جمہوریت کا امتحان: اختلافِ سیاست یا اخلاقی انحطاط؟
سیاست اگر جمہوریت کی روح ہے تو اخلاق اس کی بنیاد۔ جب یہ بنیاد کمزور پڑ جائے تو ایوانوں کی عظمت بھی مجروح ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی اختلاف اکثر اخلاقی تصادم کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جہاں مکالمے کی جگہ نعرہ بازی، دلیل کی جگہ الزام تراشی اور شائستگی کی جگہ بدتمیزی لے لیتی ہے۔ حالیہ دنوں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے پنجاب اسمبلی لاہور کے دورے کے دوران پیش آنے والا واقعہ اسی المیے کی ایک واضح مثال ہے۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سہیل آفریدی لاہور کسی ذاتی تشہیر یا رسمی ملاقات کے لیے نہیں آئے تھے، بلکہ وہ اپنے قائد، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے جاری سیاسی جدوجہد کے سلسلے میں پنجاب پہنچے، تاکہ بالخصوص لاہور کے عوام کو سیاسی طور پر بیدار کیا جا سکے۔ لاہور ہمیشہ سے سیاسی تحریکوں اور عوامی شعور کا مرکز رہا ہے، اسی لیے اس جدوجہد کا محور بھی یہی شہر تھا۔ مگر افسوس کہ یہ سیاسی مقصد غیر ضروری تصادم کی نذر ہو گیا۔
واقعات کے مطابق ابتدا میں مریم نواز صاحبہ کی ٹیم کی جانب سے غیر شائستہ رویّہ اختیار کیا گیا، راستہ روکا گیا اور ماحول کو کشیدہ بنایا گیا۔ اسمبلی جیسے آئینی اور باوقار ادارے میں اس نوعیت کا طرزِ عمل کسی طور قابلِ تحسین نہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے، مگر بدتمیزی اور اشتعال انگیزی اس حسن کو بدنما بنا دیتی ہے۔
بعد ازاں یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سہیل آفریدی کی ٹیم سے وابستہ ایک شخص نےنامناسب اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ یہ الفاظ نہ صرف غیر ضروری بلکہ سراسر ناگزیر اور قابلِ مذمت تھے۔ کسی سیاسی رہنما کے خلاف اس نوعیت کی زبان کسی سیاسی اختلاف کا جواز نہیں بن سکتی، بلکہ یہ مجموعی سیاسی زوال کی علامت ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ بدتمیزی اگر ایک طرف سے شروع ہو تو اس کا ردِعمل دوسری طرف سے بھی سامنے آتا ہے، اور یوں اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس واقعے میں بھی یہی ہوا؛ عمران خان کی رہائی جیسے سنجیدہ سیاسی معاملے کی بجائے دھکم پیل، نعرے بازی اور الزام تراشی خبروں کی زینت بن گئی۔
اسمبلیاں شور شرابے اور طاقت کے مظاہرے کے لیے نہیں بلکہ قانون سازی، مکالمے اور سیاسی بلوغت کے لیے ہوتی ہیں۔ یہاں آنے والے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ ادارے کے وقار کو مقدم رکھے۔ قیادت کی ذمہ داری صرف تقریر تک محدود نہیں بلکہ اپنے ساتھ آنے والے افراد کے رویّوں کی اخلاقی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
اگر سہیل آفریدی کا مقصد سیاسی شعور بیدار کرنا تھا تو یہ مقصد بدنظمی سے متاثر ہوا، اور اگر مریم نواز کی ٹیم نے ابتدا میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہوتا تو شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ عوام آج نعرے نہیں، کردار دیکھتے ہیں وہ شور سے نہیں، سنجیدگی سے متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے دلیل میں ڈھالے، جو مخالف کو گالی دینے کی بجائے قائل کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ اگر سیاسی رویّوں کی اصلاح نہ کی گئی تو جمہوریت محض ایک دعویٰ بن کر رہ جائے گی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والا یہ واقعہ کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ ہمارے مجموعی سیاسی کلچر کا آئینہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر اصلاح کی طرف قدم بڑھائیں، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت شور میں نہیں، شعور میں ہے۔



