بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی۔۔۔ آگے کنواں پیچھے کھائی!!

عقیل انجم اعوان

خیبرپختونخوا میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے اور اس لمحے سے صوبائی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ گنڈا پور کی رخصتی نے جو خلا چھوڑا تھا وہ اب بھر تو گیا ہے مگر اس کے ساتھ کئی نئے سوال بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سہیل آفریدی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی راہ اپنائیں گے یا مفاہمت کا راستہ اختیار کریں گے؟ اور اگر وہ ٹکرائو کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے سیاسی، انتظامی اور سلامتی کے نتائج کیا ہوں گے؟ یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ گنڈا پور کی حکومت مرکز کے ساتھ تنازعات میں الجھتی چلی گئی تھی۔ دہشت گردی کے واقعات، صوبائی فنڈز کی تقسیم، پولیس کی تعیناتیاں اور ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشنز ہر سطح پر مرکز اور صوبہ الگ الگ صفحوں پر نظر آ رہے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف کے اندر بھی اختلافات بڑھنے لگے۔
عمران خان جو کبھی گنڈا پور کے سب سے بڑے حمایتی تھے خود ان سے خفا ہونے لگے۔ جب پشاور کے جلسے میں عوام نے گنڈا پور کے خلاف نعرے لگائے تو یہ پیغام بہت واضح تھا کہ صوبائی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے۔ یہی لمحہ تھا جب تبدیلی کا فیصلہ پختہ ہوا۔ اب سہیل آفریدی کے سامنے ایک نیا مگر خطرناک راستہ ہے۔ وہ اگر مرکز اور اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کی پالیسی اپناتے ہیں تو ان کی حکومت کا مستقبل غیر یقینی ہو جائے گا۔ اگر وہ نرمی دکھاتے ہیں تو پارٹی کی اندر انہیں کمزور قیادت سمجھا جائے گا۔ گویا وہ ایک ایسی باریک لکیر پر کھڑے ہیں جس کے دونوں جانب سیاسی گڑھے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں عوامی سیاست ہمیشہ مرکز مخالف جذبات سے وابستہ رہی ہے۔ یہاں کے عوام خود مختاری، عزتِ نفس اور وفاقی طاقت کے سامنی جھکنے کو کمزوری سمجھتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے ماضی میں پیپلز پارٹی اور بعد ازاں تحریک انصاف کو یہاں عوامی مقبولیت دلائی۔ مگر اب وہی جذبہ تحریک انصاف کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ عمران خان جیل میں ہیں ان کے مقدمات برق رفتاری سے چل رہے ہیں اور ریلیف کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں صوبے کا وزیر اعلیٰ اگر مرکز سے تصادم کی راہ اختیار کرتا ہے تو اسے سیاسی تائید ضرور ملے گی مگر عملی مشکلات کئی گنا بڑھ جائیں گی۔
سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟۔ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس قانونی طور پر ایسے اختیارات نہیں جن سے وہ کسی قیدی کے مقدمے میں براہ راست مداخلت کر سکے۔ تاہم وہ سیاسی دبائو بڑھانے کے لیے کچھ اقدامات ضرور کر سکتے ہیں۔ مثلاً وہ اسمبلی سے قرارداد منظور کروا سکتے ہیں جس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے۔ وہ عوامی جلسوں اور احتجاجی تحریک کا آغاز کر سکتے ہیں۔ وہ میڈیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر یہ موقف اجاگر کر سکتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام ہیں۔ مگر ان تمام اقدامات کی حد تک سیاسی اہمیت ضرور ہوگی عملی اثر محدود رہی گا۔ اگر وہ ان اقدامات کو بڑھاتے ہوئے کسی ایسی تحریک کا آغاز کرتے ہیں جو ریاستی اداروں کو چیلنج کرے تو یہ عمل ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا رویہ گزشتہ چند برسوں میں بہت واضح ہو چکا ہے۔ جو بھی سیاسی قوت براہِ راست تصادم کا راستہ اپناتی ہے اسے دبانے کے لیے ہر سطح پر ریاستی طاقت استعمال کی جاتی ہے۔ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سہیل آفریدی کے لیے عبرت کا ایک تازہ باب ہے۔ اگر انہوں نے وہی راستہ اپنایا تو ممکن ہے کہ انہیں بھی گورنر راج، گرفتاریوں اور اسمبلی کی تحلیل جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے۔ خیبرپختونخوا میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرائو کے اثرات صرف سیاسی نہیں بلکہ سکیورٹی نوعیت کے بھی ہوں گے۔ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔
باجوڑ، مہمند اور دیر کے علاقوں میں حالیہ کارروائیوں نے واضح کر دیا ہے کہ شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور افغانستان کے ساتھ حالیہ تنازع۔ اگر صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان تعاون متاثر ہوا تو ان آپریشنز کی رفتار کم ہو جائے گی۔ اس سے نہ صرف فوج اور پولیس کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ عوامی اعتماد میں بھی کمی آئے گی۔ مزید یہ کہ ترقیاتی فنڈز اور وفاقی گرانٹس کا انحصار مرکز سے تعلقات پر ہوتا ہے۔ اگر مرکز ناراض ہوا تو مالی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ پہلے ہی صوبہ بجلی کے واجبات، پن بجلی منافع اور وفاقی ٹیکس شیئر کے معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ اگر ان فنڈز کی ترسیل رکی تو تنخواہیں، ترقیاتی منصوبے اور صحت و تعلیم کے شعبے شدید متاثر ہوں گے۔ عوامی دباؤ بڑھنے پر وہی لوگ جو آج سہیل آفریدی کے حامی ہیں کل ان کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مفاہمت کی پالیسی اپنانا سہیل آفریدی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کا بیانیہ مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست پر کھڑا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے پارٹی کی پوری قوت اسی موقف کے گرد منظم ہے۔ اگر وزیراعلیٰ مرکز سے تعاون کی بات کریں گے تو انہیں پارٹی کے اندر’’ کمزور کڑی‘‘ قرار دیا جائے گا۔ ممکن ہے کہ بعض حلقے انہیں ’’ مصنوعی وزیراعلیٰ‘‘ یا’’ مصالحاتی نمائندہ‘‘ کہہ کر ان کی سیاسی حیثیت کمزور کرنے لگیں۔ اسی لیے سہیل آفریدی کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک، وہ مکمل مزاحمت کا راستہ اپنائیں عمران خان کے بیانیے کے وفادار رہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کریں۔ دوسرا، وہ عملی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے درمیانی راستہ اختیار کریں یعنی بیان بازی میں مزاحمت رکھیں مگر انتظامی طور پر وفاق سے تعاون کرتے رہیں۔ پہلا راستہ انہیں وقتی مقبولیت دے سکتا ہے مگر ان کی حکومت کو خطرے میں ڈال دے گا۔
دوسرا راستہ سیاسی طور پر کمزور دکھائی دے گا مگر حکمرانی کو بچا سکتا ہے۔ اگر وہ پہلا راستہ اپناتے ہیں تو سب سے پہلے ان کی حکومت کی آئینی حیثیت چیلنج ہو سکتی ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے لیے پہلے ہی بیوروکریسی اور وفاقی وزراء میدان میں ہیں۔ اگر صوبہ کسی حساس معاملے میں وفاقی احکامات ماننے سے انکار کرے تو اسے آئینی بحران کہا جائے گا۔ ایسی صورت میں نہ صرف حکومت تحلیل کی جا سکتی ہے بلکہ صوبائی اسمبلی بھی معطل ہو سکتی ہے۔ دوسری بڑی مشکل سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطوں کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں فوج اور سول حکومت کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔ اگر وزیراعلیٰ نے محاذ آرائی اختیار کی تو یہ رابطے ٹوٹ سکتے ہیں۔ اس کا نقصان براہ راست عوام کو پہنچے گا کیونکہ دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھ جائیں گی۔ ایسے حالات میں وفاق آسانی سے یہ تاثر قائم کر سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے زیرِ اقتدار صوبہ امن و امان قائم رکھنے میں ناکام ہے۔
تیسری مشکل عدلیہ سے متعلق ہوگی۔ اگر عمران خان کے مقدمات میں صوبائی حکومت کسی قسم کی سیاسی مہم یا قانونی دبائو ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کا ردعمل عدلیہ سے بھی آ سکتا ہے۔ عدالتیں اس قسم کے سیاسی دباؤ کو پسند نہیں کرتیں اور نتیجے میں مزید سخت فیصلے دئیے جا سکتے ہیں۔ چوتھی اور سب سے اہم مشکل یہ ہوگی کہ میڈیا اور عوامی رائے کو کنٹرول کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
سوشل میڈیا پر ایک طرف عمران خان کی رہائی کی مہم چلے گی تو دوسری طرف حکومت مخالف بیانیے کو بھی ہوا ملے گی۔ اس صورت میں سہیل آفریدی کو ہر دن ایک نیا سیاسی طوفان جھیلنا پڑے گا۔ البتہ اگر سہیل آفریدی سمجھ داری سے درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اپنے لیے گنجائش پیدا کر سکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں اقتدار ہمیشہ مرکز کے ساتھ کشمکش کے ذریعے نہیں بلکہ توازن کے ذریعے قائم رہا ہے۔ جب اے این پی نے وفاق سے تصادم کیا تو ان کی حکومت چند برس بھی نہ چل سکی۔ جب پی ٹی آئی نے پہلے دور میں تعاون کا راستہ اپنایا تو ترقیاتی منصوبے تیزی سے آگے بڑھے۔ اسی لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام محاذ آرائی نہیں کارکردگی چاہتے ہیں۔
اب گیند سہیل آفریدی کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ جذبات کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیں تو وہ نہ صرف اپنی حکومت مستحکم کر سکتے ہیں بلکہ عمران خان کے لیے سیاسی سپیس بھی بڑھا سکتے ہیں۔ اگر وہ ٹکرائو کے راستے پر چلے تو وہ خود بھی غیر موثر ہو جائیں گے اور عمران خان کے لیے راستہ مزید تنگ ہو جائے گا۔ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں مزاحمت ہمیشہ دلیرانہ کہانی تو بنتی ہے مگر انجام اکثر اقتدار کے زوال پر ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ جذباتی بیانیے کے بجائے حکمتِ عملی پر یقین رکھیں۔ سیاست میں بقا کا راز ٹکرائو میں نہیں توازن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ توازن قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید وہ نہ صرف اپنی حکومت بچا لیں بلکہ تحریک انصاف کو دوبارہ مرکز کی سیاست میں موثر کردار دینے کی بنیاد رکھ سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button