
رزم ہو یا بزم، لاہور نے تاریخ کے کئی نشیب و فراز اپنی آغوش میں سمیٹ رکھے ہیں۔ آج ذکر اُس بزم کا جس کی آبیاری محبت اور تخلیق کے لہو سے ہوئی۔ وہ بزم صرف ایک ماہ کے مختصر عرصے میں ”حلقہ اربابِ ذوق“کا روپ دھار کر ایک تناور درخت بن کر اُبھری۔ 87 برس بیت چکے ہیں اور یہ حلقہ ادب کی بستی میں نئے قدم رکھنے والوں کے لیے ایک شفیق استاد اور مشاق راہنما کی صورت موجود ہے۔

اگر اسے اردو ادب کی کہکشاں تراشنے والا تخلیقی کارخانہ کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔اس داستانِ جنوں کا آغاز 9 اپریل 1939ء کو ہوا۔ لاہور کے در و دیوار گواہ ہیں جب سید نصیر احمد جامعی کے گھر چند ادب پرستوں نے”بزمِ داستان گویاں“کی بنیاد رکھی۔ حفیظ ہوشیار پوری کی زیرِ صدارت اس پہلی نشست میں نسیم حجازی نے اپنے افسانے”تلافی“کے ذریعے نثری سفر کا آغاز کیا،اس پر شیر محمد اختر، تابش صدیقی،محمد فاضل اور دیگر احباب نے فکر و فن کی روشنی ڈالی۔ ابتداء میں اس بزم کی دیواریں صرف نثر کی خوشبو سے مہکتی رہیں۔ جب خیال کی وسعت نے انگڑائی لی اور شاعری کو بھی اس محفل کا حصہ بنانے کی تجویز سامنے آئی، تو 29 اپریل 1939ء کو اس بزم نے ”حلقہ اربابِ ذوق“ کا نیا اور پرشکوہ لبادہ اوڑھ لیا۔
اس تبدیلیِ نام کے پیچھے قیوم نظر، یوسف ظفر اور ن م راشد جیسے جدیدیت کے نقیبوں کا ویژن شامل تھا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اردو نظم کا خانہ بدوش شاعر میراجی، اگرچہ باضابطہ طور پر بعد میں شامل ہوا، مگر اس تاریخی موڑ پر اس کی موجودگی کے شواہد فن کی تاریخ میں محفوظ ہیں۔ یوں نثر کے ساتھ ساتھ نظم، غزل، ناول اور تنقیدی مضامین کی وہ بحثیں چھڑیں جنہوں نے ادب کے طالب علموں کو فہم و ادراک کے نئے زاویئے عطا کیے۔حلقہ کی تاریخ کا پہلا معتبر باب میراجی کے نام سے جڑا ہے۔ 1941ء میں جب وہ سیکرٹری بنے، تو انہوں نے نقد و نظر کی نئی روایت قائم کی۔انہوں نے اُس برس حلقے میں پیش کی جانے والی شاہکار نظموں کو یکجا کر کے”1941ء کی بہترین نظمیں“ کے عنوان سے شائع کیا۔ یہ کتاب حلقے کی پہلی دستاویزی سند ٹھہری۔

اس مجموعے میں درج ناموں پر نظر ڈالیں تو ادب کا پورا آسمان روشن نظر آتا ہے۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، جوش ملیح آبادی، اختر شیرانی اور ن م راشد سے لے کر سلام مچھلی شہری اور یوسف ظفر تک، کس کس کا نام لیا جائے۔فیض کی شہرہ آفاق نظم ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ اسی مجموعے کے ذریعے پہلی بار قرطاسِ ادب کی زینت بنی۔

حلقہ اربابِ ذوق کا ارتقائی سفر دراصل اردو کی جدید ادبی تحریک کا سفر ہے۔ آغاز میں صوفی تبسم، محمد دین تاثیر اور شاہد احمد دہلوی جیسے قد آوروں نے اسے استحکام بخشا، تو بعد کے ادوار میں انتظار حسین، مستنصر حسین تارڑ، منو بھائی اور اشفاق احمد جیسی شخصیات نے اس کی رونقوں کو دوام بخشا۔ سعادت حسن منٹو کی بے باکی ہو یا ناصر کاظمی کی اداسی، بانو قدسیہ کا مشاہدہ ہو یا امجد اسلام امجد کی خوشبو، حلقے نے ہر رنگ کے گلاب اپنی مالا میں پروئے ہیں۔آج جب ہم 88ویں سال کے دہلیز پر کھڑے ہیں، سیکرٹری جاوید آفتاب اورجوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش کی قیادت میں یہ قافلہ نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔

جس کا پہلا اجلاس3مئی 2026ء کو پاک ٹی ہاؤس لاہور میں ڈاکٹر خورشید رضوی کی صدارت میں ہو گا۔تنقیدی حصہ میں نوید صادق کی نظم اور منظر اعجاز کی غزل جبکہ خصوصی اجلاس میں میراجی کو یاد کیا جائے گا۔ڈاکٹر نجیب جمال کی گفتگو اور ڈاکٹر محمد جواد راگ جے جے ونتی پربات کرینگے۔

حلقہ میں نذیر قیصر، خورشید رضوی،غلام حسین ساجد،ناصر بلوچ،امجد طفیل، عامر فرازجیسے معتبر ناموں کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ نقدِ سخن کی یہ شمع بجھی نہیں، بلکہ اس کی لو آج بھی اتنی ہی توانا ہے جتنی 9اپریل کی پہلی شام تھی۔یہاں میں سابق سیکرٹری شاذیہ مفتی کی حلقہ کے ساتھ کمٹمنٹ کو بھی یاد کرنا چاہوں گا جنہوں گزشتہ برس جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول اشرف کے ساتھ کامیابی سے نشستوں کو جاری رکھا۔ مرزا حامد بیگ اپنے ایک مضمون میں ڈاکٹر انور سجاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے 1969ء میں حلقہ اربابِ ذوق کو اس کا مخصوص مونوگرام عطا کیا۔ یہ نشان اُس عہد کے جمالیاتی شعور کا استعارہ بن چکا ہے۔
حلقے کی خوشبو لاہور تک محدود نہ رہی، بلکہ اس کی شاخیں ساہیوال، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں تک پھیل گئیں۔ یہاں تک کہ سرحدوں کے پار دہلی میں بھی اس کے چراغ روشن ہوتے رہے اور آج کینیڈا، امریکہ میں بھی حلقے کی شاخیں اردو ادب کی آبیاری کر رہی ہیں۔ 1973ء میں اسے فکری تلاطم کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاست اور ادب کی آمیزش نے کچھ ایسے رخ اختیار کیے کہ حلقہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ شہرت بخاری، انتظار حسین، انجم رومانی، عبادت بریلوی،اعجاز حسین بٹالوی، منیر نیازی، احمد مشتاق اور سجاد باقر رضوی جیسے جید ارکان نے محسوس کیا کہ تخلیقی لطافت سیاسی بحثوں کی نذر ہو رہی ہے۔ چنانچہ جاوید شاہین، سلیم شاہد، یونس جاوید اور سہیل احمد خاں کی تائید سے ایک ادبی گروپ تشکیل پاگیا۔
ایک طرف وائی ایم سی اے کا بورڈ روم تھا جہاں یوسف کامران اور محمد عظیم حلقے کی روایت کو سنبھالے ہوئے تھے، تو دوسری طرف پاک ٹی ہاؤس کی وہ تاریخی میزیں تھیں جہاں سہیل احمد خاں اور شبیر شاہد کی قیادت میں ادب کارنگ جمنے لگا۔ یہ وہی دور تھا جب انور سجاد اور سہیل احمد خاں کے درمیان انتخابی معرکہ بھی ہوا، جس نے حلقے کی جمہوری روح کو جلا بخشی۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ’حلقہ اربابِ ذوق (مرکز)‘ کے نام سے تیسرا دھڑا امجد الطاف اور مبارک احمد کی معیت میں سامنے آیا۔ غالباََ 2013ء میں بھی حلقہ دو لخت ہوا پھر ایک ہو گیا۔
یہ اتار چڑھاؤ، یہ تقسیم دراصل اس بات کی گواہی ہیں کہ حلقہ کوئی بے جان تنظیم نہیں۔ دھڑے بنتے رہے، چہرے بدلتے رہے اور جگہیں تبدیل ہوتی رہیں، مگر ’نقدِ جاں‘ کا وہ ترازو کبھی نہ جھکا جس کا آغاز 1939ء میں سید نصیر احمد جامعی کے گھر ہوا تھا۔ 9دہائیاں گزرنے میں صرف تین سال باقی ہیں،آج بھی حلقہ اربابِ ذوق کی اہمیت ایک ایسے مینار کی سی ہے جو ادب کے سمندر میں بھٹکتے ہوئے نئے جہازوں کو راستہ دکھاتا ہے۔ یادیں پاک ٹی ہاؤس کی کرسیوں پر بیٹھی آج بھی انور سجاد کی لکیروں، میراجی کی نظموں اور ناصر کاظمی کی غزلوں کا انتظار کرتی ہیں۔
شخصیات منوں مٹی تلے جا سوئیں، مگر ان کی تخلیقی تپش آج بھی حلقے کی نشستوں پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ حلقہ آج بھی ایک تعبیر ہے، ایک ایسی بزم جو کبھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ جب تک انسانی بستی میں احساس باقی ہے،اربابِ ذوق کی یہ محفل یونہی سجتی رہے گی۔



