انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، معاہدہ ہونے تک ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان

امریکی صدر نے گن اٹھائے دھوپ کا چشمہ لگائے اپنی اے آئی تصویر بھی شیئر کردی

واشنگٹن، برسلز، تہران (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران جوہری پروگرام سے ایسا معاہدہ نہیں کرتا جس میں امریکہ کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں پہلے آبنائے ہرمز کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنے جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں کرنے کی بات کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف ’’ مختصر اور طاقتور‘‘ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ مذاکرات میں جاری تعطل کو ختم کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے بعد امریکہ، ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ناکہ بندی کو بمباری کے مقابلے میں ’’ کسی حد تک زیادہ موثر‘‘ سمجھتے ہیں۔
انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ ناکہ بندی ختم ہو سکے۔ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ میں ناکہ بندی جاری رکھوں۔ میں اسے ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے تیل کے ذخائر اور پائپ لائنز پھٹنے کے قریب ہیں، کیونکہ ناکہ بندی کے باعث وہ تیل برآمد نہیں کر پا رہا، تاہم بعض ماہرین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ مزید برآں ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدے کے معاملے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جلد سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران اب تک غیر جوہری معاہدے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران اپنے معاملات درست نہیں کر پا رہا، وہ غیر جوہری معاہدہ پر دستخط کے طور طریقے نہیں جانتا، بہتر ہے کہ وہ جلد دانشمندی دکھائے۔ ٹرمپ نے اپنی ایک اے آئی سے بنی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں وہ ایک گن اٹھائے دھوپ کا چشمہ لگائے کھڑے ہیں، جبکہ ان کے عقب میں موجود پہاڑوں پر مختلف دھماکے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر پر اب مزید نرمی نہیں جیسے الفاظ درج ہیں، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ مزید برآں وائٹ ہائوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم ایران کے ساتھ بدستور رابطے میں ہے جبکہ ایران قیادت کے مسائل سے دوچار ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہائوس کی ترجمان آنا کیلی نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ صرف اس وقت معاہدہ کریں گے جب امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم ہوگا۔ ادھر امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دبائو میں اضافہ کرتے ہوئے 35اداروں اور شخصیات کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایران کے بینکاری نظام اور تیل کی تجارت کو سہارا دے رہا تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نامزد ادارے اور افراد اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی تیل کی ترسیل اور مالی لین دین میں ملوث رہے جس کے ذریعے پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی گئی۔ دریں اثنا یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے ایران اور لبنان میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور سفارتی عمل کے ذریعے تنازعے کے پائیدار حل پر زور دیا ہے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ ہے، جس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بغیر کسی فیس یا پابندی کے آمد و رفت کی بحالی کو بھی یقینی بنایا جائے، کیونکہ عالمی تجارت کے لیے یہ بہت اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ بنیادی اختلافی معاملات کا احاطہ کرے، جن میں سرفہرست ایران کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشرق وسطی میں جنگ کے اثرات یورپ کے معاشی تحفظ، خصوصا توانائی کے شعبے پر براہ راست پڑ سکتے ہیں اور اس بات پر بھی زور دیا کہ بر اعظم میں توانائی کے ذرائع کو محفوظ بنایا جائے۔ اسی تناظر میں انہوں نے توانائی کے شعبے سے متعلق یورپی پالیسیوں کا ایک پیکیج پیش کرنے کا اعلان بھی کیا، جس کا مقصد استحکام کو فروغ دینا اور خطے میں سیاسی اتار چڑھائو کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک اب بھی جنگی صورتحال میں ہے اور دشمن کی کسی بھی نئی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایران نے امریکہ کی جانب سے ایرانی جہازوں کو قبضے میں لینے پر اقوامِ متحدہ سے احتجاج کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکرٹری جنرل یو این اور صدر سلامتی کونسل کو خط میں ایران نے ناکہ بندی کو بحری قزاقی قرار دیا ہے۔ ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ ایسا رویہ غیر قانونی جبر، بین الاقوامی تجارت میں مداخلت اور املاک کے غیر قانونی قبضے کے مترادف ہے۔ مزید برآں امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں بندرگاہ چاہ بہار پر 20سے زائد جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں۔ سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی سے قبل چاہ بہار بندرگاہ پر روزانہ اوسطاً 5جہاز لنگر انداز ہوتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں بحری آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے اور جہاز بندرگاہ پر ہی رکے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button