پاکستانتازہ ترین

پٹرول، بجلی قیمتوں میں اضافے کیخلاف کل ملک گیر احتجاج: حافظ نعیم الرحمان کا اعلان

لاہور(ویب ڈیسک )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور مہنگی بجلی کے خلاف کل (بروز جمعہ، یکم مئی) ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا۔

لاہور میں منصورہ کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نہ صرف مہنگائی بلکہ حکومت کی عوام دشمن شمسی توانائی (سولر) پالیسی اور پنجاب میں کسانوں کے استحصال کے خلاف بھی مظاہرے کرے گی۔

اس موقع پر نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمان سواتی بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سودی نظام کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شرح سود میں معمولی اضافہ بھی قومی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے سود کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا مگر اس کے برعکس شرح سود میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام سے فی لیٹر پٹرول پر بھاری لیوی وصول کی جا رہی ہے جبکہ بجلی کے بلوں میں جی ایس ٹی، نیلم جہلم سرچارج، فیول ایڈجسٹمنٹ اور آئی پی پیز کی کیپیسٹی چارجز سمیت متعدد ٹیکسز شامل کر کے غریب آدمی پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمرانی صرف اشتہارات تک محدود ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کیا گیا تو جماعت اسلامی ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ کا جواز بنا کر عوام پر بوجھ ڈالتی ہے، مگر اپنے اخراجات، مراعات اور ٹیکس استثنیٰ کے معاملے میں کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں انصاف، تعلیم، صحت اور امن و امان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے اور نظام کی تبدیلی کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں 50 لاکھ ممبرز بنائے گی اور 20 ہزار عوامی کمیٹیاں تشکیل دے کر ایک بڑی عوامی تحریک شروع کرے گی۔

عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کو باوقار خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button