مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسی کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں طاقت، مفادات اور عالمی سیاست ایک دوسرے سے الجھتی نظر آتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ خطہ صرف جغرافیہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک بساط کا اہم ترین مہرہ رہا ہے۔ جب بھی دنیا کی بڑی طاقتوں کے مفادات ٹکراتے ہیں تو اس کے اثرات سب سے پہلے اسی خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ آج ایک بار پھر حالات اسی سمت میں بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
Iran کے گرد بڑھتی ہوئی سیاسی اور فوجی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کے لیے بھی ایک نیا امتحان بن گئی ہے۔ ایک طرف United States اپنی عالمی حکمت عملی کے تحت دباؤ کی پالیسی کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب Israel اپنی سلامتی کے خدشات کو بنیاد بنا کر ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس پوری صورتحال میں سفارت کاری اور طاقت کے درمیان ایک پیچیدہ توازن پیدا ہو گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحران نے خود امریکہ کے اندر بھی ایک اہم آئینی اور سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار بنیادی طور پر کانگریس کے پاس ہے، لیکن عملی طور پر صدور اکثر فوجی کارروائیوں کے فیصلے خود کرتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ اسی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ کئی ارکان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے سے پہلے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہے۔ تاہم یہ قرارداد معمولی فرق سے مسترد ہو گئی جس کے نتیجے میں صدر کو اپنی حکمت عملی جاری رکھنے کا راستہ مل گیا۔
یہ صورتحال دراصل امریکہ کے اندر طاقت کے توازن کی ایک پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے۔ کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر امریکہ کی طاقت کا اظہار ضروری ہے، جبکہ دوسرے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مسلسل فوجی مداخلتیں واقعی امن اور استحکام لاتی ہیں یا وہ نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہیں۔
سابق امریکی صدر Donald Trump کے بیانات نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ایران کی موجودہ قیادت پر سخت تنقید کی بلکہ یہاں تک کہا کہ امریکہ کو ایران کے مستقبل کی قیادت کے حوالے سے بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ عالمی سفارت کاری میں اس قسم کے بیانات غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں کیونکہ کسی خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب تہران اس صورتحال کو اپنی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اس کے فوجی اور اسٹریٹیجک اثاثوں پر حملوں کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کی خبریں اس خدشے کو مزید بڑھا رہی ہیں کہ یہ تنازعہ کسی بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اگر اس صورتحال کو وسیع تر جیوپولیٹیکل تناظر میں دیکھا جائے تو Middle East طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز رہا ہے۔ توانائی کے وسیع ذخائر، اہم سمندری راستے اور خطے کی جغرافیائی اہمیت وہ عوامل ہیں جو بڑی طاقتوں کو یہاں مسلسل متحرک رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ہونے والی ہر کشیدگی عالمی معیشت اور عالمی سیاست دونوں کو متاثر کرتی ہے۔
عالمی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر طاقت کے اظہار کے طور پر شروع ہوتی ہیں لیکن ان کے نتائج نسلوں تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ عراق اور افغانستان جیسے تنازعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشروں، معیشتوں اور انسانی زندگیوں کو دہائیوں تک متاثر کرتے ہیں۔
آج دنیا ایک بار پھر اسی سوال کے سامنے کھڑی ہے کہ کیا طاقت کے استعمال سے مسائل واقعی حل ہوتے ہیں یا یہ صرف نئے تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے جیوپولیٹیکل مفادات کی جنگ کو جاری رکھتی ہیں تو اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت طاقت کے مظاہرے سے زیادہ حکمت، سفارت کاری اور سیاسی بصیرت کی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں وقتی برتری تو دے سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف مذاکرات اور اعتماد کے ذریعے ہی قائم ہوتا ہے۔ دنیا کو آج یہی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ طاقت کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتی ہے یا امن کی سیاست کو۔



