
پاکستان اپنی انمول جغرافیائی پوزیشن کے حوالے سے ہمیشہ سے اہم رہا ہے اور بین الاقوامی معاملات میں پاکستان کا کسی نہ کسی حوالے سے کردار رہتا ہے جہاں جغرافیائی محل وقوع ہمیں ہمیشہ اہم رکھتا ہے وہیں ہمیں بعض اوقات اپنی اہمیت کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے اور پاکستان کو خواہ مخواہ معاملات میں گھسیٹا بھی جاتا ہے کئی مصیبتوں کا ہمیں مفت میں سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ افغانستان کی مصیبت ہمارے گلے پڑی ہوئی ہے اور ہماری جان ہی نہیں چھوڑ رہی بھارت ہمیشہ سے ہمارا جانی دشمن ہے لیکن یہ حیران کن امر ہے کہ بھارت کی سفارت کاری ہمیشہ سے بڑی منظم اور متحرک رہی ہے بھارت کا فارن آفیر ڈیپارٹمنٹ بڑا اہم رہا ہے دنیا بھر میں ان کے سفارتخانے اور سفارت کار بڑے متحرک رہتے ہیں انھوں نے اپنے ملک کے کلچر کو پرموٹ کرنے اپنی تجارت بڑھانے اوورسیز کے لیے ملازمتوں کے حصول اپنی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں میں مارکیٹنگ کرنے سے لے کر ہر سطح پر لابنگ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں بھارت اس حوالے سے بڑا سرمایہ بھی خرچ کرتا ہے بھارت کے سفارتکار زیادہ تر کیریئر ڈپلومیٹ ہوتے ہیں جن کی تربیت ہی سفارتکاری کے تقاضوں کے مطابق کی جاتی ہے لیکن عجیب بات ہے کہ بھارت کی زیادہ تر سفارتکاری سازشی تھیوری کے گرد گھومتی ہے اور اس کا مرکزی محور پاکستان ہوتا ہے اور ہر وقت پاکستان کو پھنسانے اور پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے تانے بانے بنتا رہتا ہے لیکن بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے اپنا کبھی مثبت رول ادا نہیں کیا اس کے برعکس پاکستان کا فارن آفیر ہمیشہ سے سفارشی کلچر سے بھرا رہا ہمارے پاس تو چند ایک کے علاوہ کوئی ڈھنگ کا وزیر خارجہ نہیں رہا ہم لوگوں کو نوازنے کے لیے انھیں سفیر بنا کر باہر بھیج دیتے ہیں ہمارے ہاں کیرئیر ڈپلومیٹ کی تعداد بہت کم ہے جبکہ سفارشی اور نوازے جانے والوں کی بھرمار ہے اوپر سے بدقسمتی جو جہاں تعینات ہوتا ہے وہ سب سے پہلے وہاں اپنا اثر ورسوخ قائم کرکے رشتہ داروں کو ایڈجسٹ کروانے کی کوشش کرتا ہے اپنے لیے اور رشتہ داروں کے لیے کاروبار ڈھونڈتا ہے اسےملک کی بجائے ذاتی تعلقات کی زیادہ فکر ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری بین الاقوامی سطح پر لابنگ بہت کمزور ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے بعض سفارتکاروں نے دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا لیکن عمومی طور پر ہماری سفارتکاری ڈھنگ ٹپاو ہی رہی ہے لیکن دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو تمام بڑے بڑے کارنامے پاکستان نے سر انجام دیے ہیں چین کو دنیا میں متعارف کروانے والا پاکستان تھا چین کو عالمی تنہائی سے نکالنے میں پاکستان کا اہم کردار تھا امریکہ اور چین کے درمیان رابطے شروع کروانے میں پاکستان کا بنیادی کردار تھا دنیا میں سب سے زیادہ امن مشن میں پاکستان شریک رہا ہے جہاد افغانستان کی کامیابی سے لے کر افغانستان میں حکومتوں کے قیام اور معاملات میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی میں پاکستان کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے دہشتگردی کی جنگ سے امریکہ سمیت بین الاقوامی افواج کو محفوظ راستہ فراہم کرنے والا پاکستان تھا وسطی ایشیائی ریاستوں کو سہارا دینے والا بھی پاکستان ہی تھا اب ایران امریکہ جنگ رکوانے میں بھی پاکستان کا بنیادی کردار ہے بلا شبہ اس جنگ نے دنیا کو شدید متاثر کر رکھا ہے لیکن آج پوری دنیا میں پاکستان کی سفارتکاری کے ڈنکے بج رہے ہیں دراصل پاکستان کی اہمیت اس وقت دوچند ہوئی جب پاکستان نے پچھلے سال اپنے سے کئی گنا بڑے ملک اپنے سے کئی گنا بڑی فوج اور اپنے سے کئی گنا زیادہ جنگی ہتھیار رکھنے والے اپنے ازلی دشمن کو ناکوں چنے چبوائے پاکستان نے نئے دور کی جدید جنگ میں وار کورس ہی بدل کر رکھ دیا دنیا پاکستان کی وار سٹرٹیجی پر ریسرچ کر رہی ہے دراصل یہ جنگ گیم چینجر ثابت ہوئی جس نے پاکستان کی دنیا ہی بدل دی اس کامیابی نے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا اس کے بعد ہر کوئی پاکستان سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اوپر سے جب امریکہ ایران جنگ شروع ہوئی تو پاکستان نے دونوں کے درمیان موثر رابطہ کاری کے ذریعے نہ صرف جنگ رکوا دی بلکہ دونوں کو 47 سال بعد ایک میز پر آمنے سامنے بٹھا دیا اسلام آباد دنیا کا مرکز نگاہ بنا رہا اور اس دن کے بعد آج تک یہ جنگ رکی ہوئی ہے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بددستور موجود ہے لیکن پاکستان آج بھی رابطہ کاری کا پل ہے اور معاملات کو سلجھانے کے لیے دنیا کو غیر یقینی کی فضا سے نکالنے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیا بھر سے رابطے میں ہے اور مذاکرات کو ازسرنو جوڑنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے پاکستان کی اہمیت کو دو چند کرنے والی فتح معرکہ حق بین المرصوص کی سالگرہ قریب آ رہی ہے پاکستان بھر میں حکومتوں سیاسی وسماجی تنظیموں اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے معرکہ حق کی سالگرہ قومی جوش وجذبہ سے منانے کا فیصلہ کیا ہے پنجاب میں تو اس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے لاہور میں افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے لیے واہگہ بارڈر تک ریلی نکالی گئی واہگہ بارڈر پر رینجرز کی خصوصی پریڈ ہوئی جس میں مختلف طبقات کا جوش قابل دید تھا پنجاب حکومت نے اس حوالے سے اچھی سہولت کاری کی ہے



