انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

اٹھو! کہ سیدیؒ کا کارواں تیز گام ہے

تحریر :حسنات احمد ڈوگر

79 سال پہلے سید مودودیؒ نے جس پودے کو اخلاص، علم اور یقین کے پانی سے سینچا تھا، آج وہ ایک ایسا تناور درخت بن چکا ہے جس کی چھاؤں نسلوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان محض ایک طلبہ تنظیم نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر، ہمہ جہت اور ہمہ وقت متحرک تحریک ہے جو اقامتِ دین، تربیتِ کردار اور طلبہ کے حقوق کی پاسبانی کا فریضہ مسلسل 79 برس سے ادا کر رہی ہے۔ یہ کوئی وقتی جوش کا نام نہیں، بلکہ ایک زندہ نظریہ، ایک ہمہ وقت رواں مشن اور اس انقلاب کی علامت ہے جو دلوں میں جنم لیتا ہے اور معاشروں کی تقدیر بدلنے کی قوت رکھتا ہے۔


جمعیت علم و تربیت کے اس باغ کا نام ہے جہاں اخلاص، خشیتِ الٰہی اور دردِ امت کے پھول مہکتے ہیں۔ یہاں کارکن محض نعرے نہیں لگاتے بلکہ اپنے کردار سے دعوت دیتے ہیں۔ ان کے دل میں امت کا درد، زبان پر حق کا پیغام اور عمل میں وہ اخلاص ہوتا ہے جو رضائے الٰہی سے جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت کی اصل طاقت اس کی تنظیمی ساخت نہیں بلکہ اس کے تربیت یافتہ افراد ہیں۔ یہاں افراد کی تربیت کو تنظیم پر فوقیت دی جاتی ہے، اور یہی وہ راز ہے جس نے جمعیت کو وقت کے تھپیڑوں میں بھی استقامت عطا کی۔
جمعیت کی ایک درخشاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہے۔ یہاں نہ رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم ہے، نہ زبان، قوم یا ذات کا امتیاز۔ جمعیت خالصتاً اسلامی اخوت کا عملی نمونہ ہے، جہاں رشتہ خون کا نہیں بلکہ کلمۂ حق کا ہوتا ہے۔ اسی اخوت نے جمعیت کو ایک ایسی وحدت عطا کی جو بکھرنے نہیں دیتی۔
تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر میں بہت سی طلبہ تحریکیں اٹھیں، جن کی بنیاد لسانی، علاقائی یا قومی تعصبات پر تھی۔ وہ وقتی طور پر ابھریں، شور مچایا، مگر پھر وقت کے اندھیروں میں گم ہو گئیں اور آج قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔ اس کے برعکس جمعیت کی بنیاد نہ کسی قومیت پر تھی، نہ کسی زبان پر؛ اس کی بنیاد اسلام تھی، ہے اور ان شاء اللہ رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم 79 سال سے جمے ہوئے ہیں، استقامت کے ساتھ، یقین کے ساتھ اور مقصد کی وضاحت کے ساتھ۔
تحریکِ ختمِ نبوتؐ ہو یا ملتِ اسلامیہ کے نظریاتی معرکے، اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ صفِ اوّل میں رہ کر کردار ادا کیا۔ بنگال کی تقسیم کے نازک اور خونچکاں دور میں جمعیت کے ہزاروں طلبہ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مکتی باہنی جیسے درندہ صفت عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور حق و وفا کی ایسی تاریخ رقم کی جو آج بھی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ یہ قربانیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ جمعیت کا رشتہ محض کیمپس سیاست سے نہیں بلکہ امت کے مقدر سے جڑا ہوا ہے۔
جمعیت نے ہر دور کی آمریت کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ مارشل لا کا جبر ہو یا نام نہاد جمہوریت کے پردے میں چھپی حکومتی فسطائیت، جمعیت نے کبھی سر نہیں جھکایا۔ قید و بند، تشدد، پابندیاں اور الزامات—یہ سب اس کے سفر کے سنگِ میل ہیں، مگر اس کے قدم کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔ کیونکہ جو تحریک اللہ پر یقین رکھتی ہو، اسے وقتی طاقتوں سے خوف نہیں آتا۔
احتساب اور دیانت داری جمعیت کی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جنہوں نے اسے دہائیوں کے طویل سفر میں زوال سے محفوظ رکھا۔ یہاں ہر قدم خود احتسابی کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے، اور ہر فیصلہ اخلاص کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ جمعیت کا لٹریچر صرف ذہنوں کو روشن نہیں کرتا بلکہ دلوں میں اقامتِ دین کی ایسی شمع جلاتا ہے جو گھپ اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔
اسی طرح طلبہ مسائل کی جدوجہد میں بھی جمعیت ہمیشہ متحرک رہی ہے۔ تعلیمی انصاف، فیسوں میں اضافے کے خلاف آواز، کیمپس میں طلبہ کے وقار اور حقوق کا تحفظ یہ سب جمعیت کے روشن باب ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ تحریک خواب نہیں، عمل ہے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اس کاروانِ صدق و وفا کا حصہ بنیں، اپنے نظریے پر یقین تازہ کریں، اپنی منزل کا تعین کریں اور ملت کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنے حصے کا چراغ جلائیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button