انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پتھرکا انسان

بے لگام / ستار چوہدری

میں ایک مرد ہوں۔۔۔۔!!مجھے بچپن سے سکھایا گیا کہ مضبوط رہو، ٹوٹو نہیں، گرجاؤ تو اٹھو، مگرروؤ نہیں۔۔۔۔ وقت گزرتا گیا۔۔۔۔ اور میں مضبوط کم اور پتھر زیادہ بنتا گیا۔۔۔۔ میں نے سیکھ لیا کہ آنسو چھپانے کا نام مردانگی ہے۔۔۔۔ اور درد کو اندردفن کر دینا ہی اصل ہنر ہے۔۔۔۔ میں اپنی ماں کے سامنے نہیں رو سکتا،کیونکہ مجھے ڈر ہے، وہ کہے گی،میرا بیٹا کمزور ہو گیا ہے۔۔۔۔ اورمیں اپنی ماں کے دل میں اپنے لیے کمزوری کا خیال بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔

میں اپنے باپ کے سامنے نہیں رو سکتا، کیونکہ مجھے لگتا ہے وہ کہیں گے،رونا مردوں کا کام نہیں۔۔۔۔۔ اورمیں اپنے باپ کی نظروں میں ناکام مرد بن کرنہیں جینا چاہتا۔۔۔۔ میں اپنی بہن کے سامنے بھی نہیں رو سکتا، وہ میرے کندھے پرسررکھ کر شاید رو دے گی، مگر میرے درد کا بوجھ پھر بھی کم نہیں ہوگا۔۔۔۔ اورمیں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے ٹوٹا ہوا دیکھے۔۔۔ دوستوں کے سامنے۔۔۔۔۔؟ نہیں۔۔۔۔ وہ ہنسیں گے، مذاق بنائیں گے۔۔۔۔ اور پھر یہ درد میری کمزوری کی کہانی بن جائے گا۔۔۔۔ تو پھر میں کہاں روؤں۔۔۔۔؟۔۔۔۔ میں، وہ مرد ہوں جو ہنستا بھی ہے اور اندر ہی اندر ٹوٹتا بھی ہے،جو سب کے دکھ سنتا ہے، مگر اپنا دکھ کسی کو نہیں سناتا،جو دوسروں کے لیے مضبوط ستون ہے، مگر خود اپنے اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔

ہمیں سکھایا گیا کہ مرد لوہا ہوتا ہے، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ لوہا بھی زنگ کھا جاتا ہے، اگر اسے وقت پر مرمت نہ ملے۔۔۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بس کسی کے سامنے بیٹھ جاؤں۔۔۔۔ اور بغیر وجہ، بغیر وضاحت، بس رو دوں۔۔۔۔ مگر لفظ ’’مرد‘‘ مجھے اجازت نہیں دیتا۔۔۔۔ اور شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے مردانگی کو جذبات کا انکار بنا دیا ہے، حالانکہ انسان ہونا ہی جذبات کو قبول کرنا ہے۔ میں ایک مرد ہوں۔۔۔!!

اورمیں رونا چاہتا ہوں، مگر مجھے سکھایا گیا ہے کہ مجھے نہیں رونا چاہیے۔۔۔ میں اکثرسوچتا ہوں کہ اگر آنسوؤں کو چھپانے کی یہ تربیت نہ ملی ہوتی تو میں کیسا ہوتا۔۔۔۔؟۔۔۔ شاید میں زیادہ ہلکا ہوتا۔۔۔۔ شاید کم تھکا ہوا ہوتا۔۔۔۔ شاید راتوں کو جاگ کر خاموشی سے خود سے لڑ نہ رہا ہوتا۔۔۔۔ مگر اب تو حالت یہ ہے کہ میں اپنے ہی اندر ایک عدالت لگا بیٹھا ہوں۔۔۔۔ جہاں میں ہی جج ہوں، میں ہی ملزم، اور میں ہی وکیل بھی۔۔۔۔ اورہربار فیصلہ یہی آتا ہے ’’ خاموش رہو‘‘ ۔۔۔۔ خاموشی۔۔۔۔ جو پہلے مجبوری تھی، اب عادت بن چکی ہے۔۔۔۔ اورعادتیں انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے خالی کر دیتی ہیں۔۔۔۔

کبھی کبھی لگتا ہے میں لوگوں کے درمیان نہیں، دیواروں کے درمیان چل رہا ہوں ۔۔۔۔ اور ہر دیوارمجھے یہی کہتی ہے ،مضبوط رہو۔۔۔۔۔ اور میں سوچتا ہوں، کیا واقعی مضبوطی یہی ہے کہ انسان ٹوٹ کر بھی آواز نہ نکالے۔۔۔۔؟ میرے اندر بھی ایک بچہ ہے، وہ بچہ، جو ابھی بھی کسی کے گلے لگ کر رونا چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھے اور کہے، بس، اب ٹھیک ہے۔۔۔۔ مگر میں نے اسے بھی سمجھا دیا ہے کہ یہ دنیا ایسے نہیں چلتی، یہاں رونے کی اجازت کمزوروں کو نہیں دی جاتی۔۔۔۔ اور پھر سب سے عجیب بات، جب رات گہری ہوتی ہے۔۔۔ اور سب سو جاتے ہیں، تو وہی مضبوط مرد ٹوٹ کر بستر پر خاموش پڑا ہوتا ہے، نہ کوئی دیکھنے والا، نہ کوئی سننے والا، بس ایک دل ہوتا ہے جو خود سے سوال کرتا رہتا ہے۔۔۔’’ آخر تم کب تک ایسے ہی رہو گے۔۔۔۔؟ ‘‘۔۔۔اور جواب ہمیشہ خاموشی ہوتی ہے۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ جو ’’مردانگی‘‘ کا لفظ ہے نا، یہ ایک خوبصورت سا خول ہے، مگر اندر سے یہ خول آہستہ آہستہ انسان کو کھا جاتا ہے۔ میں نے زندگی میں بہت سے مرد دیکھے ہیں۔ کچھ ہنستے ہوئے، کچھ خاموش، کچھ غصے میں۔۔۔ اور کچھ بالکل بے حس ،مگر اب سمجھ آتا ہے کہ بے حسی اکثر درد کی آخری شکل ہوتی ہے۔۔۔۔ میں بھی اسی راستے پر چل پڑا ہوں شاید جہاں احساسات شور نہیں کرتے، بس دم توڑ دیتے ہیں۔۔۔۔ سب کہتے ہیں ،زندگی آگے بڑھتی ہے۔۔۔۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ کچھ لوگ آگے بڑھتے ہوئے اندر ہی اندر پیچھے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔ جسم چلتا رہتا ہے، مگر دل کہیں ایک جگہ رکا رہتا ہے۔۔۔۔ میں نے بھی خود کو مصروفیوں میں دفن کرنا سیکھ لیا ہے، تاکہ سوال کم ہوں۔۔۔۔ اور جواب دینے کی نوبت ہی نہ آئے،مگر رات کو جب سب آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، تو وہ سوال پھر زندہ ہو جاتے ہیں جو دن میں مرے ہوئے لگتے ہیں۔

کبھی دل کرتا ہے کسی اجنبی کے سامنے بیٹھ جاؤں، ایسے اجنبی کے سامنے جس سے کوئی رشتہ نہ ہو، کوئی توقع نہ ہو، کوئی فیصلہ نہ ہو،بس ایک انسان ہو اور دوسرا انسان۔۔۔۔ اور درمیان میں صرف خاموشی ٹوٹے، نہ کہ دل، مگر میں نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ لوگ کمزوری دیکھ کر قریب نہیں آتے، وہ دوری اختیار کر لیتے ہیں۔۔۔۔ اور شاید اسی خوف نے مجھے اور بھی بند کر دیا ہے، اب حالت یہ ہے کہ میں ہنستا بھی ہوں تو احتیاط کے ساتھ، بولتا بھی ہوں تو حساب کے ساتھ ۔۔۔ اور محسوس بھی کرتا ہوں تو اجازت لے کر۔۔۔۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ میں خود کو ہی نہیں بتا پاتا کہ مجھے تکلیف ہے۔۔۔ کیونکہ اگر میں نے خود مان لیا، تو شاید یہ دیواریں گر جائیں جن کے پیچھے میں نے خود کو چھپا رکھا ہے۔
میں ایک مرد ہوں۔۔۔!!
اورمیں اب یہ بھی نہیں جانتا کہ میں واقعی مضبوط ہوں، یا صرف عادتاً خاموش ہوں۔۔۔۔ آج بھی میں ویسا ہی ہوں۔ وہی مرد۔۔۔۔ جو ہنستا بھی ہے، بولتا بھی ہے، اور چلتا بھی ہے۔۔۔ مگر اندر کہیں ایک جگہ میں رک گیا ہوں۔۔۔۔ اب فرق صرف یہ ہے کہ میں نے شکایت کرنا بھی چھوڑ دی ہے۔۔۔۔ نہ کسی سے، نہ خود سے۔۔۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ دنیا کو مضبوط لوگ پسند ہیں۔۔۔۔ اور مضبوط لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے اندر چاہے طوفان چل رہا ہو، مگر چہرہ پرسکون رہے۔۔۔ مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس پرسکون چہرے کے پیچھے کتنی چیخیں دفن ہیں۔۔۔۔ کتنے لفظ ہیں جو کبھی بولے نہیں گئے۔۔۔۔ کتنے آنسو ہیں جو آنکھوں تک آئے مگر باہر نکلنے کی ہمت نہ کر سکے۔۔۔۔ کبھی کبھی آئینے میں خود کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے، یہ میں نہیں ہوں۔۔۔۔ یہ کوئی اور ہے جو میری جگہ زندگی گزار رہا ہے۔۔۔۔ میں تو شاید کہیں بہت پہلے مر گیا تھا۔۔۔۔بس دفن ہونا باقی رہ گیا تھا۔۔۔۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نہیں کہ میں ٹوٹ گیا ہوں، تکلیف یہ ہے کہ میں نے ٹوٹنے کی آواز بھی کسی کو نہیں دی۔۔۔

نہ ماں کو پتہ چلا، نہ باپ کو، نہ بہن کو، نہ دوستوں کو۔۔۔ سب سمجھتے رہے کہ میں مضبوط ہوں۔۔۔۔ اور میں نے بھی کسی کو یہ غلط فہمی دور نہیں کرنے دی۔۔۔۔ کیونکہ میں جانتا تھا، اگر میں نے سچ بتا دیا ،تو سب کہیں گے،ہمیں اندازہ نہیں تھا تم اتنے کمزورہو۔۔۔ اور شاید میں یہ جملہ سننے کی ہمت کبھی نہیں رکھتا تھا۔۔۔ آج اگر کوئی پوچھے کہ سب سے بڑا دکھ کیا ہے۔۔۔؟ تو میں شاید کچھ نہ کہوں، بس ایک لمبی خاموشی ہو۔۔۔۔ اوراس خاموشی کے اندرایک آوازہو جو باربار یہی کہے۔۔۔۔ کاش کسی نے صرف ایک بار پوچھا ہوتا۔۔۔ ’’ کہ تم واقعی ٹھیک ہو‘‘ ۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button