پاکستانتازہ ترینصحتعلاقائی خبریں

سروائیکل کینسرسے بچائو،مصطفیٰ کمال نے اپنی صاحبزادی کو بھی ویکسین لگوادی

کراچی:(ہیلتھ رپورٹر)وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سروائیکل کینسر سے بچائو کیلئے کافی متحرک ہیں انہوں نے اپنی صاحبزادی کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگوا دی۔

کراچی میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ویکسین بڑی مشکل سے ہم نے حاصل کی ہے، لیکن لوگ اس پر فتویٰ لگا رہے ہیں جو افسوس کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا 191واں ملک ہے جہاں یہ ویکسین لگائی جا رہی ہے، انہوں نے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسینیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے اسلامی ممالک میں یہ ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس ویکسین کے حوالے سے بہت گمراہ کن افواہیں زیر گردش ہیں، میری یہ کوشش ہے کہ میرے ملک کی ہر بیٹی کو یہ ویکسین لگائی جائے، اگر کسی ایک کی بھی جان اس گمراہ کن افواہوں کی وجہ سے جاتی ہے تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کو لے کر آیا ہوں، یہ میری اکلوتی بیٹی ہے، اور اس سے میں نے بات کی ہے کہ وہ اس ویکسین کو لگوائے، میں رب کی رضا کے لیے کام کررہا ہوں، میری فیملی سے کوئی بھی کبھی کیمرے کے سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ان گمراہ کن افواہوں کو ختم کرنے کے لیے میری بیٹی سامنے آئی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میری کوئی بھی بیٹی خود کو اس ویکسین سے دور نہ رکھے، میں اپنی قوم کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں، پاکستان میں موجودہ نظام کے تحت ہر پاکستانی کا علاج نہیں ہوسکتا، ہمارا نظام یہ ہے کہ ایک ایک کرکے ہسپتالوں میں آتے رہتے ہیں اور وہیں رک جاتے ہیں، ہمیں بیماریوں سے بچنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچیوں کی ویکسینیشن کے بعد امید ہے خواتین 10 سال بعد سروائیکل کینسر کی وجہ سے جانیں نہیں گنوائیں گی، اس مہم کےآغاز سے ہی گمراہ کن پروپیگنڈا سامنے آرہا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی بیٹی کو یہ ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپنے 30 سالہ سیاسی کیریئر میں کبھی میں اپنی فیملی کو منظرِ عام پر نہیں لایا، لیکن آج قوم کی ہر بیٹی کی جان کو محفوظ بنانے کے لیے میں نے اپنی بیٹی کو یہ ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ 15 ستمبر کو اسلام آباد کے سرکاری اسکول میں بچی کو پہلی بار سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگا کر پاکستان میں ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کا باضابطہ آغاز کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا دن ملک کے صحت کے نظام میں ایک اہم سنگ میل ہے، مہم کے دوران 9 سے 14 سال کی ایک کروڑ 30 لاکھ بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پر سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین کے خلاف اچانک گمراہ کن معلومات سامنے آئی تھیں، جن میں ویڈیو شیئر کرکے پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ اسکول میں ویکسی نیشن کے بعد بچیوں کی طبیعت بگڑ گئی، تاہم وہ ویڈیو بھی جعلی نکلی تھی۔

سوشل میڈیا صارفین کے پروپیگنڈے کے بعد مین اسٹریم میڈیا پر بھی پروگرام کرکے لوگوں میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی، مختلف ٹی وی چینلز پر وفاقی وزیر صحت اور طبی ماہرین نے ایچ پی وی ویکسین کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے مؤثر قرار دیا تھا۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button