پشاور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جب بھی وہ پنجاب جانے یا سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کرتے ہیں تو صوبے میں ڈرون حملے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے ڈرون حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے تعاون بھی طلب کر لیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس قبائلی علاقوں میں مبینہ ڈرون حملوں کے خلاف بحث کیلئے بلایا گیا تھا، جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف براہ راست مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ذمہ دار عناصر کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی ڈرون حملے میں شہری جاں بحق ہوتے ہیں تو انہیں صرف ’’I am sorry‘‘ اور ’’This is unfortunate‘‘ جیسے پیغامات موصول ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق اور عوامی تکالیف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ تین روز تک ان کے گھر کے اوپر بھی ڈرون پرواز کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پنجاب یا سندھ کے دوروں اور جلسوں کا اعلان کرتے ہیں تو اچانک حالات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ بات واضح ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ ان کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ڈرون حملوں میں معصوم شہری خصوصاً بچے نشانہ بنتے ہیں، جس سے عوام میں غم و غصہ اور انتقام کا جذبہ بڑھتا ہے اور دہشتگردی مزید فروغ پاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند لوگ بند کمروں میں فیصلے کرتے ہیں جبکہ ان فیصلوں کے نتائج خیبرپختونخوا اور قبائلی عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر سی ایم ہاؤس اور دیگر اہم مقامات محفوظ ہو سکتے ہیں تو قبائلی علاقوں کے بچے کیوں محفوظ نہیں؟
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کی شہادت پر صرف افسوس کے بیانات کافی نہیں بلکہ پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے ’’ایکشن ان ایڈ آف سول پاور‘‘ قانون پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت نوجوانوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا جا رہا ہے، جبکہ مائیں، بہنیں اور بیویاں برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کی منتظر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے اس قانون کو واپس لینے کیلئے کابینہ کو سفارشات ارسال کی ہیں، تاہم 970 مبینہ دہشتگردوں کی فہرست نہ ملنے کے باعث معاملہ زیر التوا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین میں بعض شقیں ایسی موجود ہیں جن کے باعث ڈرون حملوں یا آپریشنز کے ذمہ داران کے خلاف براہ راست کارروائی ممکن نہیں، تاہم متاثرین کے نقصانات کے ازالے کیلئے قانون سازی کی جا سکتی ہے، جس کیلئے اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے چیک پوسٹوں پر عوامی نمائندوں کے ساتھ رویے پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ، سپیکر اور گورنر بھی بعض اہلکاروں کو جواب دہ نہیں بنا سکتے۔
صوبے میں گیس بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ صوبے کی ضرورت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود صوبے کو اس کا آئینی حق نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ہفتے کے روز قبائلی عمائدین کا بڑا لویہ جرگہ طلب کیا گیا ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان شرکت کریں گے اور ڈرون حملوں کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
اجلاس سے پیپلز پارٹی کے احمد کریم کنڈی، جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، اے این پی کے نثار باز سمیت دیگر حکومتی و اپوزیشن ارکان نے بھی خطاب کیا۔



