انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

شام کے سائے میں بجھتی معیشت

کالم نگار: طاہر امبر

پاکستان کی گلیوں بازاروں اور چھوٹے شہروں کی دھڑکن شام کے وقت تیز ہوتی ہے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دن بھر کی تھکن کے بعد لوگ گھروں سے نکلتے ہیں بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور چھوٹے دکاندار اپنی روزی کی آخری امیدیں سمیٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں مگر حالیہ حکومتی اقدامات جن کے تحت دکانیں رات آٹھ بجے بند کروائی جا رہی ہیں نے اس دھڑکن کو جیسے اچانک سست کر دیا ہے سوال یہ نہیں کہ بجلی بچانی ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا ہم معیشت بچاتے بچاتے انسان کو ہی نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی informal شعبے پر مشتمل ہے وہ دکاندار جو نہ کسی بڑی کمپنی کا حصہ ہیں نہ ہی کسی مالیاتی تحفظ کے حامل ان کی دنیا صرف روز کی کمائی تک محدود ہوتی ہے ان کے لیے شام کا وقت کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہی وہ گھڑی ہوتی ہے جب گاہکوں کا ہجوم بڑھتا ہے اور کاروبار اپنے عروج پر پہنچتا ہے مگر جب اسی وقت پر پابندی لگا دی جائے تو گویا ان کے ہاتھ سے وہ آخری سہارا بھی چھین لیا جاتا ہے۔

حکومت کے نزدیک یہ اقدام بظاہر ایک معاشی حکمت عملی ہے بجلی کی بچت درآمدی ایندھن میں کمی اور مالی خسارے پر قابو پانے کی ایک کوشش لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی یک رخی نہیں کیا اس میں اس مزدور کا درد شامل ہے جو دن بھر گرمی میں محنت کر کے شام کو چند سو روپے کمانے کی امید رکھتا ہے کیا اس میں اس چھوٹے تاجر کی پریشانی شامل ہے جس کے لیے ہر گھنٹہ قیمتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی تضاد بھی سامنے آتا ہے حکومت کا خیال ہے کہ اوقات کار محدود کرنے سے توانائی کی کھپت کم ہو جائے گی مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے جیسے ہی دکانیں بند ہوتی ہیں لوگ گھروں میں محدود ہونے کے بجائے سڑکوں پر نکل آتے ہیں موٹر سائیکلوں کا شور بازاروں کے چوک اور ہوٹلوں کی رونق یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی رویے کو صرف احکامات سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا نتیجہ یہ کہ نہ تو رش کم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بچت حاصل ہوتی ہے جس کی توقع کی جا رہی ہوتی ہے۔

معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ پالیسی ایک ایسے مریض کے علاج جیسی ہے جس میں درد کو وقتی طور پر دبایا جا رہا ہو مگر بیماری کی جڑ کو نظر انداز کیا جا رہا ہو اصل مسئلہ توانائی کا بحران ہے پیداوار کی کمی ہے اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے اگر ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر صرف اوقات کار محدود کیے جائیں تو یہ ایک عارضی بندوبست سے زیادہ کچھ نہیں۔

مزید برآں اس پالیسی کا سب سے بڑا بوجھ اس طبقے پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے امیر طبقہ یا بڑے کاروبار کسی نہ کسی طرح اس صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آن لائن تجارت ذخیرہ اندوزی یا متبادل ذرائع کے ذریعے مگر ایک چھوٹا دکاندار ایک ریڑھی والا یا ایک مزدور ان کے پاس ایسا کوئی متبادل نہیں ان کے لیے تو یہ فیصلہ زندگی اور فاقہ کشی کے درمیان لکیر بن جاتا ہے
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پالیسی سازی میں اکثر زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ایوانوں میں بیٹھ کر کیے گئے فیصلے جب گلیوں اور بازاروں میں نافذ ہوتے ہیں تو ان کا اثر بالکل مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام میں بے چینی بڑھتی ہے اعتماد کم ہوتا ہے اور پالیسی اپنی افادیت کھو بیٹھتی ہے۔

تو پھر حل کیا ہے کیا حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے ہرگز نہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ فیصلے یک طرفہ نہیں بلکہ متوازن ہوں اگر توانائی بچانی ہے تو اس کے لیے متبادل ذرائع جیسے شمسی توانائی کو فروغ دیا جائے اگر رش کم کرنا ہے تو اوقات کار کو محدود کرنے کے بجائے تقسیم کیا جائے اور سب سے بڑھ کر چھوٹے کاروبار کے لیے خصوصی رعایتیں اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔

ریاست کا اصل کام صرف اعداد و شمار کو بہتر بنانا نہیں بلکہ عوام کی زندگی کو آسان بنانا ہے اگر کسی پالیسی سے چند فیصد بجلی تو بچ جائے مگر ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں تو یہ سودا کسی طور بھی دانشمندانہ نہیں کہلا سکتا بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ معیشت صرف گراف اور رپورٹوں کا نام نہیں بلکہ یہ انسانوں کی زندگیوں سے جڑی ایک حقیقت ہے اگر اس حقیقت کو نظر انداز کیا جائے تو ہر پالیسی چاہے وہ کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ بنائی گئی ہو ناکامی کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہے۔

شام کے یہ سائے صرف اندھیرے کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کی کہانی بھی سناتے ہیں جو اپنے ہی بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے سوال اب بھی وہی ہےکیا ہم روشنی بچاتے بچاتے زندگی کی حرارت کھو رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button