پنجاب کی فضا بوجھل ہےہوا میں اداسی کی نمی ہے،کھیت خاموش ہیں اور گلیاں یوں لگتی ہیں جیسے کسی اپنے کے بچھڑنے پر سر جھکائے کھڑی ہوں۔وہ جو پنجاب بھر کا راجا تھا، اس کے جانے سے درودیوار سوگوار ہیں۔دیپالپور کی دھرتی بھی اداس ہے کیونکہ اس دھرتی نے اپنا مہاراجہ کھو دیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے میاں منظور وٹو جو دیپالپور کی بھی پہچان،اس کا وقار اور اس کی دھڑکن،خاموشی سے اس مٹی میں اُتر گئے ہوں جس سے وہ عمر بھر جڑے رہے۔ وہ اب تخت و تاج کے مالک نہیں تھے مگر اُن کے نام پر دل دھڑکتے تھے۔وہ ایسے حکمران تھے جو اقتدار کے ایوانوں سے نہیں بلکہ عوام کے دلوں سے طاقت لیتے تھے۔
وہ سیاستدان نہیں،ایک رشتہ تھے…… پورے پنجاب اور دیپالپور کے لوگوں کے درمیان۔ دیپالپور صرف خاموش نہیں، دیپالپور سوچ میں ڈوبا ہوا ہے۔یہ وہ خاموشی ہے جو شور مچاتی ہے،یہ وہ اداسی ہے جو لفظوں سے بڑی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے اس مٹی نے اپنی تاریخ کا ایک معتبر صفحہ احترام سے بند کر دیا ہو۔
میاں منظور احمد وٹو ان رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد نہیں بنایا بلکہ اسے خدمت کا راستہ سمجھا۔وہ دیپالپور کے کھیتوں، اس کی بستیوں، اس کی گلیوں اور چوپالوں میں ایک مانوس چہرہ تھے۔ کسان کے پسینے کی مہک ان کے لیے اجنبی نہ تھی۔مزدور کے ہاتھوں کی سختی وہ بخوبی جانتے تھے۔بزرگوں کی خاموش دعائیں اور نوجوانوں کے خواب ان کی نگاہ میں ہمیشہ زندہ رہے۔
میاں منظور احمد وٹو سیاست کے ہجوم میں اکیلے دکھائی دینے والے آدمی تھے۔جہاں تعداد کم اور حوصلے زیادہ درکار ہوتے ہیں،وہاں ان کا قد اور بلند ہو جاتا تھا۔ صرف اٹھارہ اراکین کے ساتھ وزارتِ اعلیٰ تک پہنچنا محض سیاسی چال نہیں تھی،اور اس منصب پر دو بار فائز رہے۔انہیں وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے کا ہنرآتا تھا۔ اقتدار ان کے لیے منزل نہیں،ذمہ داری تھا…… اور ذمہ داری وہ ہمیشہ وقار کے ساتھ نبھاتے رہے۔
ان کی باتوں میں شائستگی،فیصلوں میں دانائی اور کردار میں وہ وقار تھا جو وقت کے ساتھ اور گہرا ہوتا گیا۔وہ مسئلے سنتے بھی تھے اور ان کے حل کے لیے کھڑے بھی ہوجا تے تھے۔اسی لیے اہلِ دیپالپور نے ان کی قیادت میں صرف سیاست نہیں سیکھی بلکہ انسانیت کا احترام بھی سیکھا۔
یہ کہنا بے جا نہیں کہ میاں منظور احمد وٹوایک فرد نہیں تھے،وہ خود ایک ادارہ تھے۔وہ ایک ایسی روایت تھے جو سکھاتی ہے کہ قیادت شور سے نہیں،خلوص سے پہچانی جاتی ہے۔آج وہ ہم میں موجود نہیں،مگر ان کا نام دیپالپور کی مٹی میں لکھا جا چکا ہے۔ان کی سوچ ہر اس دل میں زندہ رہے گی جو عوام کو طاقت کا سرچشمہ مانتا ہے۔

دیپالپور کے عوام جس غم میں ڈوبے ہیں،وہ صرف ایک سیاستدان کے بچھڑنے کا غم نہیں۔یہ اپنے مہاراجہ، اپنے خادم، اپنے محافظ کے رخصت ہو جانے کا دکھ ہے۔ آنے والی نسلیں جب دیپالپور کی تاریخ پڑھیں گی،تو ایک نام احترام، محبت اور فخر سے لکھا جائے گا……میاں منظور احمد وٹو۔ وہ رہنماجس نے خدمت کو عزت بنایااور قیادت کو امانت۔
وہ راہِ عدم کے مسافر ضرور تھے مگر تھکے ہوئے نہیں تھے۔سرد موسم ہوں یا سیاسی دھوپ، وقت کے سب موسم انہوں نے ایک ہی انداز میں جھیلے۔ہلکی مسکراہٹ، خاموش اعتماد اور آنکھوں میں ٹھہرا ہوا یقین۔ کچھ لوگ وقت سے لڑتے ہیں، میاں منظور وٹووقت کو سمجھ کر جیتے تھے۔وہ تاج نہیں، دعاؤں میں زندہ رہے، وہ نام نہیں، وفاؤں میں زندہ رہے۔ایسے لوگ مر کر بھی رخصت نہیں ہوتے،وہ یاد بن جاتے ہیں،روایت بن جاتے ہیں اور پھر تاریخ انہیں بھول نہیں سکتی۔



