موٹروے پولیس:مس کنڈکٹ کامرتکب انسپکٹررانا عرفان روڈسیفٹی پر لیکچر دینے لگا
رحیم یار خان میں رانا عرفان نے ایڈمن افسرکی پوسٹ پر قبضہ جمائے رکھا خود کو بطورڈی ایس پی مشہورکیا ، ڈی آئی جی موٹروے دار علی خٹک سزادینے میں کامیاب
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیرنقوی)موٹروے پولیس کے اہلکار گاڑی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے مبینہ طور پر ان میں انسپکٹر رانا عرفان جیسے نام شامل ہیں۔ ای چالان کے ذریعے ایک چوری شدہ موٹر سائیکل پر ایک پنجاب پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل (طاہر) بھی پکڑا گیا اسی طرح ایسے واقعات اور رانا عرفان جیسے کردار موٹروے پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے چوری شدہ گاڑیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رانا عرفان کو چند ماہ پہلے بھی محکمہ جاتی سزاسنائی گئی ہے اس کے باوجود دھڑلے سے کارروائیوں میں مصروف ہیں،کچھ ماہ پہلے رحیم یار خان کی حدود میں مبینہ طورپر بددیانتی اور بھتہ خوری جیسے الزامات پر سزا یافتہ موٹروے انسپکٹر رانا عرفان روڈ سیفٹی پر لیکچر دینے میں مصروف عمل ہیں ،ایسے اقدامات سے سوال اٹھتے ہے کہ کیا موٹروے پولیس کا کرپشن فری کا نظریہ کھلے عام کرپشن کی ترویج میں تبدیل ہو چکا؟

کرپشن کی یہ جاری داستان کافی پرانی ہے، 2007 کاسال تھا جب فیصل آباد موٹروے پر کھڑی شہری کی گاڑی چوری ہو گئی، تلاش اور تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ موٹروے پولیس کے ڈیوٹی پر موجود اہلکار ہی گاڑی چوری میں ملوث تھے مبینہ طورپر ان میں سے مرکزی کردار مشہور زمانہ انسپکٹر رانا عرفان تھا بعدازاں موصوف کو محکمانہ سزا دے کر موٹروے سے ٹرانسفر کر دیا گیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کرپشن کے بدبودار زخم کو ناسور بننے سے روکا جاتا مگر جیسے ہی اس وقت کے آئی جی موٹروے رفعت پاشا تبدیل ہوئے موصوف سفارشی بنیادوں پر دوبارہ اپنے ایریا میں واپس آ گئے ،موصوف شاطر آدمی ہیں اور گاڑیوں کے شیدائی ہیں نام کسٹم گاڑیوں میں دلچسپی بھی ریکارڈ شدہ ہے،ان کے محکمہ میں اور بھی سکینڈل سامنے آئے ہیں۔
رحیم یار خان میں تعیناتی کے دوران موصوف نے ایڈمن آفیسر کی پوسٹ پر قبضہ جمائے رکھا اپنے مضبوط نیٹ ورک کی بدولت خوب کھل کر کھیلے بعدازاںرحیم یار خان میں مبینہ طور پر بدیانتی اور جھوٹا پرچہ دینے کے الزامات پر معطل ہوئے اور پھر محکمانہ سزا کے حقدار ٹھہرائے گئے۔
موصوف کیوں کہ سالہاسال سے انتظامی پوزیشنوں پر براجمان رہ کر ایک "مافیا کا کارٹل” تشکیل دے چکے ہیں۔ لہذا رحیم یار خان میں انکوائری میں بھی کئی موڑ آئے ۔ ڈی آئی جی موٹروے دار علی خٹک کو البتہ یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔ وہ موصوف کو کچھ نہ کچھ محکمانہ سزا دینے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ مدعی اور عوام کا پرزور مطالبہ یہی ہے کہ موصوف کو دی گئی سزا ناکافی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود موصوف جنرل ڈیوٹی سے گریزاں ہیں آج کل موصوف تعلیمی اداروں میں روڈ سیفٹی پر لیکچر دے رہےہیں ، اب یہاں پر کچھ سوالات نے جنم لیا ہے کیا موصوف کی ان مصروفیات کی اجازت یا خبر ڈی آئی جی صاحب کو ہے؟ کیا موٹروے پولیس کے پاس کوئی ایک بھی قابل انسپکٹر نہیں کہ محکمے کو ایک کرپٹ افسر پر ہی انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ کیا موصوف وہی گل پھر کھلائیں گے جو رحیم یار خان میں کر آئے ہیں۔ یا پھر محکمہ سےجزااورسزاکا عمل بالکل ختم ہو چکا؟ ایمانداروں کو بہانے سے تنگ کیا جا رہا جبکہ بد دیانتوں کو نوازا جا رہا۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رحیم یارخان کے واقعہ میں موصوف کو سزا کم ہوئی جبکہ ایمانداروں پر تہمتیں لگائی گئیں،ان بیچاروں کے خلاف انکوائری کا آغاز کر کے ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا ، موصوف نے خود کو میڈیا میں "ڈی ایس پی” مشہور کئے رکھا ۔
شہریوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر ایسے کرپٹ عناصر کا محکمہ سے خاتمہ کیا جائے اور انہیں نشان عبرت بنایاجائے جبکہ قابل ،محنتی اوردیانتدار اہلکاروں کو تعینات کیا جائے جس سے محکمہ کی ساکھ بحال ہوسکے۔



