
حیدرآباد :(ویب ڈیسک)سیشن کورٹ و ماڈل کریمنل کورٹ دادو کے ایڈیشنل سیشن جج نے میہڑ میں قانون کی معروف بہادر طالبہ ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے نہایت سفاکانہ تہرے قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا تے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا، 8 سال تک مختلف عدالتوں میں مقدمہ زیر سماعت رہا جس میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اور چانڈیو قبیلے کے سردار سردار احمد چانڈیو،بھائی برہان علی چانڈیو سمیت 8 بااثر افراد ملزم نامزد تھے۔
میہڑ شہر میں 17جنوری 2018 کو دن دیہاڑے ڈی ایس پی آفس اور دو تھانوں سے کچھ فاصلے پر مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ام رباب چانڈیو کے دادا یو سی چیئرمین کرم اﷲ چانڈیو، والد تمن دار کونسل کے چیئرمین مختار چانڈیو اور چچا ضلع کونسل کے ممبر قانون کے طالب علم قابل حسین چانڈیو کو نہایت سفاکی سے قتل کر دیا تھا۔
مقتولین کے گارڈز کی جوابی فائرنگ سے حملہ آوروں میں سے ایک دہشت گرد غلام قادر چانڈیو بھی مارا گیا تھا تاہم باقی فرار ہو گئے تھے۔امِ رباب چانڈیو نے تہرے قتل کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔
عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے امِ رباب چانڈیو نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا تاہم عوام حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں، ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ میں اس جدوجہد میں سرخرو ہو چکی ہوں اور انصاف کے حصول کے لیے میرا عزم برقرار ہے، کسی ایک ملزم کو سزا نہ ہونا عجیب ہے، وہ ملزمان جو 3 سالوں تک روپوش رہے ان کو بھی سزا نہیں ہوئی، یہ کیس میرے گھر تک محدود نہیں تھا، یہ کیس جاگیرداری نظام کے خلاف مظلوم عوام کی جدوجہد پر مشتمل تھا، آج ہمارے حوصلے مزید بلندہوئے ہیں۔
پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں،میرے حوصلے پہلے بھی بلند تھے اور آج بھی بلند ہیں۔امِ رباب کے وکیل صلاح الدین پنہور نےکہا سرداری نظام کے خلاف 3 لوگوں کا دن دہاڑے قتل ہوا، کیس میں 3 گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے، اتنے شواہد پر ہماری نظر میں سزا ہوسکتی تھی۔



