
لاہور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کر دیا، جبکہ موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی پروگرام میں ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال برقرار رہی اور کشیدگی کم نہ ہوئی تو 9 مئی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائیوں، آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 124 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 114 ڈالر فی بیرل پر آ گیا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 110 ڈالر سے کم ہو کر 104 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دوسری جانب اوگرا ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پٹرول پمپس کی ہڑتال کی خبروں کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی پٹرولیم ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان نہیں کیا۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق یکم مئی سے پٹرول پمپس بند ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں اور ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود سپلائی چین برقرار رکھی گئی ہے اور آئندہ بھی عوام کو بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ادھر آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے بھی ہڑتال کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں افواہ قرار دیا۔ وائس چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا کہ یکم مئی سے 5 مئی تک ہڑتال کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، ملک بھر کے تمام پٹرول پمپس معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پٹرول پمپ مالکان ہڑتال کی حمایت نہیں کرتے اور عوام کو مسلسل پٹرولیم مصنوعات فراہم کی جائیں گی۔



