انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

مزدور دشمن قوانین اور مزدور تحریک!!

تحریر: آئمہ محمود

یومِ مئی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ دنیا بھر کے محنت کشوں کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کے اعتراف کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج جو بھی مزدور حقوق ہمیں میسر ہیں وہ کسی خیرات کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہیں۔ پاکستان میں بھی ہر سال یکم مئی کو اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کیا جائے اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مزدوروں کے مسائل کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں محض معاشی عوامل نہیں بلکہ قانونی اور آئینی پہلوؤں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ بظاہر لیبر قوانین مزدوروں کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں مگر عملی طور پر اکثر یہ قوانین ایسے طریقے سے نافذ کیے جاتے ہیں جو مزدوروں کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرتے ہیں اور مزدور تحریک کو تقسیم کا شکار بنا دیتے ہیں۔
آئینِ پاکستان مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 17 ہر شہری کو انجمن سازی کا حق دیتا ہے جس میں ٹریڈ یونین بنانے کا حق بھی شامل ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 18 ہر شہری کو جائز روزگار اختیار کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے لیے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 37(e) ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے منصفانہ اجرت، مناسب کام کے حالات اور سوشل سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ آئینی ضمانتیں عملی طور پر بھی نافذ ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ آئینی اصولوں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک واضح خلیج موجود ہے۔ مزدوروں کو یونین بنانے کا حق تو حاصل ہے لیکن عملی طور پر اس حق کو استعمال کرنا نہایت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ نجی اداروں میں یونین سازی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے مزدور رہنماؤں کو دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اور بعض اوقات انہیں ملازمت سے بھی فارغ کر دیا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے نافذ لیبر کوڈ میں ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں جو بظاہر انتظامی بہتری کے نام پر لائی گئی ہیں لیکن ان کا اثر یونین کی اجتماعی سودا کاری اور حقوق کی جدوجہد کو محدود کرنے کی صورت میں سامنے آئیں گے مثال کے طور پر مستقل ملازمت کے تصور کو کمزور کرنا، ٹھیکیداری نظام کو فروغ دینا اور مزدوروں کو مختلف زمروں میں تقسیم کرنا یہ تمام اقدامات مزدور طبقے کو منتشر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قانون ہمیشہ غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ قانون کو اس انداز میں بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ وہ طاقت کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھے۔ جب لیبر قوانین مزدوروں کی مشاورت کے بغیر بنائے جائیں تو وہ درحقیقت مزدوروں کے تحفظ کے بجائے ان پر کنٹرول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایسے قوانین کا مقصد مزدوروں کی آواز کو منظم ہونے سے پہلے ہی کمزور کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار محنت کش طبقے پر ہے۔ فیکٹریوں، کھیتوں، تعمیراتی شعبے، کان کنی، ٹرانسپورٹ اور خدمات کے شعبوں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر یہی طبقہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ کم اجرت، بے قابو مہنگائی، غیر رسمی روزگار، سوشل سیکیورٹی سے محروم اور کام کی جگہ پر عدم تحفظ یہ سب مسائل اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر مسئلہ مزدوروں کی اجتماعی طاقت کا کمزور ہونا ہے۔
غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد پاکستان میں بہت زیادہ ہے اور یہ وہ طبقہ ہے جو تقریباً مکمل طور پر قانونی تحفظ سے محروم ہے نہ ان کے پاس ملازمت کا تحریری معاہدہ ہوتا ہے نہ ہی انہیں پنشن، ہیلتھ انشورنس یا دیگر سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ایسے مزدور کسی بھی وقت ملازمت سے فارغ کیے جا سکتے ہیں اور ان کے پاس قانونی چارہ جوئی کے مؤثر ذرائع بھی موجود نہیں ہوتے۔
خواتین مزدوروں کی صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ انہیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ کام کی جگہ پر ہراسانی، غیر محفوظ ماحول اور بنیادی سہولیات کی کمی کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 مرد و عورت کے درمیان مساوات کی ضمانت دیتا ہے لیکن عملی طور پر یہ مساوات کہیں نظر نہیں آتی۔ زچگی کی چھٹی، ڈے کیئر سہولیات اور محفوظ ماحول جیسی بنیادی ضروریات بھی اکثر خواتین کو میسر نہیں ہوتیں۔
چائلڈ لیبر کا مسئلہ بھی بدستور موجود ہے جو آئین اور بین الاقوامی معاہدوں دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ غربت، تعلیم کی کمی اور کمزور نفاذ کے باعث لاکھوں بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں جو ان کے مستقبل کو تاریک کر رہا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مزدوروں کی اجتماعی جدوجہد کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ جب مزدور منظم نہ ہوں یونینز کمزور ہوں اور قوانین ان کے حق میں نہ ہوں تو استحصال کا راستہ خود بخود ہموار ہو جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا حل کیا ہے سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مزدوروں کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی لیبر قانون نہ تو مؤثر ہو سکتا ہے اور نہ ہی منصفانہ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لیبر قوانین کی تشکیل میں مزدوروں، ٹریڈ یونینز اور نمائندہ تنظیموں کو شامل کرے۔ یہ نہ صرف آئینی اصولوں کے مطابق ہوگا بلکہ اس سے قوانین پر عملدرآمد بھی بہتر ہوگا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ یونین سازی کے حق کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔ آرٹیکل 17 کی روح کے مطابق مزدوروں کو بلا خوف و خطر منظم ہونے کا حق دیا جائے اور اس حق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سب سے اہم ہے کہ کم از کم اجرت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور اسے مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے۔ “لیونگ ویج” کا تصور اپنایا جائے تاکہ مزدور صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔
غیر رسمی شعبے کو قانونی دائرے میں لانا بھی نہایت ضروری ہے۔ تمام مزدوروں کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے اور انہیں سوشل سیکیورٹی، صحت اور پنشن کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
کام کی جگہ پر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لیبر انسپکشن کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
آخر میں ٹریڈ یونینز کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ذاتی مفادات اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ جدوجہد کو فروغ دینا ہوگا خواتین ورکرز کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہو گا کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ مزدوروں نے جب بھی متحد ہو کر جدوجہد کی وہ اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
یومِ مئی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ محنت کشوں کے حقوق کے لیے جدوجہد ایک مسلسل عمل ہے اگر ہم ایک منصفانہ، ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے قوانین اور پالیسیاں بنانا ہوں گی جو مزدوروں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کریں ان کی آواز کو دبانے کے بجائے مضبوط کریں۔
کیونکہ ایک مضبوط مزدور تحریک ایک مضبوط معیشت اور ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button