار استقبال پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ دل سے متاثر ہیں اور یہ استقبال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ محبت اور باہمی احترام کا مظہر ہے، ان کی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے نہایت خوشگوار اور مفید گفتگو ہوئی، جس میں علاقائی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور نئی بلندیوں کو چھوئے، ان شا اللہ!۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، سعودی سرمایہ کاری اور تجارت کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ پیرس سے جہان پاکستان کے نمائندہ زاہد مصطفیٰ اعوان کے مطابق وزیراعظم برطانیہ کے چار روزہ دورے پر لندن کے لوٹن ایئرپورٹ پر پہنچے۔ وزیر اعظم دورہ کے دوران مختلف وفود سے ملاقاتیں کرینگی۔ وزیراعظم آج لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وفد میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، عطا تارڑ اور طارق فاطمی شامل ہیں۔ وزیراعظم جنیوا میں چند گھنٹے قیام کے بعد لندن پہنچے۔ وزیر اعظم نے سربراہ مسلم لیگ ن نواز شریف کی جنیوا میں عیادت کی، وزیر اعظم نے نواز شریف کو اپنے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے بھی آگاہ کیا، نواز شریف آئندہ چند روز میں لندن پہنچیں گے۔دوسری جانب سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودیہ اور پاکستان، جارح کے مقابل ایک ہی صف میں، ہمیشہ اور ابد تک۔
سعودی وزیر دفاع نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی دفاعی معاہدے کی خبر اردو زبان میں بھی پوسٹ کی۔ جبکہ ایک سینئر سعودی اہلکار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کے وقت سے متعلق سوال پر کہا ہے کہ یہ معاہدہ کئی برسوں کی بات چیت کا نتیجہ ہے، یہ کسی خاص ملک یا کسی مخصوص واقعے کے ردِعمل میں نہیں بلکہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کا عمل ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے دفاعی معاہدہ کو جامع دفاعی معاہدہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ تمام فوجی وسائل کا احاطہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو خطے کے لیے نئی جہت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ بھارت سمیت پورے خطے پر اثر ڈال سکتا ہے۔ جبکہ دفاعی معاہدے پر امریکی تجزیہ مائیکل کوگلمین نے کہا کہ چین، ترکیہ اور اب سعودی عرب کی مکمل حمایت کے ساتھ پاکستان کی پوزیشن بہت مضبوط ہوگئی ہے۔ مزید برآں مسلم لیگ ن کے سینیٹر و وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وسائل ہوں سعودی عرب کے اور طاقت پاکستان کی ہو تو دنیا میں کس میں جرات ہے ہمارے مقابلے کی۔ یقینا اس میں متحدہ عرب امارات اور دوسرے ممالک بھی شامل ہوں گے ، یہ شروعات ہے۔
جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2برادر ملک دشمن کے سامنے صف آرا اور شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے سوشل میڈیا ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ رب العزت کے سائے میں مشترکہ دشمن کے مقابل ان شا اللہ ساری امت متحد ہوگی۔ پاکستان زندہ باد، مسلم امہ پائندہ باد۔ مزید برآں جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سٹریٹیجک دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب دونوں ممالک کو آگے بڑھ کر اپنی صلاحیت کے مطابق اسلامی دنیا کی قیادت کرنی چاہیے۔ سندھ امن مارچ کے اختتام پر کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی صرف پاکستان کی نہیں امت کی، فلسطین، بیت المقدس کی آزادی اور قربانی دینے والوں کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج فلسطین پر قبضے کی بات ہورہی ہے مگر میں نے ایک ہفتے قبل پنڈی کے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اسلامی دنیا کے درمیان ایک بلاک ہونا چاہیے، یہ جے یو آئی کا منشور ہے۔
جب تک مسلمان ممالک ایک دوسرے کے خلاف رہیں گے دنیا غلام بنائے گی۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دوحہ اور قطر میں عرب اسلامی اتحاد کانفرنس اسلامی دنیا کے اتحاد اچھا آغاز ہے، لوگوں نے اس کانفرنس سے بہت توقعات وابستہ کیں تھیں مگر ہمیں دوحہ اجلاس سے کوئی بڑی توقعات نہیں تھیں، مگر یہ اسلامی بلاک کی طرف ایک قدم تھا، اس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ اسلامی دنیا کی مشترکہ دفاعی قوت ضروری ہے، سعودی عرب کے بادشاہ نے ہمارے وزیراعظم کو بلاکر دو طرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے ہر مرحلے پر یہی بات کی کہ فلسطین، کشمیر، برما یا مسلمانوں کے حق کا سوال پیدا ہو تو سعودی عرب اور پاکستان دونوں اسلامی دنیا کی قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں، دونوں ممالک اپنی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی دنیا کی قیادت کریں۔



