آزاد کشمیر کی بگڑتی صورتحال باعث تشویش ،حکومت مذاکرات کرے: تحریک تحفظ آئین
محمودخان اچکزئی کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس، گلگت بلتستان کے دھاندلی زدہ انتخابات مسترد،عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش
اسلام آباد:(بیوروچیف) تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آزاد کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے،تحریک نے گلگت بلتستان کے دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی رائے دہی پر ڈاکے کے مترادف قرار دیا۔
محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی مشاورتی نشست کا انعقاد ہوا۔ترجمان کے مطابق مطالبہ کیاگیاحکومت اور مقتدر قوتیں آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات پر سنجیدہ رویہ اپنائیں۔عوام کی کسی بھی نمائندہ تنظیم پر پابندی لگانا مسئلے کا حل ہرگز نہیں،دشمن آزاد کشمیر کے حالات پر نظریں جمائے بیٹھا ہے، کوئی بھی غلط اقدام معاملات بگاڑ سکتا ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات میں پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ترجمان کے مطابق جب فیصلے کہیں اور ہونے ہیں تو ملک میں انتخابات محض تکلفاً کرانے کی کیا تک ہے۔ اب نہ ہی الیکشن کمیشن کی کوئی ساکھ باقی رہ گئی ہے اور نہ ہی انتخابی عمل کی،عوامی مقبولیت دلوں میں بنائی جاتی ہے، اسے چھینا یا چوری نہیں کیا جا سکتا ہے، جبری طور پر ہتھیائی گئی مقبولیت اور اقتدار کی عمارت ریت کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال ،سیاسی کارکنان پر کریک ڈاؤن اور محمود خان اچکزئی پر درج کی گئی جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہیں۔ترجمان کے مطابق بی این پی سربراہ اختر جان مینگل کی 10 جون کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہاحکومت کو بجٹ میں عام آدمی کے لئےصفر ریلیف اور ٹیکسوں کے انبار پر سخت تنبیہ کرتے ہیں،حکمران اپنی عیاشیوں اور بے جا سرکاری اخراجات میں فوری کٹوتی کریں۔حکومتی نااہلی اور کرپشن کا نتیجہ آئی ایم ایف کی غلامی کی صورت میں نکل رہا ہے،صرف ٹیکسوں کی مد میں 19 کھرب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنا حکومتی بے حسی کی داستان ہے۔
متوقع بجٹ میں مزدور، کسان، تاجر اور تنخواہ دار طبقے کے لیے کوئی ریلیف نہیں، ملک میں جاری فسطائیت، سیاسی کارکنان پر جبر اور میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسرشپ کی مذمت اوربانی پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ اور شاہ محمود قریشی سمیت تمام اسیران کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔



