انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

پاکستان کا سرحد پار دہشت گردی پر فیصلہ کن جواب

چند دن قبل پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ فضائی حملوں میں افغانستان کے تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراساں کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جس میں 80سے زائد شدت پسند مارے گئے ۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوںمیں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے خود کش حملہ آور سمیت فتنہ الخوارج کے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

 

حالیہ کارروائی خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان تعلقات کی نزاکت اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جاری جدوجہد کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے تانے بانے سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے ملتے ہیں اور ان کے سہولت کار افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔افغانستان میں قائم عبوری حکومت، جسے وہ اسلامی امارت افغانستان کے نام سے موسوم کرتے ہیں، پر پاکستان کی جانب سے بارہا زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

taliban-2

پاکستان کا مو قف ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ملک کے خلاف کارروائیوں سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔یہ مو قف بین الاقوامی قانون میں موجودحق دفاع کے اصول سے جڑا ہوا ہے، تاہم اس کی عملی تعبیر ہمیشہ پیچیدہ اور حساس ہوتی ہے۔پاک افغان تعلقات کی تاریخ اتار چڑھائو سے بھرپور رہی ہے۔ سوویت دور سے لے کر نائن الیون کے بعد کی عالمی جنگ تک، افغانستان مسلسل عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنا رہا۔ اس طویل عدم استحکام کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔

لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد، سرحدی علاقوں میں اسلحے اور منشیات کا پھیلائو اور شدت پسند گروہوں کی مضبوطی نے پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کو متاثر کیا۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں افغانستان میں مفاہمتی عمل کی حمایت کی، مذاکرات کی سہولت کاری کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، مگر زمینی حقائق آج بھی پیچیدہ ہیں۔ دوحہ معاہدے کے بعد جب امریکی افواج کا انخلا ہوا اور طالبان نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کو امید تھی کہ افغانستان میں استحکام آئے گا اور سرحد پار دہشت گردی میں کمی ہوگی۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ خدشات بڑھنے لگے کہ کچھ شدت پسند گروہ نئی صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

taliban-2

کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) اوردولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش)کا صوبہ خراسان چیپٹر بی ایل اے سمیت دیگر چھوٹی دہشت گرد تنظیمیں بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ ، موساد اور سی آئی اے کیساتھ ملکرگزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ان تنظیموں نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ذریعے خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حالیہ مہینوں میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں متعدد سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، اور سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوا۔ ضرب عضب اور رد الفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے ریاست نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، مگر مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے۔ دہشت گردی ایک ایسی لعنت ہے جو بدلتی ہوئی حکمت عملی کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔

پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر آچکی ہے، دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض چند منتشر کارروائیاں نہیں بلکہ ایک گہری منصوبہ بندی کے تحت جاری مہم کا حصہ ہیں ۔پاکستان کاازلی دشمن بھارت اپنے اتحادی افغانستان کی سرزمین ا ورہاں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اس پس منظر میں حالیہ حملوں کو ایک وسیع تر جغرافیائی و اسٹرٹیجک تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔جنوبی ایشیا ہمیشہ سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، اس کا ایٹمی طاقت ہونا، چین کے ساتھ اس کے تزویراتی تعلقات، اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کے منصوبے بعض قوتوں کے لیے باعث تشویش رہے ہیں۔

ایسی صورت میں کسی ملک کو براہ راست جنگ میں الجھانے کے بجائے پراکسی عناصر کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا ایک آزمودہ حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل، اسلحہ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے انھیں اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، سکیورٹی تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنائیں تاکہ خوف و ہراس کی فضا قائم ہو اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا سکے۔دہشت گرد ایک طرف فورسز پر حملے کر رہے ہیں تو دوسری طرف عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اس بات کی علامت ہے کہ مقصد صرف عسکری نقصان نہیں بلکہ سماجی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔ دہشت گردی کی حکمت عملی میں نفسیاتی جنگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جب ایک چھوٹے سے علاقے میں بھی ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا پیغام دور دور تک پہنچتا ہے کہ دشمن ہر جگہ موجود ہے۔ یہی وہ نفسیاتی دبائو ہے جو سرمایہ کاری، سیاحت، معاشی سرگرمیوں اور عوامی اعتماد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا اصل ہدف محض جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ ریاستی و معاشی ڈھانچے کو کمزور کرنا بھی ہے۔اس نئی لہر کے اسباب و محرکات کو سمجھنے کے لیے ہمیں داخلی اور خارجی دونوں عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ خارجی سطح پر سب سے اہم عنصر علاقائی رقابت اور پراکسی جنگ ہے۔

خطے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں کبھی یک طرفہ نہیں رہتیں۔ آج اگر کوئی ملک دوسرے کے خلاف پراکسی استعمال کرتا ہے تو کل وہی ہتھیار اس کے اپنے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کو اس خطرناک کھیل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کو اسلحے کی دوڑ نہیں، معاشی تعاون اور انسانی ترقی کی دوڑ درکار ہے۔اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات محض سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور گھروں تک پھیل جائیں گے۔ خوف کا ایسا ماحول جنم لے گا جس میں تخلیقی سوچ، معاشی سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی دم توڑ دے گی۔ سرمایہ کاری رک جائے گی، ہنر مند افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، اور ریاستی وسائل کا بڑا حصہ ترقی کے بجائے سیکیورٹی پر صرف ہوتا رہے گا۔

افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال، سرحدی علاقوں کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت اور قبائلی روابط دہشت گردوں کے لیے نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں۔ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر مکمل عملدرآمد یقینی نہیں بنا پاتی تو اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑتا ہے۔دوسری جانب بھارت کے ساتھ تاریخی کشیدگی، خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں، باہمی اعتماد کی فضا کو کمزور رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں تنائو اور سرحدی جھڑپیں ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہیں جہاں پراکسی عناصر کے استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ” پراکسی جنگ“ کا نتیجہ ہیں۔

ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی قوتیں اب محض اندرونی بے چینی کا مظہر نہیں رہیں بلکہ ایک منظم، کثیرالجہتی اور سرحد پار سے تقویت پانے والی پراکسی جنگ کا چہرہ اختیار کر چکی ہیں۔اسلام آباد کے نواحی علاقے کی امام بارگاہ ، کوئٹہ ، بارکھان، بنوں، پشین سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گرودں کی حالیہ کارروائیوں نے اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت اپنی شکست کے باوجود مکمل طور پر نابود نہیں ہوا، بلکہ نئے چہروں، نئی حکمت عملیوں اور نئے سرپرستوں کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے نام شامل ہیں۔ یہ محض اصطلاحات نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور عسکری رجحان کی علامت ہیں جو ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے، شہریوں میں خوف پھیلانے اور عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ہشت گردی کی حکمت عملی اب دیہی یا قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہی، یہ شہروں کی نفسیات، مارکیٹوں کی رونق اور تعلیمی اداروں کے سکون کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب خطے کی جغرافیائی سیاست ایک بار پھر تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے سرحدی نظم و نسق کو پیچیدہ بنا دیا ہے، پراکسی جنگ کا مفہوم محض اسلحہ فراہم کرنے یا تربیت دینے تک محدود نہیں یہ ایک مکمل بیانیہ کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا، مذہبی جذبات، لسانی محرومیاں اور معاشی ناہمواریاں۔ سب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ اس کا ہدف ریاست کی معیشت، سرمایہ کاری کا ماحول اور عالمی ساکھ بھی ہوتی ہے۔ جب کسی ملک میں بار بار دھماکوں اور حملوں کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں۔ سیاحت، صنعت اور تجارت سب متاثر ہوتے ہیں۔

یوں دشمن بغیر روایتی جنگ کے بھی معیشت کو کمزور کر سکتا ہے۔ بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال صوبے میں اگر امن قائم نہ رہے تو معدنی ذخائر، بندرگاہی امکانات اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے سب غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دشمن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ایف سی کے قلعے پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا محض ایک دہشت گرد کارروائی نہیں بلکہ انتہائی بزدلانہ لیکن ایک منظم، کثیر الجہتی اور تکنیکی طور پر ارتقاءیافتہ جنگ کا اظہار ہے جوافغانستان کی سرزمین کو استعمال کرکے انتہاپسند دہشت گرد قوتیں کے ذریعے پاکستان کے خلاف مسلسل لڑی جارہی ہے۔

ضلع کرک کے بہادر خیل کے علاقے میں پیش آنے والا دہشت گردی کا یہ واقعہ، جس میں ابتدائی ڈرون حملے کے بعد فائرنگ اور ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے جیسے سفاکانہ اقدامات شامل تھے۔اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ نہ صرف عسکری اہداف کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ انسانی اقدار، جنگی اخلاقیات اور ریاستی و حکومتی رٹ کو بھی براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی دوران خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں چار خارجیوں کی ہلاکت اور ان کے بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے تعلق کے انکشاف نے اس وسیع تر منظر نامے کو مزید واضح کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی محض داخلی بے چینی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پراکسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دشمن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ اب روایتی خودکش حملوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال، سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور مقامی سہولت کاری کو یکجا کر کے ایک ہائبرڈ جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ ڈرون حملوں کا رجحان اس نئی جنگی حکمت عملی کا اہم پہلو ہے۔ کواڈ کاپٹر جیسے سستے مگر مو ¿ثر آلات کی مدد سے قلعوں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد گروہ تکنیکی معاونت اور تربیت حاصل کر رہے ہیں۔یہ ٹیکنالوجی مقامی سطح پر آسانی سے دستیاب نہیں، اس کے لیے مالی وسائل، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بیرونی ہاتھ کے شواہد سامنے آتے ہیں۔ پاکستان متعدد بار یہ مو قف اختیار کر چکا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے سرگرم ہے۔

افغانستان کی صورتحال اس تناظر میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ 2021 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اور اس سے قبل دوحا معاہدے میں طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق پیچیدہ ہیں۔پاک افغان سرحدی علاقوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں، جرائم پیشہ مافیاز کی موجودگی، منشیات کی آزادانہ کاشت ، تیاری ، منشیات کا کاروبار، اسلحے کی آزادانہ نقل و حرکت اور نگرانی کے نظام کی کمزوری نے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔دہشت گردوںکے لیے سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں کابل پر قابض انتہاپسند حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے ایک اسٹرٹیجک اثاثہ ہیں۔ پاکستان پر دبائو ڈالنے اور پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک کم لاگت مگر مو ثر حکمت عملی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو مسلسل داخلی سلامتی کے چیلنج میں الجھائے رکھنا ہے۔ یہ پراکسی حکمت عملی محض عسکری نوعیت کی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی مقاصد بھی رکھتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن، مسئلہ کشمیر اور خطے میں چین کا بڑھتا ہوا کردار بھارت کے اسٹرٹیجک حساب کتاب کا حصہ ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی امکانات رکھتے ہیں۔ ان منصوبوں پر حملے دراصل پاکستان کی معاشی شہ رگ کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔ دہشت گردی کے ذریعے اگر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا جائے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہو اور سیکیورٹی اخراجات میں اضافہ ہو تو معیشت پر دبائو بڑھتا ہے۔ یہی وہ ہدف ہے جو دشمن کی پراکسی جنگ کے پیچھے کارفرما دکھائی دیتا ہے۔تاہم خارجی عوامل کے ساتھ ساتھ داخلی کمزوریاں بھی اس مسئلے کا اہم حصہ ہیں۔ دہشت گردی صرف اس وقت پنپتی ہے جب اسے مقامی سطح پر سہولت کاری میسر ہو۔ یہ سہولت کاری نظریاتی ہمدردی، قبائلی یا علاقائی وفاداری، مالی مفاد یا ریاستی اداروں کی کمزور گرفت کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔

بعض علاقوں میں غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کے لیے نرم ہدف بنا دیتی ہے، اگر ریاست ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور سیاسی شمولیت کے دروازے بروقت فراہم نہ کرے تو خلا کو شدت پسند قوتیں پر کر دیتی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ انٹیلی جنس نظام کی بہتری، مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہیں۔قومی ایکشن پلان کا تنقیدی جائزہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی اور مدارس کی اصلاحات جیسے اقدامات شامل تھے۔ ابتدا میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ بعض پہلوئو ں پر عمل درآمد کی رفتار سست پڑ گئی۔ دہشت گردی ایک متحرک خطرہ ہے جو بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، اس لیے پالیسی کو بھی مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔

سائبر اسپیس میں شدت پسند مواد کی روک تھام، کرپٹو کرنسی یا غیر رسمی مالیاتی نظام کے ذریعے فنڈنگ کی نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مو ¿ثر حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔علاقائی سفارت کاری بھی اس جنگ کا اہم محاذ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحدی مینجمنٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور کالعدم تنظیموں کے خلاف مشترکہ اقدامات پر واضح اور دوٹوک بات کرے۔ اسی طرح عالمی برادری کو باور کرانا ضروری ہے کہ خطے میں عدم استحکام کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے، اگر افغانستان ایک بار پھر پراکسی جنگوں کا میدان بنتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔میڈیا اور بیانیے کی جنگ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ خوف اور مایوسی پھیلانا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی خبروں، پراپیگنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں ریاست کو شفاف معلومات، بروقت حقائق اور مثبت بیانیے کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔

علمائ، اساتذہ اور رائے ساز شخصیات کو شدت پسندی کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔دہشت گردی کے معاشی اثرات بھی گہرے ہیں۔ سیکیورٹی پر بڑھتے اخراجات، سرمایہ کاری میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی سست روی قومی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ جب غیر یقینی فضا قائم ہو تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، جو خود شدت پسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔اس شیطانی چکر کو توڑنے کے لیے سیکیورٹی اور ترقی کو ساتھ ساتھ چلانا ہوگا۔ پسماندہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صحت و تعلیم کی سہولیات اور چھوٹے کاروبار کے فروغ سے مقامی آبادی کا ریاست پر اعتماد بڑھے گا۔ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی فوری اقدامات درکار ہیں۔ کائونٹر ڈرون سسٹمز، نگرانی کے جدید آلات اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے خطرات کی پیشگی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

دنیا بھر میں ہائبرڈ وار فیئر کا تصور مضبوط ہو رہا ہے جس میں روایتی جنگ، سائبر حملے، معلوماتی پراپیگنڈا اور پراکسی گروہوں کا استعمال شامل ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی کو اسی تناظر میں جدید بنانا ہوگا۔آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں بلکہ سیاسی قیادت، اہل علم اور بزنس کلاس اور تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی مشترکہ جدوجہد ہے۔دہشت گردی کے مقابلے میں ریاست کو عسکری، سفارتی، معاشی اور سماجی محاذوں پر مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی ،داخلی کمزوریوں کا ادراک، مقامی سہولت کاری کا خاتمہ، علاقائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، یہ سب عناصر ایک جامع پالیسی کا حصہ ہونے چاہئیں۔

دہشت گردی کا مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے نظریاتی، سماجی اور معاشی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اگر نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع میسر نہ ہوں تو شدت پسند بیانیہ انھیں آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ریاست کو ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی جس میں تعلیمی اصلاحات، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت اقدامات اور سوشل میڈیا پر شدت پسند پروپیگنڈے کی روک تھام شامل ہو۔نیشنل ایکشن پلان کو بھی محض کاغذی دستاویز کے بجائے عملی فریم ورک بنانا ہوگا۔ کالعدم تنظیموں کے نام بدل کر کام کرنے کی روایت کا خاتمہ، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع مسدود کرنا اور عدالتی نظام کو مو ¿ثر بنانا بنیادی تقاضے ہیں، اگر گرفتار دہشت گرد ثبوتوں کی کمی یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث چھوٹ جاتے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قربانیاں رائیگاں جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ سرحد پار کشیدگی کا اثر دونوں ممالک کے عوام پر پڑتا ہے۔ سرحدی تجارت متاثر ہوتی ہے، قانونی آمد و رفت میں رکاوٹیں آتی ہیں اور بداعتمادی بڑھتی ہے۔ اس لیے ایک متوازن حکمت عملی ضروری ہے جس میں سختی اور لچک دونوں شامل ہوں۔

جہاں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہو،وہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔ریاست کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی منصوبہ بندی سرحد پار سے ہو رہی ہے لہٰذا اس کا سدباب ناگزیر ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پائیدار امن کے لیے دہشت گردوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سیاسی بصیرت، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان کو داخلی طور پر سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دشمن عناصر کو دراڑیں تلاش کرنے کا موقع نہ ملے۔

پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک مربوط، شفاف اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ عسکری کارروائیاں اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ فکری محاذ پر بھی کام کرنا ہوگا۔ انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ دلیل، تعلیم اور سماجی انصاف کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ شدت پسند بیانیے کے خاتمے کے لیے ایک منصفانہ، شفاف اور مضبوط معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ جذباتیت کے بجائے سنجیدگی سے کام لیا جائے۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، مگر نظریاتی اور مالیاتی نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔شدت پسند بیانیہ، مذہبی یا نسلی جذبات کا استحصال، اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب تک ان فکری جڑوں کو نہیں کاٹا جائے گا، دہشت گردی کی نئی شکلیں سامنے آتی رہیں گی، لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض عسکری کارروائی کافی نہیں۔

ایک ہمہ جہت حکمت عملی ناگزیر ہے جس کے چند بنیادی ستون ہوں،پہلا ستون انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کا مربوط نظام ہے، مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مو ¿ثر بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر مانیٹرنگ کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت، مالی لین دین اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے، باڑ کی تکمیل اور جدید آلات کے استعمال سے دراندازی کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔دوسرا ستون نظریاتی محاذ ہے۔ علما، دانشور، اساتذہ اور میڈیا کو مل کر ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو انتہا پسندی کی فکری بنیادوں کو چیلنج کرے ۔ مذہب کے نام پر تشدد کو بے نقاب کرنا اور آئینی و جمہوری اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نصابِ تعلیم میں تنقیدی سوچ، برداشت اور مکالمے کی ثقافت کو شامل کرنا طویل المدتی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور قومی دھارے میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شدت پسند عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں۔

تیسرا ستون معاشی و سماجی ترقی ہے۔قبائلی اضلاع اور سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو ان کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف ریاست کا ساتھ دیتے ہیں۔ مقامی عمائدین اور کمیونٹی لیڈرز کو امن کمیٹیوں کے ذریعے شامل کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔چوتھا ستون سفارت کاری ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھے اور واضح پیغام دے کہ کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی ناقابل قبول ہے۔ اگر افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے اختلافات ہیں تو انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔پانچواں اور سب سے اہم ستون قومی یکجہتی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو ہوا دینا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔

اگر سیاسی قیادت باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے معاملے پر متحد ہو جائے تو دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنسنی خیزی کے بجائے ذمے دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے۔پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔آج ایک بار پھر اسی عزم، اتحاد اور بصیرت کی ضرورت ہے، اگر ہم نے داخلی استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر لیا، خارجہ محاذ پر فعال سفارت کاری کی اور دشمن کی پراکسی حکمت عملی کو بے نقاب کر کے موثر جواب دیا تو دہشت گردی کی یہ لہر بھی دم توڑ دے گی۔ بصورت دیگر وقتی ردعمل اور جزوی اقدامات اس پیچیدہ خطرے کا مکمل سدباب نہیں کر سکیں گے۔ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ ہم اس چیلنج کو محض سیکیورٹی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ریاستی استحکام، معاشی خود مختاری اور قومی بقا کے تناظر میں دیکھتے ہوئے ایک ہمہ گیر اور مستقل حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button