مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نہایت نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے

کے خلاف شروع کی گئی جنگ اپنے چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے اور حالات تیزی سے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اور امریکی بمباری میں اب تک 786 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ تہران سے لے کر دیگر اہم علاقوں تک شاید ہی کوئی خطہ ایسا بچا ہو جہاں حملے نہ ہو رہے ہوں۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات جہاں امریکی فوجی اڈے اور سفارتی تنصیبات موجود ہیں، شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی شہریوں اور سرمایہ کاروں کے انخلا کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ خطہ گزشتہ برسوں میں عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا تھا، مگر موجودہ صورتِ حال نے اس تاثر کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔

خلیجی ریاستیں طویل عرصے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا محفوظ ترین مقام سمجھی جاتی رہی ہیں۔ دبئی سے لے کر سعودی عرب کے نئے میگا پراجیکٹس تک، ان معیشتوں نے خود کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش بنایا۔ عالمی شخصیات کی موجودگی بھی اسی اعتماد کی علامت تھی۔ مثال کے طور پر معروف فٹبالر Cristiano Ronaldo، جو سعودی کلب Al Nassr FC سے وابستہ تھے، ان کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو خلیجی ممالک کی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ابتدائی طور پر امریکہ کی حکمتِ عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ شدید فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل پروگرام ترک کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ اندازہ بھی لگایا گیا کہ عوام سڑکوں پر نکلیں گے اور نظامِ حکومت کے خلاف تحریک زور پکڑے گی۔ تاہم زمینی حقائق مختلف نظر آ رہے ہیں۔ اب حکمتِ عملی زیادہ سخت ہوتی دکھائی دے رہی ہے مسلسل بمباری کے ذریعے داخلی انتشار، معاشی بحران اور سماجی بے چینی کو ہوا دینا تاکہ حکومت جھکنے پر مجبور ہو جائے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی قیادت کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیادت کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی سے حکومت گرے گی یا مزاحمت مزید شدت اختیار کرے گی؟
ایک اور امکان “بوٹس آن دی گراؤنڈ” یعنی زمینی فوجی مداخلت کا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو صورتِ حال ویسی ہی پیچیدہ ہو سکتی ہے جیسی کبھی افغانستان یا عراق میں دیکھی گئی، جہاں طویل فوجی موجودگی نے امریکہ کو بھاری سیاسی اور معاشی قیمت چکانے پر مجبور کیا۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل اب لبنان کی سمت بھی سرگرم ہے اور متعدد علاقوں کو وارننگ جاری کی جا چکی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio کا یہ بیان کہ پہلا حملہ امریکہ نے نہیں بلکہ اسرائیل نے کیا، واشنگٹن کی پالیسی پر اٹھنے والے سوالات کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
سب سے تشویشناک صورتحال Strait of Hormuz میں دیکھنے کو مل رہی ہے — تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر چوڑی یہ گزرگاہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ یہاں نقل و حرکت متاثر ہونے سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ یورپ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ یورپ پہلے ہی روس سے توانائی کی سپلائی کم کر چکا ہے اور اب زیادہ انحصار امریکہ اور قطر پر ہے۔
اس بحران کا سب سے بڑا اثر ممکنہ طور پر چین پر پڑ سکتا ہے، جو ایران سے سستا تیل خریدتا رہا ہے۔ بعض خبروں کے مطابق ایران نے گزشتہ برس کی جھڑپوں کے بعد امریکی جی پی ایس سسٹم کے بجائے چین کے Beidou سیٹلائٹ سسٹم پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ کویت میں امریکی F-15 طیاروں کے گرنے کی خبر — جسے “فرینڈلی فائر” قرار دیا گیا — نے ٹیکنالوجیکل اور سائبر جنگ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
اگر ایران چینی سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی اور اپنے ڈرون اور میزائیل زخیروں کی مدد سے امریکی اور اسرائیلی اہداف کو موئثر طریقے سے نشانہ بنارہا ہے اور گلف میں موجود پیٹریاٹ جیسے دفاعی نظاموں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہا تو صورتحال بہت مختلف ہو سکتی ہے۔
1990 کی دہائی میں کویت پر حملے نے پورے خطے کی معیشت اور استحکام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آج بھی وہ مکمل طور پر اپنی سابقہ پوزیشن بحال نہیں کر سکا۔ اگر موجودہ جنگ طول پکڑتی ہے تو خلیجی معیشتوں کے لیے بحالی آسان نہیں ہوگی۔ متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ اس کے فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیے جائیں گے، جو اس بات کی علامت ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنی معیشت اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہیں۔
یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ محض عسکری تصادم نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹیجک توازن کی جنگ ہے۔ امریکی صدر Donald Trump اور اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کی پالیسیوں کے باہمی تعلق پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکہ ایک ایسے مرحلے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں پیچھے ہٹنا بھی مشکل ہے اور آگے بڑھنا بھی خطرات سے خالی نہیں۔ اگر یہ تنازع طویل ہوا تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست کو بھی گہرائی سے متاثر کریں گے۔ دنیا کی نظریں اب آنے والے دنوں پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارت کاری کو موقع ملے گا یا جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔



