انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںفن اور فنکار

الغوزہ نواز استاد اکبر خمیسو ، سندھ کی روحانی موسیقی کے امین

کراچی:(انٹرویو /رانا محمد طاہر)دلوں کے تار چھیڑنے والا سندھ کا روایتی ساز الغوزہ اس دھرتی کی ثقافتی موسیقی کا اہم جزو ہے۔ اس کی دھن سننے والے کو سحر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں اس ساز کو بجانے والے فنکاروں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ انہی گنے چنے فنکاروں میں ایک نام استاد اکبر خمیسو خاں کا ہے جو بین الاقوامی شہرت یافتہ الغوزہ نواز ہیں۔ وہ پاکستان کے معروف الغوزہ نواز استاد خمیسو خاں کے فرزند ہیں جنہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں دو مرتبہ صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ استاد خمیسو خاں نے الغوزہ بجا کر دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا اور اب ان کے بعد ان کے بیٹے استاد اکبر خمیسو خاں اپنے والد کے فن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں 2010ء میں تمغہ امتیاز اور شاہ عبداللطیف ایوارڈ سے نوازا۔ 2023ء میں اقوامِ متحدہ، سارک کانفرنس اور او آئی سی کے مختلف پروگراموں میں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور متعدد ایوارڈز حاصل کیے۔

algoza -nawaz -ustad-akbar-khamiso-2

سی این این اردوڈاٹ کام کو خصوصی انٹرویومیں استاد اکبر خمیسو خاں نے بتایا کہ ان کا آبائی گھر لطیف آباد، حیدرآباد میں ہے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد کے چچا استاد اسماعیل خاں ملک کے نامور الغوزہ نواز تھے۔ جب وہ کہیں باہر جاتے تو ان کے والد چپکے سے ان کا الغوزہ بجایا کرتے۔ ایک دن چچا نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ مگر ناراض ہونے کے بجائے، ان کی سانس اور دھن کی روانی دیکھ کر خوش ہوئے اور انہیں الغوزے کی ایک جوڑی تحفے میں دے دی۔

بعد ازاں، ان کے والد نے استاد سید احمد شاہ الغوزہ نواز کی شاگردی اختیار کی جنہوں نے کبھی قائدِاعظم محمد علی جناح کے سامنے بھی پرفارم کیا تھا۔ استاد خمیسو خاں 1923ء میں ٹنڈو محمد خاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں وہ اناج لے جانے کے لیے بیل گاڑی چلایا کرتے تھے۔ ایک دن ان کی ملاقات رئیس کریم بخش نظامانی سے ہوئی جو موسیقی کے بڑے شوقین تھے۔ انہوں نے استاد خمیسو خاں کی دھنیں سن کر نہ صرف انعامات سے نوازا بلکہ ان کی سرپرستی بھی کی۔

اسی دوران، میر رسول بخش تالپور بھی ان کی محفل میں آئے اور ان کی دھنوں سے متاثر ہو کر پیشکش کی کہ وہ ان کے ہاں قیام کریں اور خاص مہمانوں کے لیے الغوزہ بجائیں۔ استاد خمیسو خاں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔

ایک روز ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے اسٹیشن ڈائریکٹر نسیم حمید، میر رسول بخش تالپور کی حویلی میں آئے۔ دوسرے کمرے سے الغوزے کی دھن سن کر پوچھا کہ یہ ریکارڈنگ ہے؟ جواب ملا کہ نہیں، یہ میرے دوست استاد خمیسو خاں کی ریاضت ہے۔ وہ فوراً استاد خمیسو خاں کو ریڈیو لے گئے، جہاں ان کا آڈیشن ہوا اور پہلی ہی پرفارمنس میں وہ ریڈیو پاکستان کے منظور شدہ فنکار قرار پائے۔

ریڈیو سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا جو ملک کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اس دور کے تمام سربراہان ان کے فن کے مداح تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر میری تقریب میں خمیسو خاں موجود نہ ہوں تو وہ تقریب ادھوری ہے۔

ان کے فن کے معترف چوئین لائی اور ملکہ برطانیہ بھی تھے۔ ملکہ نے کہا تھا کہ “خمیسو خاں اور الغوزہ ایک ہی نام ہیں۔” یہ رائل فیملی کی جانب سے ان کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا۔

algoza -nawaz -ustad-akbar-khamiso-3

8 مارچ 1983ء کو جب استاد خمیسو خاں کا انتقال ہوا تو استاد اکبر کی عمر صرف چھ برس تھی۔ والد کی خدمات کے اعتراف میں بے نظیر بھٹو نے انہیں ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں ملازمت دی۔ ابتدا میں وہ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ہوئے۔ اس وقت وہ الغوزہ نہیں بجاتے تھے مگر انہیں عظیم اساتذہ کی صحبت نصیب ہوئی، جن میں استاد امام بخش (کلارنٹ و بانسری نواز)، استاد مجید خاں (سارنگی نواز)، استاد رحمت اللہ (بینجو نواز)، اور استاد نذیر خاں (طبلہ نواز) شامل تھے۔

انہی اساتذہ کی رہنمائی میں انہوں نے موسیقی سیکھی اور 1997ء میں باقاعدہ الغوزہ بجانا شروع کیا۔ ان کی پہلی پرفارمنس ریڈیو پاکستان کے پروگرام “رنگِ نو” میں ہوئی جس کے پروڈیوسر نصیر بیگ مرزا تھے۔ اس کے بعد وہ متعدد ملکی و غیر ملکی پروگراموں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور کئی اعزازات حاصل کیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ الغوزہ ایک دیہی ساز ہے جس میں سندھ کے مختلف راگ اور راگنیاں بجائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد فتح علی خاں حیدرآبادی سے حاصل کی جو ملک کے معروف کلاسیکل گلوکار ہیں۔ الغوزہ پر ان کی پہلی کلاسیکل پرفارمنس آل پاکستان میوزک کانفرنس کراچی میں ہوئی، جس کے بعد لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی انہوں نے پرفارم کیا۔

استاد اکبر خمیسو خاں نے اب تک 32 ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے جن میں چین، آسٹریلیا، نیپال، بھارت، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، لبنان، ازبکستان، فرانس، اسپین، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور ہنگری شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ممالک میں وہ ایک سے زائد بار جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پھونک سے بجنے والے سازوں میں سب سے مشکل ساز الغوزہ ہے۔ بانسری میں ایک ہی نلکی پر پھونک ماری جاتی ہے جبکہ الغوزے میں دو بانسریاں ہوتی ہیں۔ بڑی بانسری سرسا کی آواز دیتی ہے جو دھن کا تسلسل برقرار رکھتی ہے، جبکہ چھوٹی بانسری میں سات سوراخ ہوتے ہیں جن سے راگ بجائے جاتے ہیں۔ اس کی آواز میں بین، شہنائی اور کلارنٹ کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔

استاد خمیسو خاں نے الغوزے میں جدت پیدا کرتے ہوئے چار بانسریوں کا اضافہ کیا تھا، جو سانس اور سینے کی غیر معمولی طاقت کا تقاضا کرتی ہیں۔ الغوزے کی آواز سننے والا گویا ایک وجدانی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔

استاد اکبر خمیسو خاں نے بتایا کہ وہ آن لائن بھی الغوزہ سکھاتے ہیں، ان کے شاگرد دنیا بھر میں موجود ہیں۔ پاکستان میں ان کے شاگرد اختر حسین بہترین الغوزہ نواز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو بھی الغوزہ بجانے کی تربیت دے رہے ہیں۔

اس وقت وہ ریڈیو پاکستان کراچی میں گریڈ 16 کے اسٹاف آرٹسٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسٹیشن ڈائریکٹر محبوب سرور ہیں۔

استاد اکبر خمیسو خاں نے کہا کہ بیرونِ ملک فنکاروں کو بے حد عزت اور محبت دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں وہ مقام کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کی پرفارمنس کے دوران ان کا سندھی روایتی لباس، رنگین موتیوں سے مزین الغوزہ، اور دھنوں کی مٹھاس وادیٔ مہران کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔

بے شک، استاد اکبر خمیسو خاں اپنے والد کی میراث کے حقیقی وارث اور پاکستان کے وہ ثقافتی سفیر ہیں جنہوں نے الغوزہ کی سانس سے سندھ کی روح دنیا بھر میں محسوس کرائی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button