انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

یکم مئی ، پسینے کی قیمت یا منافقت کا دن؟

 طاہر امبر

دنیا بھر میں یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے تقاریر ہوتی ہیں سیمینار سجتے ہیں بینرز لہرائے جاتے ہیں اور مزدور کے حق میں نعرے بلند کیے جاتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دن واقعی مزدور کے لیے ہے یا یہ صرف ایک ایسا رسمی تماشا بن چکا ہے جس میں پسینہ بہانے والے ہاتھوں کی نہیں بلکہ تقریریں کرنے والی زبانوں کی قدر ہوتی ہے

یہ دن ہمیں Haymarket Affair کی یاد دلاتا ہے جب مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے جانیں قربان کیں وہ لوگ جو آٹھ گھنٹے کام کے اصول کے لیے سڑکوں پر نکلے گولیوں کا نشانہ بنے اور تاریخ میں امر ہو گئے مگر آج کا مزدور وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ ہے اس کی آواز دفن ہو چکی ہے اس کا وجود معاشی جبر کے نیچے کچلا جا چکا ہے اور اس کا خواب صرف دو وقت کی روٹی تک محدود کر دیا گیا ہے

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مزدور کو انسان نہیں سمجھا جاتا ایک اینٹ اٹھانے والا ایک ریڑھی چلانے والا ایک فیکٹری میں مشین کے ساتھ جڑا ہوا شخص یہ سب ہماری نظر میں صرف مزدور ہیں گویا ان کی کوئی ذاتی شناخت ہی نہیں ان کے جذبات ان کی خواہشات ان کی عزت یہ سب ہمارے نظام میں غیر متعلقہ ہو چکے ہیں

یہ کیسا ظلم ہے کہ ایک مزدور سارا دن دھوپ میں جل کر بارش میں بھیگ کر سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے کام کرتا ہے مگر شام کو جب وہ اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدنے جاتا ہے تو اس کی جیب خالی ہوتی ہے یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک طرف محلات میں بیٹھے لوگ مزدور کے حقوق پر تقریریں کرتے ہیں اور دوسری طرف وہی مزدور اپنے حق کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا ہے

حقیقت یہ ہے کہ یکم مئی اب مزدور کا دن نہیں رہا بلکہ یہ اشرافیہ کے ضمیر کو وقتی سکون دینے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے اس دن مزدور کی تصویر کھینچی جاتی ہے اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اگلے ہی دن اسے پھر اسی مشین کا پرزہ بنا دیا جاتا ہے

ہم نے مزدور کو صرف ایک ضرورت بنا دیا ہے انسان نہیں سمجھا ہم اس کے ہاتھوں سے کام لیتے ہیں مگر اس کے ہاتھ تھامنے کے لیے تیار نہیں ہم اس کی محنت سے عمارتیں کھڑی کرتے ہیں مگر اسے چھت دینے کے لیے تیار نہیں ہم اس کے پسینے سے اپنی زندگی آسان بناتے ہیں مگر اس کے لیے زندگی آسان بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے

یہ دوہرا معیار ہی ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے

اگر واقعی ہم مزدور کا دن منانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مزدور صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ اس معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے جب تک ہم اسے عزت انصاف اور اس کا جائز حق نہیں دیں گے تب تک یکم مئی محض ایک جھوٹا جشن ہی رہے گا

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم مزدور کے حق میں نعرے لگائیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کے حق کو تسلیم کریں اسے وہ اجرت دیں جس کا وہ مستحق ہے اسے وہ تحفظ دیں جس کا وہ حقدار ہے اور سب سے بڑھ کر اسے وہ عزت دیں جو ایک انسان کا بنیادی حق ہے

ورنہ یاد رکھیں ایک دن یہ خاموش مزدور بولے گااور جب وہ بولے گا تو تاریخ صرف سنے گی نہیں بدل جائے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button