پاکستانتازہ ترین

جماعت اسلامی کا مہنگائی اور پٹرول قیمتوں میں اضافے کیخلاف ملک گیر احتجاج

حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر لاہور سمیت وسطی پنجاب میں مظاہرے، حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ

لاہور (زبیر اسلم خان) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر لاہور سمیت وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع میں نماز جمعہ کے بعد مہنگائی، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

لاہور، فیصل آباد، چنیوٹ، حافظ آباد، وزیر آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، قصور، ساہیوال، اوکاڑہ، نارووال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور پاکپتن میں ہونے والے مظاہروں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز، پینا فلیکس اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہروں میں تاجروں، کسانوں، مزدوروں، طلبہ اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ عوام کی آمدن میں اضافہ نہیں ہو رہا، جس کے باعث عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے۔

اس موقع پر محمد جاوید قصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لٹر تک پہنچ چکی ہے جبکہ بجلی کے نرخ بھی عوام کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے پنجاب میں کسانوں کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمتوں میں کمی اور زرعی اخراجات میں اضافے نے کسانوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت حاصل کرنے سے محروم ہیں جس سے زرعی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

محمد جاوید قصوری نے کہا کہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے لاتعلق ہو چکا ہے جبکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے عالمی یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یوم مزدور کو صرف تقریبات اور بیانات تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ مزدور آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مزدور محنت کرتا ہے تو صنعت چلتی ہے مگر اس کی محنت کا اصل پھل ایک مخصوص طبقہ لے جاتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات غربت کے خاتمے کیلئے متعارف کرائے گئے تھے مگر اس کے باوجود غربت میں 28 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کم از کم اجرت پر کتنا عملدرآمد ہوا؟ انہوں نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا جاتا جبکہ ایک غریب آدمی روزانہ ایک لٹر پٹرول استعمال کرے تو بھی حکومت کو 125 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button