
موٹر وے گینگ ریپ کیس میں عدالت کی جانب سے ملزمان کی سزائے موت برقرار رکھنے کے فیصلے نے ایک بار پھر پورے معاشرے کو اس سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا سخت سزائیں واقعی خواتین کے خلاف جرائم کا خاتمہ کر سکتی ہیں؟ یہ فیصلہ یقیناً متاثرہ خاتون اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے انصاف کی جانب ایک اہم قدم ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صرف چند مجرموں کو سزا دے دینے سے خواتین خود کو محفوظ محسوس کرنے لگیں گی؟
ہمارے معاشرے میں جب بھی کسی عورت کے ساتھ کوئی افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے تو اکثر توجہ مجرم کے بجائے متاثرہ خاتون پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس کے لباس، وقت، نقل و حرکت اور طرزِ زندگی پر بحث شروع ہو جاتی ہے، جیسے اصل مسئلہ جرم نہیں بلکہ عورت کا گھر سے نکلنا ہو۔ یہی سوچ اس مسئلے کی جڑ ہے۔ جب تک معاشرہ مجرم کے بجائے متاثرہ فرد کو کٹہرے میں کھڑا کرتا رہے گا، تب تک خوف کا یہ ماحول ختم نہیں ہو سکتا۔
موٹر وے کا واقعہ صرف ایک جرم نہیں تھا بلکہ اس نے پورے ملک کی خواتین کو یہ احساس دلایا تھا کہ وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ خطرے کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد سخت قوانین، خصوصی عدالتوں اور فوری کارروائی کے دعوے کیے گئے۔ عوام کو یقین دلایا گیا کہ اب ایسے جرائم کا سدباب ہوگا اور خواتین زیادہ محفوظ ہوں گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی مختلف شہروں سے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد، زیادتی اور ہراسانی کے واقعات سامنے آتے رہے۔
بہت سے ایسے واقعات کبھی خبروں کی زینت نہیں بنتے۔ بہت سی متاثرہ خواتین خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ کچھ خاندان بدنامی کے خوف سے مقدمہ درج نہیں کرواتے جبکہ بعض متاثرین کو انصاف کے طویل اور پیچیدہ نظام سے گزرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اعداد و شمار شاید ان واقعات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں جو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن خواتین کے ساتھ ایسے جرائم ہوتے ہیں وہ صرف جسمانی نہیں بلکہ شدید نفسیاتی اذیت کا بھی شکار ہوتی ہیں۔ خوف، بے اعتمادی، ڈپریشن، احساسِ جرم اور سماجی دباؤ ان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بعض متاثرین برسوں تک معمول کی زندگی کی طرف واپس نہیں لوٹ پاتیں۔ ایسے حالات میں انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں بلکہ متاثرہ فرد کی بحالی بھی اتنی ہی اہم ذمہ داری ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں متاثرین کی نفسیاتی بحالی پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ کسی عورت کے ساتھ ظلم ہونے کے بعد سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اسے محفوظ ماحول، قانونی معاونت، طبی سہولتوں اور نفسیاتی مشاورت تک فوری رسائی دی جائے۔ لیکن اکثر خواتین کو یہ تمام مراحل اکیلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں اپنے حق کے لیے بھی مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
سوال صرف قانون کا نہیں بلکہ سماجی رویوں کا بھی ہے۔ اگر ایک بچی بچپن سے یہ دیکھتی ہے کہ عورت کی عزت اور آزادی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اگر ایک نوجوان لڑکا یہ سیکھتا ہے کہ عورت اس سے کمتر ہے یا اس پر اختیار رکھنا اس کا حق ہے، تو پھر مسئلہ صرف عدالتوں سے حل نہیں ہوگا۔ معاشرے کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ احترام، مساوات اور انسانی وقار کی تعلیم گھر، اسکول اور سماجی اداروں میں دیے بغیر پائیدار تبدیلی ممکن نہیں۔
خواتین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ عوامی مقامات پر نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہو، پولیس کو جدید تربیت دی جائے، متاثرین کے لیے فوری امدادی مراکز قائم کیے جائیں اور مقدمات کو برسوں تک لٹکانے کے بجائے جلد نمٹایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی نصاب اور سماجی مہمات کے ذریعے خواتین کے احترام اور انسانی حقوق کے بارے میں شعور پیدا کیا جانا بھی ناگزیر ہے۔
ایک اور اہم پہلو معاشی خودمختاری ہے۔ جو عورت معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہے وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی نسبتاً زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے خواتین کی تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع میں اضافہ بھی تحفظ کے وسیع تر تصور کا حصہ ہے۔ تحفظ صرف سڑکوں پر گشت بڑھانے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے سے حاصل ہوتا ہے جہاں عورت خود کو بااختیار اور باوقار محسوس کرے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا پیمانہ اس کی عمارتیں، سڑکیں یا ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے بلکہ اس کے کمزور ترین افراد کا تحفظ ہوتا ہے۔ اگر ایک عورت خوف کے بغیر سفر نہیں کر سکتی، اگر ایک بچی سکول جاتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے، اگر ایک متاثرہ خاتون انصاف کے حصول سے پہلے ہی ہمت ہار دیتی ہے تو پھر ہمیں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔
موٹر وے کیس کے مجرموں کو سزا مل جانا انصاف کے نظام کی ایک اہم کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن اصل کامیابی اس دن ہوگی جب کسی عورت کو رات کے وقت سفر کرتے ہوئے خوف محسوس نہ ہو، جب کسی متاثرہ خاتون سے سوال کرنے کے بجائے اس کا ساتھ دیا جائے، جب جرم کا بوجھ مجرم کے کندھوں پر ہو نہ کہ متاثرہ فرد کے کردار پر، اور جب ہر عورت یہ یقین کر سکے کہ اس کی جان، عزت اور آزادی ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
محفوظ معاشرے کا اعلان الفاظ سے نہیں بلکہ لوگوں کے احساسِ تحفظ سے ثابت ہوتا ہے۔ جب خواتین بلا خوف و خطر اپنی زندگی گزار سکیں گی، تب ہی یہ دعویٰ حقیقت بن سکے گا کہ ہمارا معاشرہ واقعی محفوظ ہے۔



