انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

قدرتی آفات کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا نقصان: غلطیوں سے سیکھا، آگے بڑھے، ترقی کیلئے انقلابی اقدامات کر رہے: شہباز شریف

اصلاحات کا عمل جاری، مسلسل قرضوں سے معیشت کمزور پڑتی ہے، امن، خوشحالی ترجیح، انسانیت کو صحیح سمت لے جانے کیلئے ہمیں برابری اور تعاون درکار: ریاض میں گول میز مباحثے میں اظہار خیال

ریاض، اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا اور آگے بڑھے، ملکی ترقی کے لیے انقلابی اقدامات کر رہے ہیں۔ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کی 9ویں کانفرنس کے تحت اعلیٰ سطح گول میز مباحثے کا انعقاد کیا گیا، مباحثے کا موضوع ’’ کیا انسانیت صحیح سمت کی طرف گامزن ہے‘‘ تھا۔
وزیراعظم نے مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد کے ترقی کے ویژن کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، پاکستان کی 60فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں، مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، ایف بی آر میں اصلاحات کر کے مکمل ڈیجیٹائزڈ کر دیا گیا ہے، ڈیجیٹلائزیشن سے کرپشن میں خاطرخواہ کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ 10ملکوں میں شامل ہے، پاکستان کو سیلاب، بادل پھٹنے جیسی قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، قدرتی آفات کے نتیجے میں پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے عمل کے لیے ہمیں زیادہ فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، مسلسل قرضوں سے ملکی معیشت کمزور پڑتی ہے، انسانیت کو صحیح سمت لے جانے کے لیے مختلف شعبوں میں برابری کا تعاون ہونا چاہئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون سے آگے بڑھا جاسکتا ہے، پاکستان اے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، آرٹیفشل انٹیلی جنس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں جدت کے لیے اے آئی سے استفادہ کر رہے ہیں، زرعی شعبے کی ترقی کے لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کر رہے ہیں، زرعی شعبے میں جدت کے لیے پاکستانی نوجوان چین سے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ قرضوں کے بجائے خود انحصاری پر توجہ دے رہے ہیں، پاکستان اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے، اللہ کی مدد اور محنت سے پاکستان کو کامیاب بنائیں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن، خوشحالی اور ترقی ہماری ترجیح ہے، پاکستان 24کروڑ افراد کا ملک ہے، پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، انتھک محنت سے ترقی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں، کسی بھی کام کے لیے پختہ ارادہ کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ دریں اثنا وزیراعظم کی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کے موقع پر ورلڈ اکنامک فورم (WEF)کے صدر اور چیف ایگزیکٹو بورگا بغینڈے (Børge Brende)سے ملاقات ہوئی۔
یہ ملاقات عالمی اقتصادی فورم کی قیادت کی درخواست پر ہوئی تاکہ وزیراعظم کو آئندہ سال جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی باضابطہ دعوت دی جا سکے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم کے مابین مضبوط روابط کو سراہا اور فورم کے عالمی سطح پر کاروباری اور جدت پسند نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ 2026ء کے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی دعوت کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ برس ڈیووس میں پاکستان بھرپور نمائندگی کرے گا۔
پاکستان کی معیشت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے حکومت کی ساختی اقتصادی اصلاحات پر روشنی ڈالی جن کی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل تبدیلی پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے گزشتہ 18مہینوں میں بہتر میکرو اکنامک اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ برآمدات کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، نوجوان افرادی قوت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی پر مرکوز ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی ضروری غذائی تحفظ کے مضبوط نظام پر عالمی اقتصادی فورم کی شراکت کا خیرمقدم کیا اور خوشحالی کے راستے کے طور پُرامن کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مابین روابط کے لیے ایک اہم پل ہے۔ بورگا بغینڈے نے عالمی اقتصادی فورم کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دینے میں پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت کیلئے پر امید ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button