انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

تماشے کی دنیا اور خون کی منڈیاں

بازاروں میں تماشے لگتے ہیں۔ مداری اپنی ڈگڈگی بجاتے ہیں، بندر اور کتے کے کرتب دکھاتے ہیں۔ کبھی یہ کھیل لوگوں کو مسحور کر دیتے تھے، مگر وقت کی گرد نے ان پر ایسی دھند چڑھا دی ہے کہ اب لوگ ان مناظر سے اکتا چکے ہیں۔ مداری، جو کبھی معصوم آنکھوں کو حیرت میں ڈال دیتا تھا، اب لوگوں کی بے نیازی دیکھ کر بلند آواز میں اعلان کرتا ہے کہ آج وہ ایسا نیا تماشہ دکھائے گا جو نہ کبھی دیکھا گیا نہ سنایا گیا۔

لوگوں کی طبیعت میں تجسس جاگتا ہے۔ وہ رکتے ہیں، قریب آتے ہیں، ہجوم بنتا ہے۔ مگر جب مداری اپنی بوسیدہ ڈگڈگی بجانا شروع کرتا ہے تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔ نہ کوئی نیا کرتب، نہ کوئی نیا منظر۔ وہی پرانی پھسپھسی چالیں، وہی بار بار دہرائے گئے تماشے۔ لوگوں کا وقت ضائع ہوتا ہے، جیبیں ہلکی ہوتی ہیں، اور آنکھوں میں مایوسی کا عکس گہرا ہو جاتا ہے۔

یہ تماشہ صرف گلی کوچوں تک محدود نہیں۔ یہی فریب، یہی جھوٹی تسلیاں، بڑی دنیا کے وسیع میدانوں میں بھی کھیلی جاتی ہیں۔ جہاں مداریوں کی جگہ طاقتور قومیں، ڈگڈگیوں کی جگہ عالمی قراردادیں، اور بندر کتے کی جگہ انسانوں کی زندگیاں ہوتی ہیں۔

کچھ گلیاں آگے بڑھیں تو ایک اور منظر ابھرتا ہے۔ ایک صاحب بہترین لباس میں ملبوس، خوشبو بکھیرتے، اپنے سامنے مرتبان سجا کر کھڑے ہیں۔ ان کی زبان میں خاص قسم کی جادوگری ہے۔ وہ اپنے نسخوں کے قصیدے ایسے جوش و خروش سے پڑھتے ہیں کہ راہگیر، جو گھروں سے آٹا چینی لینے نکلے تھے، خود کو ان کے مجمعے میں کھڑا پاتے ہیں۔ نسلوں کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں، آباؤ اجداد کی حکمت کے قصے بُنے جاتے ہیں، اور عوام اپنی اصل ضرورتیں بھول کر خوابوں کی سوداگری میں شامل ہو جاتی ہے۔ صحت خریدی جاتی ہے، امید خریدی جاتی ہے، مگر آخر میں ہاتھ آتا ہے صرف دھوکہ اور مایوسی۔

یہی کھیل عالمی اسٹیج پر دہرایا جاتا ہے۔ امن کے نعرے لگا کر اسلحہ بیچا جاتا ہے۔ بھائی چارے کے خطبے دے کر جنگی منڈیاں آباد کی جاتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ہالوں میں جنگ بندی کی صدائیں گونجتی ہیں، مگر حقیقت میں خون کی ندیاں بہانے کے معاہدے ہوتے ہیں۔

آج فلسطین کی گلیوں سے جنازے اٹھ رہے ہیں۔ شام میں یتیم بچوں کی چیخیں آسمان چیر رہی ہیں۔ یوکرین میں ماؤں کی آہیں زمین کو ہلا رہی ہیں۔ کشمیر کی وادیوں میں سسکتی انسانیت کی سانسیں ابھی باقی ہیں۔ انہی چیخوں، انہی آہوں اور انہی جنازوں پر طاقتوروں کی اسلحہ منڈیاں مزید روشن ہو رہی ہیں۔

جنگیں قوموں کو برباد کرتی ہیں۔ معیشتیں کمزور پڑتی ہیں، نسلیں مٹتی ہیں، اور شہروں کے شہر کھنڈر بن جاتے ہیں۔ فلسطین کی تباہی، شام کی بربادی، یوکرین کی ویرانی اور کشمیر کی مظلومیت اس صدی کے سب سے بڑے تماشے کی گواہی دیتے ہیں، جہاں ایک طرف موت بیچی جا رہی ہے اور دوسری طرف امن کے نام پر تالیاں بجائی جا رہی ہیں۔

اور آج کے تماشے میں ایک نیا کردار بھی شامل ہو چکا ہے۔ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر مائیک کے سامنے کھڑا ہو کر اعلان کرتا ہے کہ اس نے دنیا میں کئی جنگیں روک دی ہیں، کہ وہ امن کا پیامبر ہے، اور کہ اس کے سینے پر نوبیل امن انعام سجنا چاہیے۔ تالیاں بجتی ہیں، کیمرے چمکتے ہیں، اور بیانات تاریخ کا حصہ بنا دیے جاتے ہیں۔

مگر پردے کے پیچھے ڈگڈگی بدستور بج رہی ہے۔ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، اور اس دہانے تک پہنچانے والا ہاتھ بھی اُسی اسٹیج سے اٹھا ہے جہاں امن کے خطبے دیے جا رہے ہیں۔ آج ایران کے گرد طاقت کا مظاہرہ ہو رہا ہے، امن بچانے کے نام پر، خوف پھیلانے کے جواز کے ساتھ، اور جنگ کو آخری حل کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ وہی پرانا نسخہ ہے جو ہر دور کے حکیم بیچتے آئے ہیں۔ تھوڑا سا خوف، کچھ دھمکیاں، اور پھر تباہی کو امن کا نام۔ اگر واقعی جنگیں روکی گئی ہوتیں تو فلسطین آج ملبے کا ڈھیر نہ ہوتا۔ اگر امن سچا ہوتا تو شام کے بچے خوابوں میں چیخ کر نہ جاگتے۔ اگر انسانیت مقدم ہوتی تو یوکرین میدانِ جنگ نہ بنتا۔ اور اگر انصاف زندہ ہوتا تو کشمیر آج بھی قید خانہ نہ ہوتا۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگیں روکی نہیں گئیں، صرف میدان بدلے گئے ہیں۔ لاشیں کم نہیں ہوئیں، صرف جغرافیہ تبدیل ہوا ہے۔ اور اب اگر ایران کو للکارا جا رہا ہے تو یہ بھی اسی زنجیر کی ایک کڑی ہے، جس کا انجام ہمیشہ ایک جیسا رہا ہے۔ مزید لاشیں، مزید تباہی، اور اسلحہ منڈیوں میں مزید منافع۔

یہ دنیا جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتی۔ نہ بھارت، نہ پاکستان، نہ مشرقِ وسطیٰ اور نہ ہی یورپ۔ غربت، بھوک، بیماری اور جہالت میں گھری انسانیت کسی نئے امن کے نعرے کی نہیں بلکہ امن کی سچائی کی متقاضی ہے۔

امن ایوارڈ سے نہیں آتا۔ امن طاقت کے مظاہرے سے پیدا نہیں ہوتا۔ امن بندوق کے سائے میں پنپ نہیں سکتا۔ امن تب آتا ہے جب جنگ کو کاروبار سمجھنا چھوڑ دیا جائے، جب انسان کو مہرہ نہیں بلکہ مقصد مانا جائے، اور جب مداریوں کی ڈگڈگیاں قوموں کے شعور سے ٹکرا کر ٹوٹ جائیں۔

دنیا کو نئے تماشے کی نہیں بلکہ نئی بیداری کی ضرورت ہے۔ ایسی بیداری جو مداریوں کو بے نقاب کرے، اسلحہ کے سوداگر پہچانے، اور انسانیت کو اس کی اصل آزادی لوٹا دے۔

امن ہی سب سے بڑی فتح ہے۔ امن ہی زندگی ہے۔ جنگ، چاہے کسی بھی نام سے بیچی جائے، ہمیشہ شکست ہی ہوتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button