
پچھلے دنوں نشتر ٹاؤن پریس کلب کے ایک مشترکہ سیشن میں وائس چیئرمین ڈاکٹر شاہد محمود نے میٹنگ میں موجود صحافی دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایسے حساس موضوع پر کھل کر بات کی، جو موجودہ دور کا سب سے بڑا سماجی اور صحافتی المیہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بڑے پتے کی بات کی کہ کیسے ایک بات جب بیسیوں لوگوں تک پہنچتی ہے تو وہ اپنی اصل کھو دیتی ہے۔ یہ گفتگو محض ایک کمرے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرے، بالخصوص میڈیا انڈسٹری اور ہمارے خاندانی نظام کے لیے ایک لمحہ فکریہ اور آئینہ ہے۔
نفسیات اور ابلاغ عامہ کے ماہرین اس رجحان کو ”ٹیلی فون گیم ایفیکٹ“ کہتے ہیں۔ جب کوئی خبر یا معلومات ایک زبان سے دوسری زبان کا سفر کرتی ہے، تو وہ چار بڑے خطرناک مراحل سے گزرتی ہے، کانٹ چھانٹ، مبالغہ آرائی، ذاتی آمیزش، اور آخر میں ایک بالکل نئی افواہ کی تخلیق، بیسویں بندے تک پہنچتے پہنچتے اصل حقیقت کا صرف دس فیصد حصہ باقی رہ جاتا ہے، جبکہ باقی نوے فیصد حصہ وہ سنسنی خیزی ہوتی ہے جو راستے کے مسافروں نے اپنی طرف سے شامل کی ہوتی ہے۔
آج کا دور ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ کا دور ہے۔ ماضی میں کسی افواہ کو پھیلنے میں دن یا ہفتے لگتے تھے، لیکن آج واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹرکے زمانے میں ایک جھوٹ سیکنڈوں میں لاکھوں دلوں اور دماغوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس دوڑ میں جہاں عام شہری غیر ارادی طور پر اس بگاڑ کا حصہ بنتا ہے، وہاں کبھی کبھار صحافت سے وابستہ افراد بھی”سب سے پہلے“ کی اندھی دوڑ میں اس دلدل میں گر جاتے ہیں۔پریس کلب کسی بھی شہر یا علاقے میں سچائی کا گڑھ ہوتے ہیں۔ عوام اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اس لیے یقین کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک عام شہری کی سنی سنائی بات اور ایک پیشہ ور صحافی کی تحقیق شدہ خبر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر خود صحافی برادری کے اندر، پریس کلبوں کے مشترکہ سیشنز میں، سنی سنائی باتوں کو بغیر تصدیق کے آگے بڑھانے کا رواج چل پڑے، تو عام عوام کا میڈیا پر سے اعتماد بالکل اٹھ جائے گا۔
اس سنگین صورتحال میں جب ہم ذمہ داری کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف پریس کلب یا صحافیوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ اسلام ہمیں واضح حکم دیتا ہے کہ ”جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو“۔ آج ہم نے تحقیق کا دامن چھوڑ کر”فارورڈ“ کا بٹن دبا دیا ہے۔ ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم کسی بھی ایسی بات کو آگے بڑھانے سے گریز کریں جس کا ہمارے پاس کوئی ٹھوس دستاویزی یا عینی شاہد موجود نہ ہو۔
افواہوں کے اس زہریلے اثر کو میں نے خود بھی بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا جب مجھ سے ایسی باتیں منسوب کر کے پھیلائی گئیں اور لوگوں کی ذہن سازی کی گئی جو میں نے کبھی کی ہی نہیں تھیں۔ جب آپ خود اس ذہنی اذیت سے گزرتے ہیں، تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ بغیر تصدیق کے پھیلائی گئی ایک جھوٹی بات کسی انسان کی ساکھ اور ذہنی سکون کو کس طرح برباد کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنی سنائی بات پر یقین کرنا اور اسے آگے پھیلانا کسی بھی سنجیدہ انسان کے وقار کے خلاف ہے۔صحافت اور اخلاقیات کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ جس شخص، ادارے یا فریق کے متعلق بات ہو رہی ہو، خبر کو اندھا دھند آگے پھیلانے کے بجائے سب سے پہلے اس متعلقہ فریق سے رابطہ کیا جائے۔ اس کے موقف کو سنا جائے، حقائق کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیق کی جائے اور پھر ہی کوئی خبر چلائی جائے۔
یکطرفہ بات سن کر رائے قائم کر لینا اور اسے معاشرے میں عام کرنا صحافتی بددیانتی اور سماجی جرم ہے۔ اگر کوئی بات بیس لوگوں سے ہو کر آپ تک پہنچی ہے، تو بطور صحافی اور بطور ایک ذمہ دار شہری آپ کی یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ آپ ان بیس لوگوں کی رائے کو سچ ماننے کے بجائے براہِ راست اس پہلے شخص (اصل سورس) تک پہنچیں جہاں سے وہ بات شروع ہوئی تھی۔نشتر ٹاؤن پریس کلب کے سیشن میں ڈاکٹر شاہد محمود کی گفتگو دراصل تمام مقامی اور قومی اداروں کے لیے ایک گائیڈ لائن ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ افواہیں نہ صرف افراد کی ذاتی زندگیوں کو تباہ کرتی ہیں، بلکہ یہ اداروں،معیشت اور ملکی سالمیت کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
ایک غلط خبر کسی بے گناہ کو مجرم بنا سکتی ہے اور معاشرے میں انتشار پھیلا سکتی ہے،وقت کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر صحافتی ضابطہ اخلاق اور عوامی شعور کی مہم کا ازسرِ نو نفاذ کیا جائے۔ ہر پریس کلب کو اپنے اراکین کے لیے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کرنا چاہیے، جہاں ”معلومات کے بگاڑ“ (Information Distortion) اور”فیک نیوز“ (Fake News) کی روک تھام کے طریقوں پر بات کی جائے۔ صحافی کا کام صرف خبر دینا نہیں، بلکہ سچی اور تصدیق شدہ خبر دینا ہے۔



