انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

افغان حکمرانوں کے بھارت،اسرائیل سے روابط؟

شاہد جاوید ڈسکوی/ دستک

مشرف دور میں ایک روز جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد مرحوم میرے گھر تشریف لائے۔ وہ اس وقت ممبر قومی اسمبلی تھے۔ ان کے ہمراہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی مولانا شجاع الملک اور بلوچستان کے چند جید علماء بھی موجود تھے، جو تازہ تازہ افغانستان کے دورے سے واپس آئے تھے۔

اس زمانے میں افغانستان میں ملا محمد عمر کی حکومت قائم تھی۔ ان علماء نے اپنے دورۂ افغانستان کی جو روداد سنائی، اس سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا وہاں خلافتِ راشدہ کی عملی جھلک دکھائی دے رہی ہو۔ ہم نے جتنے بھی اہلِ علم سے اس دور کے افغانستان کے بارے میں سنا، تقریباً سبھی کی یہی رائے تھی تاہم آج جب ہم ملا عمر کے افغانستان کا موازنہ موجودہ دور، یعنی ملا ہیبت اللہ کے افغانستان سے کرتے ہیں تو زمین آسمان کا فرق نمایاں نظر آتا ہے۔

اس وقت اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں تھا جو دینِ اسلام سے حقیقی محبت رکھتے تھے، جبکہ آج افغانستان کی باگ ڈور ایسے عناصر کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے جن کے فیصلوں پر اسلام کاغلبہ کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا صرف مفادات کا گہرا سایہ نظر آتاہے۔ ان کے طرزِ عمل نے یہ ثابت کیا وہ بدترین احسان فراموش ہیں،اسی لئےوہ اصولوں کے بجائے مصلحتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کے روابط ہندوستان اور اسرائیل ایسے ممالک کے ساتھ ہیں جنہیں عالمِ اسلام کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ دہشتگرد تنظیموں کے "پشتی بان” بنے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر اقوام متحدہ سمیت کئی اہم اداروں نے اپنی رپورٹس میں نام نہاد امارت اسلامی افغانستان کے مکروہ چہرے سے نقاب ہٹایا ہے۔

اب امریکی تحقیقاتی ادارےمڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر نام نہادامارتِ اسلامی افغانستان کے دعووں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس حقیقت کو دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ نظام دراصل شدت پسندی، تشدد اور عدم استحکام کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ یہ رپورٹ محض چند انکشافات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل عکاسی ہے اس فکری، تنظیمی اور عملی ڈھانچے کی جس کے ذریعے طالبان نے اقتدار حاصل کیا اور اب اسے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی قیادت کا 20 فیصد سے زائد حصہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جو ماضی میں بم دھماکوں، خودکش حملوں اور منظم دہشتگردی کی کارروائیوں کے ماسٹر مائنڈ رہے ہیں۔ یہ ایک نہایت سنگین اور تشویشناک حقیقت ہے کہ جن لوگوں کا ماضی معصوم انسانوں کے قتل، عبادت گاہوں پر حملوں اور عوامی مقامات پر خونریزی سے جڑا ہوا ہو، وہی آج ایک ریاستی نظام چلا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف افغانستان کے اندر امن و استحکام پر سوالیہ نشان لگتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بج جاتی ہے۔

افغان میڈیا رپورٹس نے اس صورتحال کو مزید واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں سے 13 سے 14 اہم شخصیات اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں عبوری وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی جیسے کلیدی عہدوں پر فائز افراد بھی شامل ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جن پر ماضی میں دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط، شدت پسند سرگرمیوں کی سرپرستی اور عالمی امن کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں طالبان سے وابستہ 135 افراد اور 5 اداروں کا شامل ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک یا دو افراد تک محدود نہیں بلکہ پورا نظام ہی عالمی سطح پر مشکوک اور ناقابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت ان افراد کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں، ان پر سفری پابندیاں عائد ہیں اور اسلحے کے حصول پر بھی سخت قدغن لگائی گئی ہے۔ اس کے باوجود یہ عناصر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر خود کو ایک جائز اور قابلِ قبول حکومت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ایک اور نہایت سنگین پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف عالمی اور علاقائی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہیں سے پاکستان کے خلاف دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ہونے والے متعدد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین اب بھی دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، مگر طالبان حکومت اس بنیادی اصول پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔ اسلام کے نام پر قائم کیے گئے اس نظام کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ اس نے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔ اسلام امن، رواداری، عدل اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے جبکہ طالبان کا طرزِ عمل اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل، خوف و ہراس پھیلانا اور ریاستی طاقت کو تشدد کے لیے استعمال کرنا صریح طور پر“فساد فی الارض” کے زمرے میں آتا ہے، جس کی اسلام میں سخت ترین مذمت کی گئی ہے۔

ایک ایسی حکومت جس کی قیادت کا بڑا حصہ ماضی کے دہشتگرد نیٹ ورکس سے جڑا ہوا ہے، جس کے اہم وزراء عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں اور جس کی سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس خطرے کا سدباب کرے۔اسی طرح مسلم دنیا کے علماء اور دانشوروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوٹوک انداز میں اس بیانیے کو مسترد کریں جو اسلام کے نام پر تشدد اور انتہاپسندی کو فروغ دیتا ہے۔

طالبان کا یہ طرزِ حکومت نہ صرف سیاسی طور پر ناکام ہے بلکہ اخلاقی اور دینی اعتبار سے بھی کسی جواز کا حامل نہیں۔یہ وقت ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ نام نہاد "امارتِ اسلامی افغانستان” دراصل ایک ایسا نظام ہے جو امن نہیں بلکہ عدم استحکام کو جنم دے رہا ہے اور جب تک اس حقیقت کا ادراک کر کے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button