انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

3 طیارے تباہ، ایران کا اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار

48گھنٹے جنگ بندی کی تجویز مسترد

واشنگٹن، تہران، بیروت، کویت سٹی (ویب ڈیسک) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی قیادت میں علاقائی ممالک کی کوششوں کا حالیہ دور اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران، اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ثالثوں کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں اور یہ کہ امریکہ کے مطالبات ناقابل قبول ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیے اور مصر اب بھی اس حوالے پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے نئے مقامات جن میں قطر کا دارالحکومت دوحہ یا ترکیے کا شہر استنبول شامل ہیں پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ تعطل ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔
ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران نے 48گھنٹے کی جنگ بندی کی امریکی تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باوجود واشنگٹن سفارتی مذاکرات کے لیے تیار ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی شہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی نئی دھمکیاں دی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے انٹرویو میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ سے قبل ایران سے مذاکرات چاہتے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں مگر امریکہ اپنے اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھے گا، واشنگٹن نے ایران پر خطے میں شہری مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ مزید برآں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے وہ جب چاہیں بڑی آسانی کے ساتھ اور کسی کی مدد کے بغیر بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتے ہیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ تھوڑا سا مزید وقت ملے تو ہم آسانی سے آبنائے ہرمز کو کھول سکتے ہیں، تیل حاصل کر سکتے ہیں اور بڑی کمائی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ اقدام دنیا کے لیے بہت بڑی معاشی روانی ثابت ہوگا۔
ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگلے اہداف پل اور پھر پاور پلانٹس ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہی کہ شہری انفرا سٹرکچر پر امریکی حملوں سے ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کے روز ایک اور امریکی لڑاکا طیارہ ایف 35جدید دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا۔ امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران نے ایف۔35 طیارہ مار گرایا ہے جس کے پائلٹ کی تلاش کا کام جاری ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو یہ بات نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی پائلٹ کی تلاش میں جاری امریکی ریسرچ آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے تباہ ہونے والے امریکی لڑاکا طیارے کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ مقامی ایرانی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایرانی فورسز نے امریکی پائلٹ کو تحویل میں لے لیا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ مزید برآں جنوبی ایران میں بھ ایک ایف 15ای لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا۔ بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس کے مطابق طیارے کے عملے کا ایک رکن امریکی فورسز نے ریسکیو کر لیا ہے۔ جبکہ ایف 15ای میں عام طور پر دو افراد کا عملہ ہوتا ہے۔
وائٹ ہائوس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس صورتحال پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔ خلیج فارس کے علاقے میں بھی امریکی A۔10لڑاکا طیارہ تباہ ہوا، پائلٹ کو ریسکیو کرلیا گیا۔ ادھر ابوظہبی کے حبشان گیس تنصیبات پر حملہ ناکام بنانے کے بعد ملبے کے گرنے سے ایک مصری شہری جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے۔
زخمی ہونے والوں میں دو مصری اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔ ادھر کویت کی بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ ہوا ہے جس سے کئی آپریشنل یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بھی متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمینی و فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔ صیہونی فوج نے چوبیس گھنٹے میں حزب اللہ کے 40ارکان کو شہید کرنے اور اسلحہ ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ضلع نباتیہ میں حملے سے ایک ہی خاندان کے 4افراد شہید ہوگئے۔ مزید برآں ایران اور اس کی اتحادی مزاحمتی فورسز نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جوابی آپریشن وعدہ حق 4کی 93ویں لہر کے دوران فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے اندر موجود اسرائیلی فوجی اڈوں کو نہایت مہارت کے ساتھ نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس شدید حملے کے دوران مغربی جلیل، حیفہ، کفر کنا اور کریوت میں صہیونی افواج کے جمع ہونے کے مقام اور جنگی سپورٹ سینٹرز کو انتہائی مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور گائیڈڈ ہتھیاروں، اور خودکش ڈرونز کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا۔ ادھر امریکہ اور اسرائیل کی شمالی تہران میں شہید بہشتی یونیورسٹی اور دارالحکومت کے مغربی حصے میں مہر آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف بمباری سے تین شہری شہید ہوگئے جبکہ بوشہر میں امدادی سامان کے گودام پر حملہ کیا گیا، دو کنٹینرز، دو بسیں اور کئی گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پلوں، اہم انفرا سٹرکچر اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا، سٹیل پروڈکشن کی ایرانی صلاحیت ستر فیصد تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔مزید برآں ایران نے تباہ ہونے والے امریکی طیاروں سے متعلق ریسکیو آپریشن کے لیے جانے والے دو امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز اور ایک ڈرون کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل نے ایران پر کیے جانے والے اپنے پہلے طے حملوں موخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button