نئے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کے انتخاب کے بعد خیبر پختونخواہ کی سیاست میں ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔ آفریدی کی قیادت میں صوبے کی پالیسیوں میں تبدیلی کے امکانات سامنے آئے ہیں، خاص طور پر معدنی وسائل، داخلی امن اور افغان پالیسی کے حوالے سے۔وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی نے اپنے پہلے اسمبلی خطاب میں واضح کیا کہ فوجی آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، اور ان کی حکومت کسی بھی فوجی کارروائی کی اجازت صرف صوبائی سطح پر مناسب سمجھنے کے بعد دے گی۔ انہوں نے افغان پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مقامی سٹیک ہولڈرز اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ نئی صوبائی حکومت اپنی خودمختاری اور مقامی پالیسی سازی پر زیادہ زور دے رہی ہے۔آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری، خصوصاً امریکی کمپنیوں کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں کے پی کی معدنیات تک امریکی رسائی محدود ہو سکتی ہے، اور یہ وفاق اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ آفریدی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں کشیدگی کے آثار واضح ہیں۔ آفریدی کی خودمختارانہ پالیسی اور فیصلوں کے انداز نے بعض مقتدر حلقوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی کی حکومت داخلی امن کے لیے شدت پسند گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ یہ مصالحتی رویہ عسکری اداروں کی افغانستان میں جاری کارروائیوں کے ساتھ متوازی ہے، جس سے صوبہ اور وفاق کے درمیان سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے ہم آہنگی کے نئے چیلنج پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات اور عسکری کارروائی کے درمیان توازن برقرار نہ رہا، تو صوبے کی امن کی فضا اور ریاستی پالیسی دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔گذشتہ دنوں DG ISPR لیفٹیننٹ جنرل احمد شريف چوہدری نے واضح کیا کہ فوج سیاست سے دور ہے اور ریاست کی قیادت کے ماتحت کام کرتی ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر سابق آرمی چیف ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی طالبان سے مبینہ تعلقات کی ویڈیوز گردش کرنے لگیں، جس سے عوامی رائے متاثر ہو رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پروپیگنڈا کلیدی اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے اور سیاسی تقسیم کو ہوا دے سکتا ہےوزیر اعلیٰ آفریدی کی خودمختارانہ پالیسی صوبائی خوداعتمادی کی علامت ہے، لیکن وفاقی اور عسکری تعلقات میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔معدنیات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے سخت پالیسی امریکہ اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تعلقات پر اثر ڈال سکتی ہے۔
مذاکراتی رویہ اور عسکری کارروائی کے مابین توازن قائم نہ ہونے کی صورت میں صوبائی امن اور ریاستی پالیسی کے بنیادی ڈھانچے پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور پروپیگنڈا عوامی اعتماد کو متاثر کر کے سیاسی بحران کی شدت بڑھا سکتے ہیں خیبر پختونخواہ میں نئے سیاسی دھارے کی بنیاد رکھی گئی ہے، جس میں صوبائی خودمختاری، داخلی امن، اور معدنی وسائل کی پالیسی میں تبدیلی کے امکانات نمایاں ہیں۔ تاہم، وفاق، عسکری اداروں، اور میڈیا کے ساتھ تعلقات میں عدم ہم آہنگی کی صورت میں یہ صورتحال سیاسی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔



