انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیصحتکالم

سروائیکل کینسر سے بچائو کی ویکسی نیشن مہم اور غلط فہمیاں

افشاں چوہدری

لاہور:(تحریروتحقیق/افشاں چوہدری)سروائیکل کینسر خواتین میں پایا جانے والا دنیا بھر میں چوتھا سب سے عام کینسر ہے ۔جبکہ پاکستان میں یہ خواتین میں تیسرا سب سے عام پایا جانے والا کینسر ہے۔ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ 15 سے 44 سال کی عمر کی خواتین میں یہ دوسرا سب سے اہم کینسر ہے۔ اس خطرناک ترین ، مہلک اور اس قدر عام بیماری کا قلع قمع کرنے کے لیے حکومت پنجاب نے 15 سے 27 ستمبر 2025 تک ایچ پی وی ویکسی نیشن مہم کا آغاز کیا ہے۔جس کے مطابق صوبہ بھر میں آٹھ لاکھ سے زائد بچیوں کو ویکسی نیشن لگائی جائے گی ۔لیکن بدقسمتی سے اس ویکسی نیشن مہم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔اور بہت سے کم علم اور کم عقل طبقات شعور کی کمی کے باعث منفی پروپیگنڈہ کی زد میں آ کر اس مہم کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔

cervical cancer vaccine
Written and researched by Afshan chauhdry

 

 

بہت سے یوٹیوبرز ٹک ٹاکرز اور ولاگرز چند پیسوں کی خاطر اپنے ویوز بڑھانے کے لیے پنجاب حکومت کے اس احسن اقدام کو تنقید اور بے جا بحث کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔جس کا اثر قوم کی بیٹیوں کے مستقبل پر نہایت بھیانک انداز میں پڑے گا۔ عوام الناس کی اکثریت سروائیکل کینسر جیسی مہلک بیماری سے لاعلم ہے۔چونکہ سروائیکل کینسر ایک خاموش بیماری ہے ابتدا میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جس کے باعث عوام کو اس بیماری کے لاحق ہونے کی وجہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے متعلق آگاہی نہیں ہےاور آگاہی شعور کی پہلی منزل ہے۔

شعور حاصل ہو جانے کے بعد ہی عمل کی منزل شروع ہوتی ہے ۔لیکن بدقسمتی سے آگاہی اور شعور کی کمی قوم کی بیٹیوں کی صحت کی راہ میں ایک بھیانک رکاوٹ ہے۔ لہذا سروائیکل کینسر کے متعلق عوام الناس میں آ گاہی کی ضرورت ہے۔ سروائیکل یوٹرس کا نچلا اختتامی تنگ حصہ ہے ۔جس میں اگر سیلز کی غیر معمولی بڑھوتری شروع ہو جائے تو یہ سروائیکل کینسر میں بدل جاتا ہے جو کہ بڑھتا ہوا جسم کے دوسرے اعضاء تک بھی جا سکتا ہے۔

ابتدا میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتی لیکن بیماری ہو جانے کے بعد وجائنل بلیڈنگ ،نچلے حصے میں درد اور جنسی تعلقات کے درمیان شدید درد وغیرہ شامل ہیں۔ دراصل سروائیکل کینسر ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے ۔جو عام طور پر سیکشول انٹرکورس یعنی جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کا نام ہیومن پیپیلوما وائرس ہے۔

ابتدائی سطح پر اگر بروقت تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج ممکن ہے جس میں سرجری، کیموتھیراپی، ریڈییشن تھیراپی یا امیونو تھیراپی وغیرہ کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ، طویل اور مہنگا طریقہ علاج ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں خواتین میں پایا جانے والا تیسرا یہ سب سے عام کینسر ہے۔ لیکن عوام کو اس کا ادراک نہیں۔کیونکہ عام طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین کی مخصوص بیماریوں سے متعلق بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔لڑکیوں اور خواتین کی مخصوص بیماریاں اس لیے بھی طوالت پکڑ کر شدید بگڑ جاتی ہیں اور لاعلاج مرحلے پر پہنچ جاتی ہیں کہ بروقت ان کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔

ایسی بیماریوں کو سٹگمیٹائز کر دیا جاتا ہے۔ لہذا معاشرے میں بیماری سے متعلق آگہی اور شعور بے حد ضروری ہے۔ تاکہ ریاست دشمن عناصر کسی بھی صورت میں پروپگینڈا کر کے قوم کی بیٹی کی صحت کو نشانہ نہ بنا سکیں ۔اور شعور سے عاری معصوم عوام ان کے آلہ کار بن کر اس منفی پروپیگنڈے کی زد میں نہ آئیں ۔

ایچ پی وی ویکسین عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی دنیا بھر میں سروائیکل کینسر کے خاتمے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔اس سے حکمت عملی کا توثیق سال 2018 میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے کی تھی ۔عالمی سطح پر یہ کینسر کم آمدنی والے ممالک میں زیادہ پایا جاتا ہے ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں آمدنی کم، شعبہ صحت کا زیادہ ڈویلپ نہ ہونا، خواتین کی ہیلتھ سکریننگ کا فقدان اور غیر معیاری علاج و معالجہ کی سہولیات کے ساتھ ساتھ جنسی صحت کی زبوں حالی اور جنسی صحت سے متعلق آگاہی کا نہ ہونا بھی ہےلہذا ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کی جڑیں زیادہ مضبوط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر دو منٹ میں ایک خاتون اس کینسر کی بدولت لقمہ اجل بن جاتی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کے مطابق عالمی حکمت عملی کے اہداف یہ ہیں کہ اس دہائی کے اختتام تک 90 فیصد خواتین ویکسی نیشن لگوائیں، 70 فیصد خواتین کی سکریننگ ہو، متاثرہ خواتین میں 90 فیصد علاج کروائیں جو کہ خواتین کی صحت کے حوالے سے احسن اقدام ہے۔
دنیا بھر میں 144 ممالک میں معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات میں یہ ویکسین متعارف کروائی جا چکی ہے ۔جس میں سعودی عرب، قطر ،متحدہ عرب امارات ،ملائشیا، انڈونیشیا ،سمیت دنیا کے متعدد مسلم ممالک شامل ہیں۔

آسٹریلیا وہ پہلا ملک ہے جس نے اپنی بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایچ پی وی ویکسین 2007 میں لگانا شروع کی ۔اگر یہ ویکسین بانجھ پن کا شکار کرتی ہے تو آسٹریلیا جیسا ترقی یافتہ ملک ایسا رسک کبھی نہ لیتا ۔

پاکستان میں حکومتی سطح پر اس ویکسین کو متعارف کروانا عوامی صحت کی بہتری کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ ویکسین 10 سے 15 سال پہلے نجی سطح پر دستیاب تھی قیمت بہت زیادہ تھی۔ اس لیے صرف امیر لوگ ہی اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگواتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں اس ویکسین کی قیمت تقریبا 307 ڈالر ہے ۔جو کہ پنجاب بھر میں تقریبا آٹھ لاکھ سے زائد بچیوں کو بالکل مفت لگائی جا رہی ہے ۔یہ ویکسین صرف ایک انجیکشن کی صورت میں زندگی میں ایک مرتبہ ہی لگائی جاتی ہے ۔اور تقریبا ڈیڑھ سو سے قریب ممالک میں یہ ویکسین اب دستیاب ہے ۔یہ محفوظ ویکسین ہے اور تحقیق کے تمام مراحل کے بعد عالمی سطح پر یہ منظور شدہ ہے۔

اس کے متعلق ہونے والے منفی پروپیگنڈے میں ریاست مخالف اور عورت دشمن عناصر سرگرم عمل ہیں ۔یہ یاد دہانی کی بات ہے کہ اس وقت پوری دنیا پولیو جیسے مہلک مرض سے چھٹکارا حاصل کر چکی ہے ۔لیکن بدقسمتی کے باعث انہی ریاست مخالف پروپیگنڈا عناصر نے ابھی تک پاکستان کو پولیو فری سٹیٹس حاصل نہیں کرنے دیا ۔

دنیا میں صرف دو ہی ممالک افغانستان اور پاکستان میں پولیو موجود ہے ،کیونکہ انہی دونوں ممالک میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ۔90 کی دہائی میں جب پولیو کی ویکسی نیشن کی جاتی تھی ،تب بھی اسی قسم کا پروپیگنڈا کیا جاتا تھا۔کبھی مذہب کے نام پر، کبھی مغربی ممالک اور یہودی سازش کا نام دے کر اور کبھی حلال اور حرام کی تفریق میں الجھا کر اور کبھی یہ بھی کہا جاتا تھا کہ پولیو ویکسین لگوانے کے بعد آنے والی نسل بانجھ ہو جائے گی ۔ مرد نامرد ہو جائیں گے اور عورتیں بچے جننے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں گی۔اسی طرح کے منفی پروپیگنڈے کے باعث ابھی تک وطن عزیز کے معصوم بچے اس موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔

ٹھیک اسی طرح کرونا وائرس کی ویکسین کے متعلق بھی مختلف پروپیگنڈے کیے جاتے رہے ہیں کبھی ہارٹ اٹیک کے باعث ہونے والی اموات کو کوڈ ویکسی نیشن سے جوڑ دیا جاتا ہے تو کبھی مختلف امراض کی وجہ اس ویکسی نیشن کو جانا جاتا ہے۔کووڈ ویکسی نیشن لگوانے والوں کو تو یہ بھی کہا جاتا تھا کہ جن جن افراد نے کووڈویکسی نیشن لگوا لی ہے وہ بس اب دو سال تک ہی زندہ رہیں گے ۔

یہی عناصر اب ایچ پی وی ویکسی نیشن میں بھی رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر مختلف پلیٹ فارمز کو استعمال کر کے منفی اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔جب کہ حکومت نے اس ویکسی نیشن مہم پر کوئی زور زبردستی نہیں کی ،بلکہ اس مہم کو والدین کی مرضی سے مشروط کر دیا ہے ۔لیکن اس کے باوجود منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر سرگرم عمل ہیں۔ایسے ناصر یا تو ذاتی سطح پر سوشل میڈیا کو پیسہ کمانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور کوئی موثر اور قابل قدر مواد دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی خبر کو لے کر سنسنی خیزی اور خوف پھیلا کر پیسہ بناتے ہیں۔ جبکہ کچھ عناصر خالصتاً ریاست مخالف عناصر کے آلہ کار ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کوئی خاص چیک نہ ہونے کی وجہ سے اسے منفی پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کر کے شعور سے عاری ،کم علم اور کم عقل معصوم عوام کو ورغلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہاں پر عوام الناس کا فرض ہے کہ کسی بھی مہم کے متعلق حکومتی وسماجی نمائندوں سے مکمل معلومات حاصل کریں۔ ایسا پروپیگنڈا کرنے والے عناصر پر بالکل کان نہ دھریں ۔اور اپنی بچیوں اور ملک کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ کیونکہ صحت مند مائیں ہی صحت مند معاشرے کو جنم دیتی ہیں۔یاد رکھیں پاکستان میں 73 ملین خواتین میں سے کم از کم 20 ملین خواتین اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں ہر روز صرف پاکستان میں آٹھ خواتین سروائیکل کینسر کے باعث لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔ یعنی آٹھ گھر ماؤں کی روشنی اور ممتا سے محروم ہو جاتے ہیں ۔لہذا بچیوں کی صحت کی حفاظت پر بالکل بھی سمجھوتہ نہ کریں۔ اس مہم کو منفی پروپیگنڈا کی نظر مت ہونے دیں ۔

اور حکومت کو بھی چاہیے کہ ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھیں کسی بھی پلیٹ فارم پر اس قسم کے پروپیگنڈا کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور اس میں شامل عناصر کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ ملک کے مستقبل کو محفوظ کیا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button