انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

اسلام آباد مذاکرات اور عالمی سیاست کا نیا موڑ

تحریر: عاصم رضا خیالوی

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں میدانوں میں شروع ہوتی ہیں مگر ان کا اختتام اکثر مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔ اپریل 2026 میں جب دنیا کی نظریں ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز تھیں، اسی دوران جنوبی ایشیا کے ایک شہر نے عالمی سفارتکاری کا مرکز بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ شہر تھا Islamabad جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم سفارتی مکالمہ شروع ہوا جس کا مقصد جنگ کے بادلوں کو چھانٹنا اور ایک ممکنہ امن کی راہ تلاش کرنا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اس وقت خطرناک مرحلے میں داخل ہوئی جب خطے میں فوجی کارروائیوں اور سیاسی تصادم نے عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس کشیدگی کا سب سے حساس پہلو وہ سمندری راستہ تھا جسے عالمی توانائی کی شہ رگ کہا جاتا ہے، یعنی Strait of Hormuz۔ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے اور اس کی بندش نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے شدید بحران پیدا کر سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی کوشش کی۔ یہ مذاکرات تقریباً اکیس گھنٹے تک جاری رہے اور ان میں امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر JD Vance کر رہے تھے۔ دوسری جانب ایرانی وفد میں اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں جن میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf اور وزیر خارجہ Abbas Araghchi نمایاں تھے۔
پاکستانی قیادت نے اس سفارتی عمل میں پل کا کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم Shehbaz Sharif، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ Ishaq Dar اور چیف آف آرمی اسٹاف Asim Munir نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے ماحول کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عالمی مبصرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی اس خواہش کا اظہار تھا کہ وہ خطے میں ایک فعال اور ذمہ دار سفارتی قوت کے طور پر ابھرے۔
مذاکرات کے دوران کئی اہم اور حساس مسائل زیر بحث آئے۔ سب سے بڑا مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام تھا۔ واشنگٹن کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ ایران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ یورینیم افزودگی پر سخت پابندیوں اور عالمی نگرانی کے نظام کو بھی ضروری سمجھتا ہے جس کے لیے International Atomic Energy Agency کی سخت نگرانی کی تجویز پیش کی گئی۔
ایران کا مؤقف اس معاملے میں مختلف ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنا ہر خودمختار ریاست کا حق ہے اور یورینیم افزودگی کا پروگرام اس کی قومی خودمختاری کا حصہ ہے۔ یہی اختلاف مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا۔
اقتصادی پابندیاں بھی ایک اہم مسئلہ تھیں۔ ایران طویل عرصے سے امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے واپس کیے جائیں۔ اس کے برعکس امریکہ کا مؤقف ہے کہ پابندیوں میں نرمی صرف اس صورت ممکن ہے جب ایران مرحلہ وار طور پر اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ ہو اور اس کی مکمل تصدیق بھی ممکن ہو۔
اسی طرح خطے میں ایران کے اثر و رسوخ اور اس کے دفاعی پروگرام پر بھی بحث ہوئی۔ واشنگٹن ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب ایران ان مطالبات کو اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری میں مداخلت سمجھتا ہے۔
مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر JD Vance نے اعلان کیا کہ دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی تھیں اور لچک بھی دکھائی تھی، مگر ایران ان شرائط کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ امریکہ کے غیر معقول مطالبات تھے۔
اگرچہ یہ مذاکرات فوری معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، مگر ان کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے مکالمے کا دروازہ بند نہیں کیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے تنازعے کا حل ایک ہی ملاقات میں ممکن نہیں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات نے ایک اور اہم حقیقت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ عالمی سیاست میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑے تنازعات صرف بڑی طاقتیں ہی حل کر سکتی ہیں، مگر اس موقع پر پاکستان نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کر کے یہ ثابت کیا کہ علاقائی ممالک بھی عالمی امن کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آج کی دنیا میں جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی، تجارت اور سیاسی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ اسی لیے عالمی طاقتیں بھی اس حقیقت کو سمجھتی ہیں کہ اختلافات چاہے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا ہی سب سے بہتر راستہ ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ سفارتی کوشش اگرچہ کسی فوری معاہدے پر ختم نہیں ہوئی، لیکن اس نے ایک اہم پیغام ضرور دیا ہے:
جب دنیا جنگ کے سائے میں کھڑی ہو تو امن کی امید ہمیشہ کسی نہ کسی میز پر ہونے والے مکالمے سے ہی جنم لیتی ہے۔
اور شاید یہی وہ حقیقت ہے جو آنے والے وقت میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی توانائی کے توازن اور بین الاقوامی سفارتکاری کی سمت کا تعین کرے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button