عوام پر مزید بوجھ ڈالنے والے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے:سہیل آفریدی
شدید مخالفت نظر انداز،وزیراعلیٰ کا قاسم علیشاہ ،آصف محسود،عثمان بیٹنی،خورشید خٹک،افتخار جان سمیت مزید 14ارکان کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد:(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایوانِ صدر میں قومی اور عالمی بحران کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی موقف واضح کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر صرف پاکستان کی خاطر اس اجلاس میں شرکت کی ہے، تاہم ہم نے واضح کر دیا ہے کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے والے کسی بھی فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے۔سہیل آفریدی نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1375 ارب روپے سے زائد کا این ایف سی ایوارڈ جاری نہیں کیا جا رہا، جو کہ صریحاً آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین کی اس پامالی پر مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ سابق فاٹا کے عوام کا حق دوسرے صوبے کھا رہے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔عالمی تنازعات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو کسی بھی بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم انسدادِ دہشتگردی کیلئے اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ انہوں نے اپنے دور میں او آئی سی کے دو اہم اجلاس بلائے تھے، لہٰذا ہمیں اب بھی او آئی سی کے پلیٹ فارم پر انحصار کرنا چاہئے۔صوبائی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے سیلاب کے دوران وفاق سے کوئی مالی مدد نہیں لی تھی اور حالیہ رمضان میں اپنے وسائل سے 100 ارب روپے کا رمضان پیکیج عوام کو دیا۔
اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر سہیل آفریدی نے کہا کہ مختلف صوبوں کی آراء تقسیم ہونے کی وجہ سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں۔
سہیل آفریدی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر بچت اور کفایت شعاری کے ذریعے حاصل ہونے والا پیسہ براہِ راست عوام پر خرچ کیا جائے گا، تب ہی ایسے اقدامات کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو قربانی کا بکرا بنانے سے پہلے حکمران اپنی شاہ خرچیاں ختم کریں تاکہ ملک کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچ سکے۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شدید مخالفت کے باوجود خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کافیصلہ کرلیا، کابینہ میں مزید 14 ارکان کو شامل کیا جائے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق پشاور سے سابق وزیر صحت، سوشل ویلفیئر و عشر زکوٰۃ سید قاسم علی شاہ کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جنوبی وزیرستان سے آصف محسود، ٹانک سے عثمان بیٹنی، کرک سے خورشید خٹک کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، کابینہ توسیع میں چارسدہ سے افتخار اللہ جان، مردان سے طارق آریانی اور احتشام خان کو شامل کیا جائے گا۔دیر سے ہمایوں خان، سوات سے میاں شرافت علی، مالاکنڈ سے پیر مصور کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ہزارہ ڈویژن سے افتخار جدون اور اکرام غازی کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، کابینہ میں الیکشن میں ہارے دو ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا۔خیبرپختونخوا کابینہ توسیع کا نوٹی فکشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔



