ایٹمی پاکستان پر قرضوں کا بوجھ، حکمران غریب مکائو مشن پر گامزن
رپورٹ: محمد قیصر چوہان

حکمر انوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ایٹمی پاکستان آج قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا ہے۔ پاکستان دجالی تنظیم فری میسن کے ایجنٹ سامراجی طاقتوں کی گرفتار میں اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ اقتصادی آزادی کا تصور بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ قرضوں کی معیشت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کے لیے زندگی عذاب بنادی ہے۔ پاکستان پر مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے ہے، 26 ہزار ارب بیرونی اور 55 ہزار ارب روپے مقامی قرض ہے گویا 25 کروڑ کی آبادی کے حساب سے فی کس قرض 3 لاکھ 25 ہزار روپے بنتا ہے، اس اعتبار سے آج ہر پاکستانی 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہے۔ پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے بلند وبانگ دعوے کرنے والے تمام حکمرانوں نے پاکستان کو عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے چنگل میں بہت ہی بری طرح سے پھنسا دیا ہے۔
حکمرانوںکے اقدامات نے غریب کو خود کشی کرنے پرمجبور کر دیا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کی اتحادی حکومت میں غریب اور متوسط طبقے کی زندگی روزانہ کی بنیاد پر بدترین اور مشکل ہوتی جارہی ہے جبکہ سرمایہ دار و اشرافیہ پھل پھول رہے ہیں۔موجودہ وزیراعظم شہبازشریف نے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ دلجمعی کے ساتھ آئی ایم ایف کی غلامی کرتے نظر آرہے ہیں، اور وہ جیسے جیسے کہہ رہا ہے اس کے مطابق عوام کا گلا دبایا جارہا ہے، عوام کی کھال اتارنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے آئی ایم ایف سے داد لی جاہی ہے۔ ملک دشمنی پر مبنی جن سخت شرائط پر قرضہ لیا گیا ہے ان کی وجہ سے آئندہ آنے والے دنوں میں قوم کو مزید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی حالیہ دستاویزات میں موجودہ حکومت کی جانب سے ابتدائی دو سال میں لیے جانے والے قرضے کی جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ حیران کن بھی ہیں اور فکر انگیز بھی۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کے ابتدائی دوسال کے دوران قرضوں میں پندرہ ہزار بہتر ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت کے قرضوں میں یہ اضافہ مارچ دو ہزار چوبیس سے لیکر فروری دوہزار چھبیس کے دوران ہوا، قرضوں میں اوسطاً ہر روز تقریباً اکیس ارب روپے کا اضافہ بنتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کی بنیاد پر مارچ 2024 سے لیکر فروری 2026 کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 14 ہزار 4 ارب روپے اور وفاقی حکومت کے بیرونی قرضوں میں ایک ہزار 68 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد وفاقی حکومت کا قرضہ فروری 2026 تک بڑھ کر 79 ہزار 882 ارب روپے ہوا جبکہ نگران حکومت کے آخری مہینے فروری 2024 تک وفاقی حکومت کے قرضوں کا حجم 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کی جانے والی دستاویزا ت سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان پر مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے ہے، 26 ہزار ارب بیرونی اور 55 ہزار ارب روپے مقامی قرض ہے گویا 25 کروڑ کی آبادی کے حساب سے فی کس قرض 3 لاکھ 25 ہزار روپے بنتا ہے، اس اعتبار سے آج ہر پاکستانی 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہے۔ فروری 2026 تک مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70 فی صد سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایک طرف حکومت قوم کو معاشی ترقی کا مژدہ سناتی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے مگر دوسری جانب اعداد وشمار اس کی نفی کرتے ہیں۔
ملک کی معیشت پر مسلسل قرضوں کا بڑھتا ہوا یہ بوجھ تشویش ناک بھی ہے اور معیشت کی نمو کے لیے خطرناک بھی، جب بھی قرض لیا جاتا ہے تو اس کی ادائیگی کے میں سود کی اضافی رقم بھی دینی پڑتی ہے، پاکستان پہلے ہی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سود کی مد میں ادا کر رہا ہے۔ حکومت کی موجودہ معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہور ہے ہیں، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے، روپے کی قدر مسلسل گھٹ رہی ہے، مہنگائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، عوام کی قوت خرید دم توڑ رہی ہے، عوام کی رہی سہی کسر پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے پوری کردی گئی ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی معیشت کے استحکام، صنعتوں کے فروغ، انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور ایکسپورٹ کے لیے بحالت مجبوری قرض کا سہارا لینا پڑتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر ان قرضوں کی نوبت ہی کیوں آرہی ہے اور قرض کی یہ رقم خرچ کہاں کی جارہی ہے؟ کیا یہ قرض معیشت کی ترقی کے لیے لیا جارہا ہے یا حکومتی شاہانہ اخراجات اور مراعات کے لیے؟ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ قرضوں پر جو معیشت چلائی جارہی ہے اس سے ملک میں معاشی ترقی تو ناپید ہے مگر حکمرانوں کی عیاشیاں عروج پر ہیں۔
حکومت جن مالیاتی اداروں سے قرض لیتی ہے، وہ ادارے کڑی شرطوں پر قرض تو فراہم کر دیتے ہیں مگر ان قرضوں کا سارا بوجھ غریب عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ملک کے موجودہ اقتصادی منظر نامے کو کسی بھی طور معاشی ترقی کے لیے درکار حکمت عملی سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر یہی صورتحال برقرار ہی تو ملکی معیشت پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہے گا، عوام مہنگائی اور بے روزگاری کا عذاب سہتے رہیں گے، بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں خرچ ہوتا رہے گا، مہنگائی پھلتی پھولتی رہے گی، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا رہے گا۔ معاشی خود مختاری کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔
اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ دستاویزات میں قرضوں میں اضافے کی تفصیلات اس امر کی کھلی نشاندہی ہے کہ حکومت اپنے اخراجات اپنی آمدنی سے پورے نہیں کر رہی، بجٹ خسارے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یہ کوئی عام اضافہ نہیں، قرضوں میں اس تیزی سے اضافہ اس امر کی حقیقت پر دال ہے کہ ملک اپنی معیشت پر نہیں بلکہ قرضوں کی معیشت پر چلائی جارہی ہے۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ معاشی ترقی کے لیے حکمرانوں کے پاس کوئی عملی، ٹھوس اور سنجیدہ منصوبہ بندی تک نہیں۔
عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف سے حاصل کئے گئے قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کے لیے اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ پاکستان میں عام آدمی دو وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا ہے۔ ملک کا آدھے سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے حکومت کے پاس فنڈز دستیاب نہیں ہوتے، قرضوں کے باعث ہر پاکستانی آج تینلاکھ پچیس ہزار روپے کا مقروض ہوچکا ہے ان قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہم اپنے موٹر ویز، ایئرپورٹس اور دیگر قومی اثاثے قرضہ دینے والے ممالک اور عالمی اداروں کو گروی رکھواچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم مقروض ہیں اور اس قرض میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔
آئی ایم ایف امداد کرنے نہیں بلکہ قرض دینے آتا ہے اور قرض کی واپسی سود کے ساتھ ہوتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم تاحال صر ف سود ہی ادا کررہے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی تک ابھی پہنچے ہی نہیں۔ قرضوں کی معیشت نے ہمارے حکمراں طبقہ کو بدعنوان بنایا ہے اور اس عمل نے سیاسی آزادی کو بھی غلامی میں تبدیل کردیا ہے جس کی وجہ سے زندگی کے کسی بھی شعبے سے متعلق نظام عصر حاضر کے فساد اور علاج کا ادراک کرنے والی قیادت کی تخلیق کرنے سے بھی قاصر ہوچکا ہے۔ ساری سیاست محض نعرہ بازی کے گرد گھوم رہی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کے دلال سیاست دان مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت جلد ہی ترقی کا نیا موڑ مڑے گی اور تمام تر غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پاکستان کے محنت کش عوام برسوںسے یہی جھوٹ سنتے آ رہے ہیں۔
ان کی زندگی ہر روز تلخ ہوتی جا رہی ہے اور بیروزگاری کا عفریت تیزی سے محنت کش طبقے کے ہر گھر کو معاشی دیوالیہ پن میں دھکیل رہا ہے۔ جبکہ اس دوران حکمرانوں کی دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ منافعوں کی ہوس میں کروڑوں عوام کو روندتے چلے جا رہے ہیں۔ایسے میں سامراجی مالیاتی اداروں کے گماشتہ حکمران جھوٹ کے نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔اس وقت تمام معاشی اشاریے سرنگوں ہیں اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔روپے کی قدر اپنی تاریخ کی پست ترین سطح پر اور بے روزگاری ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو پہنچ چکی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کے حکم پر مہنگائی بڑھا کر عوام کا خون نچوڑکر غربت بڑھاﺅ ،غریب مکاﺅ مشن پر گامزن ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وزراءکی دل خوش کن باتیں اور یقین دہانیاں سن سن کر مہنگائی کے ہاتھوں پسے عوام کے کان پک گئے ہیں۔ دوسری طرف چینی، آٹے کا بحران ہو یا ایل این جی خریدنے کا معاملہ،مافیاز ہر شعبے میں پوری طرح من مانی کررہے ہیں، کرپشن اور عوامی نمائندوں کے اثاثوں میں جس رفتار سے اضافہ ہوا اُس کی ماضی میں مثال ملنا مشکل ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں جس قسم کی بدحالی ہے اس میں ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی شامل ہے، اور اپوزیشن کو عالمی کھلاڑیوں یا ملک کے اصل حکمرانوں کی طرف سے ان مظالم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غم و غصے کو کنٹرول کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے، اور وہ عوامی ایشوز پر کچھ نہیںکرتے۔ اتنی زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری ہوگئی ہے لیکن کوئی مزاحمتی عوامی تحریک کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ لیکن یہ صورت حال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی، اور عوام کا غم و غصہ انتہاﺅں کو پہنچ رہا ہے۔
مہنگائی کے حقائق انتہائی تلخ ہیں، دنیا میں اپوزیشن سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما کہاں غائب ہیں، بعض نے اپنی انجمنیں بنائی ہیں، ٹی وی پر باتیں کرتے ہیں، ان کی ترقی پسندی خاموش ہے، دل میں بے تاب تمنا کا کوئی شعلہ بھی نہیں، حکمران جماعت مہنگائی کی تاویلیں پیش کر کے جرم غریبی پر لوگوں کے دل جلاتے ہیں، محنت کشوں کی خوئے اجتماعیت کو شاید دیس نکالا دیا جاچکا ہے، ہمارے تمام سیاست دان ، سول سوسائٹی، مزدور تنظیمیں عوام کی نگہبانی کی جمہوری روایت فراموش کرچکی ہیں، ان کی خاموشی جمہوری عمل کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عوام دوستی پر مبنی سیاسی کلچر کی اساس اجتماعی جمہوری روایات کے دم سے قائم رہتی ہے، پاکستانی نظریاتی سیاست میں عوام کی شمولیت تھی تو حکومت کسی چیز کے نرخ بڑھانے سے پہلے اس سے پیدا ہونے والے ردعمل پر سوچتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے، یہ مہنگائی اپنا تسلسل اس جواز میں ڈھونڈتی ہے کہ صرف عوام سے کہا جاتا ہے کہ وہ مہنگائی پر احتجاج کرے، کوئی حکومت و ریاست سے روزگار کے بنیادی حق کی فراہمی پر بھی تو سوال کرے، اقتدار کا مزہ لوٹنے والی سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیدار دکھاوے کے لیے سہی لیکن مہنگائی کے بارے عوام کا ساتھ تو دیں۔
تاریخ ساز مہنگائی کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کا سڑکوں پر نہ آنے کی وجہ سے ان ظالم حکمرانوں کے حوصلے بہت بلند ہو گئے ہیں اور وہ طاقت کے نشے کے ساتھ عوام پر تاریخ کا بدترین جبر اور ظلم کرنے میں مصروف ہیں۔
حکومت کے وزیروں کی جانب ملکی معیشت مضبوط ہونے کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بولنے کے باوجود بڑھتی ہوئی مہنگائی کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی، ویسے ہی مہنگائی کچھ کم نہ تھی کہ اب پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے غریب کا دو وقت کا چین چھین لیا گیا ہے، کیا کھائیں، کیا پکائیں، گرمی میں دو وقت پنکھا چلا لیں تو یہ بڑی بات ہے، مگر بجلی اور گیس کا بل آسمانوں سے باتیں کرنے لگ جاتا ہے، جہاں دیکھو بجلی اور گیس کے بلوں کے رونے دکھائی دیتے ہیں اور ظاہر ہے حق حلال کی کمائی میں بھی گھر کا خرچ اور بجلی کے بل پورے نہ ہوں تو کیسے غریب کی چیخیں نہیں نکلیں گی؟۔
ملک میں سیاسی ابتری اور معاشی انتشار نے قوم کو بہ حیثیت مجموعی مصائب میں نہیں ڈالا بلکہ ہر گھر میں پریشانیوں، اندیشوں اور مخمصوں کی فضاءمسلط کر دی ہے۔ خواتین مردوں سے زیادہ اذیت میں ہیں۔ غریب گھرانوں میں چولہے جلانے کے لیے اگرچہ دونوں کو محنت کرنی پڑتی ہے تاہم عورتوں کی ذمے داریوں کا دائرہ مردوں سے کئی گنا زیادہ وسیع تر ہے۔گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کے معاملات وہ اضافی بوجھ ہے کہ جسے نہ چاہنے کے باوجود اٹھانے پر مجبور ہیں گویا ان کی فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے۔ عورتوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ عالمی منڈیوں میں تیل، سونے اور گندم کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے ملک کی معیشت پر منفی اثر ڈالتا ہے، وہ تو بس اتنا جانتی ہیں کہ انھوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا اور تن ڈھانپنا ہے۔
انھوں نے ایک وقت کا کھانا کھایا ہے اور دوسرے وقت کے کھانے کی امید نہیں ہے۔ان کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہیں والدین انھیں پڑھا نہیں سکتے۔ چھوٹی عمر ہی میں وہ گھر کی کفالت کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔ مائیں دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو پونچھتی ہیں جب بچے ان کی ہتھیلی پر دن بھر کی کمائی چند روپوں کی صورت میں رکھتے ہیں۔ بیماریاں ان لوگوں کے گھروں میں مکینوں کی طرح ڈیرہ جمائے رکھتی ہیں۔ صاف پانی کا حصول ان لوگوں کا خواب ہے۔ بس زندگی سے کندھا رگڑتے رگڑتے وہ اپنے دن پورے کر لیتے ہیں۔مہنگائی اتنی ہے کہ پیٹ کا ایندھن بجھانے میں ساری مشقت صرف ہو جاتی ہے۔ سفید پوش پاکستانیوں کے لیے اپنے ہم وطنوں کی سنگدلی اور بددیانتی پر مبنی رویے سے جنم لینے والی ہوشربا مہنگائی جینامشکل کردیتی ہے۔
ایسی دلخراش خبریں بھی آتی ہیں کہ نئے کپڑے نہ ملنے پر بچے نے خودکشی کرلی، کہیں باپ اس معصومانہ فرمائش پر خود اپنے ہاتھوں بچوں کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔ملک کی موجودہ صورتحال میں حکومت بجٹ خسارے کا بوجھ عوام پر ڈالتی چلی جا رہی ہے اور دولت مند افراد پر ٹیکس لگانے کی بجائے غربت میں پسے ہوئے عوام کا خون مزید نچوڑ رہی ہے۔ جہاں پٹرول اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا پر ٹیکس لگایا جارہا ہے وہاں سرکاری اداروں کی لوٹ مار پر مبنی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے۔
پاکستان کی معیشت کی حالت یہ ہے کہ قرضوں اور ان پر سود واپس کرنے کے لیے بھی قرضے لیے جاتے ہیں۔ اس کا تمام تر بوجھ بھی دولت امند افراد پر ٹیکس لگانے کی بجائے عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے، پاکستان کے عوام صرف انتہائی مہنگی بجلی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں قرضوں کی واپسی کی اہم ذمہ داری نبھائیں گے۔ جس کے نتیجے میں عوام مزید غربت اور محرومی میںدھنس جائے جائیں گے ۔آئی ایم ایف کے غلام حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پہلے ہی تقریباً ہر سرکاری اور نجی ادارے میں محنت کش طبقہ شدید پریشان ہے اور حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت اور غم و غصہ موجود ہے۔
نجی صنعتی اداروں میں بھی سرمایہ داروں کے ظالمانہ ہتھکنڈوں اور تیزی سے بڑھتے ہوئے استحصال کے خلاف شدید غم و غصہ موجود ہے۔ فیکٹری حادثات میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہو چکا ہے اور آئے روز کسی نہ کسی صنعتی ادارے میں حادثے کے باعث مزدور جاں بحق ہو رہے ہیں۔ آنے والے عرصے میں اس سارے عمل میں شدت آئے گی اور طبقاتی کشمکش میں اضافہ ہو گا۔اس سارے عمل میں پورے ملک میں ایک بھی سیاسی پارٹی ایسی نہیں جو سرمایہ دارانہ معیشت کے اس گھناونے کھلواڑ کے خلاف آواز بلند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ درحقیقت سیاسی افق پر موجود تمام پارٹیاں اس معیشت سے اپنا حصہ بٹور رہی ہیں۔ اسی لیے مختلف ایشوز کو ابھارا جاتا ہے جنہیں کنٹرولڈ میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اسی کو تمام سیاست قرار دیا جاتا ہے۔
میڈیاپرچوبیس گھنٹوں حکمرانوں کی فروعی لڑائیوں، ججوں کے مگرمچھ کے آنسوئوں والے بیانات اور جرنیلوں کی پھرتیوں کے قصے سنائے جاتے ہیں۔شہباز شریف کی حکومت آنے کے بعد مہنگائی میں جتنا اضافہ ہوا ہے وہ گزشتہ پچیس سال میں بھی نہیں ہوا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے اوپر ہمیشہ ایسے حکمراں مسلط رہے ہیں جن کو عوام اور ان کے حقوق سے کبھی دلچسپی نہیں رہی، یہی وجہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود پاکستان کے عوام بھوک، فاقہ کشی، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے عذاب کا شکار ہیں، اور یہ عذاب اسی وقت ختم ہوسکتا ہے جب اس ملک میں اہل اور ایمان دار لوگ حکمراں بنیں، لہٰذاپاکستانی عوام کو چاہیے کہ وہ سرمایہ داروں، وڈیروں، چودھریوں، جاگیرداروں کو آئندہ الیکشن میں مسترد کردیں ،کیونکہ پاکستان کی غریب عوام کے لیے بہتر زندگی کا حصول سرمایہ دارانہ نظام کی جکڑ بندیوں میں موجود نہیں ہے ۔
اس کے لیے عوام کو آئی ایم ایف سمیت تمام سامراجی مالیاتی اداروں کی سود پر مبنی معیشت کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں، سرمایہ داروں، جاگیر داروں اور بینکاروں کی دولت ضبط کرنی ہوگی۔ موجودہ استحصالی ریاست اور اس پر براجمان کرپٹ جرنیلوں،ججوں، وزیروں، ممبرا ن پارلیمنٹ، بیوروکر یٹوں اور حکمران طبقے کے دیگر کرپٹ افراد کا قلع قمع کرنا ہو گا ۔
یہ سب صرف عوامی انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد ہی قرضوں اور ان کے سود کا یہ گھن چکر،مہنگائی، بیروزگاری، محرومی اور غربت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گااور پاکستان کی غریب عوام کوسرمایہ درانہ نظام کی غلامی سے نجات حاصل ہو گی۔



