انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

مشرق وسطیٰ کے بادلوں تلے سلگتی دنیا

بازغہ چشتی

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جو صدیوں سے تہذیبوں، مذاہب اور طاقت کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ اس سرزمین نے جہاں انسانی تاریخ کے عظیم ادوار کو جنم دیا، وہیں یہ علاقہ مسلسل تنازعات، جنگوں اور سیاسی کشیدگی کا بھی گواہ بنتا رہا ہے۔ آج بھی جب دنیا کے نقشے پر نظر ڈالی جائے تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے خطے کے طور پر دکھائی دیتا ہے جہاں امن کی امیدیں بار بار جنم لیتی ہیں مگر طاقت کی سیاست اور مفادات کی جنگ انہیں بار بار کچل دیتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس خطے میں پیدا ہونے والی جنگی کشیدگی نے نہ صرف مقامی ممالک کو متاثر کیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔

middle-east

مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی جڑیں صرف موجودہ حالات میں نہیں بلکہ تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سلسلے میں پیوست ہیں۔ نوآبادیاتی دور کے بعد جب مختلف ریاستیں وجود میں آئیں تو سرحدوں کی تقسیم اور اقتدار کی کشمکش نے کئی ایسے مسائل کو جنم دیا جو وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔ مذہبی، نسلی اور سیاسی اختلافات نے اس خطے کو ایک ایسے میدان میں تبدیل کر دیا جہاں ہر طاقت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والا ہر بحران چند ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کرتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران نے ایک بار پھر دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ اس خطے کا امن صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب یہاں جنگ کے آثار گہرے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیل جاتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کی معیشتیں اس خطے کے تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر ہلچل عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور معاشی عدم استحکام اسی کشیدگی کا نتیجہ بنتے ہیں۔

فائل فوٹو

اس تمام صورتحال میں طاقت کی عالمی سیاست بھی ایک اہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ بے حساب دولت اور طاقت رکھنے کے باوجود بعض طاقتور ممالک کی پالیسیاں دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ دولت اور طاقت کے حصول کے لالچ نے امریکہ اور اسرائیل کو اس حد تک اندھا کر دیا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے دور رس اثرات کو نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی ہٹ دھرمی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور عالمی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خود کو سپر پاور کہنے والے یہ بھی بھول گئے ہیں کہ طاقت کے نشے میں وہ نہ صرف دنیا بلکہ اپنے اپنے خطوں کو بھی تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں۔

فائل فوٹو

تاریخ کا ایک اصول ہے کہ ہر طاقت عارضی ہوتی ہے اور ہر چیز فانی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اقتدار اور سلطنتیں وقت کے ساتھ مٹی میں مل چکی ہیں۔ مگر طاقت اور دولت کی ہوس میں مبتلا قیادت اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ مقافاتِ عمل بھی ایک حقیقت ہے۔ انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے جب کھلے عام انہی حقوق کو پامال کرتے ہیں تو یہ تضاد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ مظلوموں اور بے قصور عوام پر ظلم ڈھانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ کا پہیہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں گھومتا۔

iranian-attack-on-israel-1

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بڑے انسانی المیے کو بھی جنم دیا ہے۔ جنگ کے سائے میں زندگی گزارنے والے لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کی روزمرہ زندگی خوف، بے یقینی اور محرومی سے عبارت ہو چکی ہے۔ تباہ حال شہر، اجڑی بستیاں اور مہاجرین کے کیمپ اس خطے کی تلخ حقیقت کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ایک پوری نسل ایسی ہے جو بچپن سے ہی جنگ، دھماکوں اور عدم تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ان بچوں کی آنکھوں میں مستقبل کے خوابوں کی جگہ خوف اور بے یقینی نے لے لی ہے۔

iran

عالمی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ طاقتور ممالک اکثر اپنے مفادات کے مطابق اصولوں کی تشریح کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کا دعویٰ کرنے والے جب خود طاقت کے استعمال سے کمزور اقوام کو دبانے لگیں تو دنیا کے سامنے ایک عجیب تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ دنیا سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینے کا دعویٰ کرنے والے اگر خود ہی طاقت کے بل پر خوف اور تباہی کو فروغ دیں تو یہ عمل عالمی انصاف کے تصور کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طاقت کے نشے میں مبتلا ذہن کبھی حقیقت کا سامنا کر سکیں گے اور کیا تاریخ ان کے اعمال کا حساب نہیں لے گی۔

دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچ کی آواز کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر اسے ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ طاقتور حلقے کبھی کبھی یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ اختلاف کی ہر آواز کو خاموش کر سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسانی ضمیر کو مکمل طور پر قید نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کے ساتھ وہ آوازیں پھر ابھرتی ہیں اور معاشروں کو نئی سمت دینے کا سبب بنتی ہیں۔

آج کی دنیا میں ایک امید نوجوان نسل بھی ہے۔ دنیا بھر کے نوجوان جنگ اور نفرت کے بجائے امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتے ہیں جہاں طاقت کا استعمال تباہی کے لیے نہیں بلکہ تعمیر کے لیے ہو۔ نئی نسل یہ سمجھ چکی ہے کہ مسلسل جنگوں اور تنازعات کے ذریعے کسی بھی خطے میں دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی سوچ مستقبل میں عالمی سیاست کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین صرف جنگ کی کہانیوں تک محدود نہیں ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں انسانی تہذیب کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں، جہاں علم، ثقافت اور روحانیت کے عظیم مراکز وجود میں آئے۔ اگر اس خطے کو امن کا موقع دیا جائے تو یہی زمین دوبارہ انسانیت کے لیے امید اور ترقی کی علامت بن سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کی سیاست کے بجائے انسانیت اور انصاف کو ترجیح دی جائے۔

فائل فوٹو

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم اور ناانصافی ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ جنگ کے بادل جتنے بھی گہرے کیوں نہ ہوں، ایک دن چھٹ جاتے ہیں اور روشنی اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے عوام بھی اسی امید کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ان کی سرزمین پر بارود کی بو کے بجائے امن کی خوشبو پھیلے گی اور آنے والی نسلیں خوف اور جنگ کے سائے کے بغیر ایک روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکیں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button