برصغیر میں 28 کروڑ بنگالی آباد ہیں ، جو مغربی بنگال اور بنگلہ دیش میں رہتے ہیں ، ان میں 18 کروڑ مسلمان اور 9 کروڑ کے قریب ہندو ہیں ، مغربی بنگال میں 3 کروڑ کے قریب مسلمان ہیں ان کے لئے 5 اردو اخبارات شائع ہوتے ہیں جن میں نمایاں نام ،اخبار مشرق، اور ، سہارا، ہیں ۔
بنگلہ دیش کی آبادی 17 کروڑ ہے جہاں مسلمان 15 کروڑ اور ہندو 2 کروڑ کے لگ بھگ ہیں ، بنگلہ دیش میں صرف 2 اردو اخبار شائع ہوتے ہیں جن میں ایک نمایاں ہے ، ڈیلی دنیا ، کیا وجہ ہے مغربی بنگال کے 3 کروڑ مسلمان 5 اردو اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش کے 15 کروڑ مسلمان صرف 2 اردو اخبار پڑھتے ہیں ،اردو فکشن اور شاعری بھی مغربی بنگال میں زیادہ ہے وہاں اردو کی کتب بھی شائع زیادہ ہوتی ہیں۔
آخر بنگلہ دیش کے مسلمان اردو سے بیزار کیوں ہیں اور مغربی بنگال کے مسلمان بنگالی بھاشا کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنی زبان قرار دیتے ہیں ، دونوں اطراف کے بنگالی مسلمانوں کی سوچ میں تضاد کیوں ہے، اسکی سیاسی وجوہات تلاش کریں تو کچھ نکات سمجھ آتے ہیں مغربی بنگال کے اور بنگلہ دیش کے ہندو بنگالی بھاشا کے ساتھ ہندی سنسکرت کو بھی پڑھتے اور بولتے ہیں سنسکرت انکے دھرم کی زبان ہے اور ہندی پورے ہندوستان کی زبان ہے جو جزوی طور پر جنوب بھارت میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
بولی ورڈ فلموں کا بنگال سرکٹ جو بنگال کے ساتھ ساتھ آسام پر بھی مشتمل ہے وہاں ہندی اردو فلمیں بہت دیکھی جاتی ہیں ، یہ بات مغربی بنگال کے مسلمان بھی محسوس کرتے ہیں اسی لئے انہوں نے بنگالی بھاشا کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنی زبان بنا لیا کیونکہ اردو برصغیرمیں آئی مسلمانوں کی وجہ سے ہے اردو کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ بنگالی مسلمان اس زبان کے ذریعے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔
جہاں تک بنگلہ دشی مسلمانوں کا تعلق ہے وہاں بنگالی اور اردو زبان سیاست کی نذر ہو گئی جب کوئی مدعا سیاست کاروں کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو وہ بدصورت ہیت اختیار کر لیتا ہے سقوط ڈھاکہ تک بنگلہ دیش جو اس وقت تک مشرقی پاکستان تھا وہاں کےسینماگھروں میں اردو فلموں کی نماش کامیابی سے جاری تھی کراچی اور پنجاب کے بعد اردو فلموں کا بہت بڑا سرکٹ تھا ہمارے اسٹار ہیرو ندیم کا سسرال وہاں تھا ان کے سسر احتشام بڑے بنگالی فلمساز اور ہدایتکار تھے جو بنگالی اور اردو فلمیں دونوں بنایا کرتے تھے۔
ندیم کی پہلی فلم چکوری انکی ہی تھی ،سن دوہزار پانچ میں جب بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم پہلی بار پاکستان آئی تو بنگالی صحافیوں کی بڑی تعداد پاکستان آئی تھی جو ہمارے ساتھ اردو میں بات کرتی تھی ، میچ کےدوران راقم کا اردو انٹرویو کرکٹ کے حوالے سے اردو زبان میں بنگالی صحافی مسعود حسن نے کیا تھا میں نے پوچھا یہ اردو زبان کا انٹرویو کہاں چلے گا انہوں نے کہا بنگلہ ریڈیو پر جو میرے لئے باعث حیرت تھا۔
بنگلہ دشی مسلمان اردو کے خلاف کیوں ہوئے یہ سراسر سیاسی معاملہ تھا 1947 کے بعد 1971 تک بنگلہ دیش میں اردو کے خلاف عوامی لیگ کی تحریک بھی چل رہی تھی مگر وہاں اردو فلمیں بھی کامیابی سے چل رہی تھی بنگالی عوام سینماگھروں میں اردو فلمیں دیکھنے جاتے تھے ، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے کم فہم سیاست کاروں نے بنگلہ دشی مسلمانوں کو اردو کے خلاف کر دیا۔



