انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

دیارِ غیر میں دھڑکتاپنجاب،شکاگو کی شام،سخنوروں کے نام

شہزاد فراموش

مٹی کی خوشبو سرحدوں کی قید سے آزاد ہوتی ہے اور جب یہ خوشبو لفظوں کا روپ دھار کر کسی پردیس میں بکھرتی ہے، تو اجنبی راستے بھی اپنی گلیوں جیسے لگنے لگتے ہیں۔ سات سمندر پار، جہاں بلند عمارتیں انسان کو اپنی جڑوں سے دور کر دیتی ہیں،اگر وہاں کچھ ادب شناس ال بیٹھیں تو دھرتی ماں کی بولی کا ایک ایک لفظ شفا بن کر دلوں پر اترتا ہے۔ کچھ ایسا ہی سحرِ انگیز منظرنامہ گزشتہ دنوں امریکہ کے شہر شکاگو میں دیکھنے کو ملا، جہاں پنجاب کی سانجھی تہذیب، محبت کی پنجابی زبان اور تخلیق کے رنگ اکٹھے سجے۔

یہ ادبی نشست دیارِ غیر میں بسنے والے پنجابیوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی ، جسے‘‘سخنور پنجاب ’’نے شکاگو کی ایک شام کو سونپ دیا تھا۔تصور کیجیے کہ ایک ایسا ایوان جہاں مشرق اور مغرب کے پنجابی اکٹھے ہو کر گلے مل رہے ہوں، جہاں امرتسر کی ہوا ،لاہو ر کی فضا کا لمس ایک ساتھ محسوس کیا جا رہا ہو، جہاں پنجابی شاعری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہو، وہ کیاشاندار تقریب ہو گی۔

کینیڈا، بھارت، پاکستان اور امریکہ کی مختلف ریاستوں سے علم و ادب کے آفتاب ا و ر ماہتاب ایک چھت تلے جمع تھے۔ یوں لگا جیسے شکاگو کی ہواؤں میں وارث شاہ کی ہیر، بلھے شاہ کی کافی،شوکمار کے گیت اور بابا فرید کے اشلوک کی مٹھاس گھل گئی ہو۔ یہ مشاعرہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مٹی کی محبت اور مادری زبان کا رشتہ جغرافیائی لکیروں سے کہیں زیادہ طاقتور اور پائیدار ہوتا ہے۔

امریکہ کی سرزمین پر پنجابی زبان و ادب کی بقا، ترویج اور فروغ کے لیے جو چند ادارے اپنی پوری توانائی کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں، ان میں‘‘سخنور پنجاب’’ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ دراصل ‘‘ سخنور شکاگو’’ کی ایک ذیلی شاخ ہے جس نے پردیس میں سچے پنجابی کلچر کو زندہ رکھنے کا بیڑہ اٹھالیا ہے۔اس یادگار اور تاریخی شام کی روحِ رواں،اس کے اصل معمار اور شکاگو کی ممتاز ادبی شخصیت عابد رشید ہیں۔ان کی پنجابی ادب کے لیے مسلسل اور انتھک کاوشیں ڈھکی چھپی نہیں۔

پردیس کی مصروف زندگی میں جہاں ہر شخص وقت کی کمی کا رونا روتا ہے، عابد رشید نے دن رات کی محنت سے اس مشاعرے کو ممکن بنایا۔ انہوں نے نہ صرف دونوں پنجابوں کے لکھاریوں کو مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کیا، بلکہ ثابت کیا کہ اگر نیت سچی ہو تو دوریاں کبھی بھی تہذیبی ملاپ کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں ۔

اس شام کو خوبصورت یادوں میں بدلنے کے لیے سٹیج کی کمان طاہرہ ردا نے سنبھالی۔ انہوں نے اپنی مدھر آواز، شگفتہ بیانی اور پنجابی کے خوبصورت اشعار کے ساتھ مشاعرے کی نظامت کے فرائض اس انداز سے ادا کیے کہ ہر لمحہ سامعین کی توجہ سٹیج پر مرکوز رہی۔ شعر کہنے کی باری ہو یا کسی مہمان کا تعارف، طاہرہ ردا کے جملوں کا چناؤ انتہائی شاعرانہ اور جاندار تھا۔

صدارت پنجابی کے ممتاز اور سینئر شاعر ساجد چودھری نے کی، جن کی موجودگی نے ایوان کو وقار بخشا۔ اس ادبی گلدستے میں شعرا کے ساتھ کچھ نامور سماجی اور ثقافتی شخصیات نے بھی خیالات کا اظہار کیا جن میں اونکار سنگھ سانگھا، ریاض بابر، راجندر سنگھ ماگھو اور کراچی سے طارق معین شامل تھے۔ ان شخصیات نے ‘‘سخنور پنجاب’’ کی خدمات کو سراہا اور زور دیا کہ نئی نسل کو مادری زبان سے جوڑے رکھنے کے لیے ایسی تقریبات کا تسلسل بے حد ضروری ہے۔

مشرقی پنجاب سے آئے ہوئے قومی ایوارڈ یافتہ، نامور ڈرامہ نگار، تھیٹر کے بادشاہ اور ادبی ہستی ڈاکٹر آتم جیت سنگھ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ انکے دانشورانہ لمس نے پوری محفل کوسنجیدہ اور ادبی رنگ دیا۔ڈاکٹر آتم جیت سنگھ کے ساتھ انڈیانا سے تشریف لائے ممتاز شاعر روندر سنگھ سہرا نے کلام سنا یاجس میں محبت، امن اور سانجھے پنجاب کی بات کی گئی ، ان کا کلام سیدھا دلوں میں اترا۔

مشاعرے میں ڈاکٹر اختر حسین سندھو (پاکستان) کے کلام میں مٹی کی خوشبو اور روایتی پنجابی رنگ نمایاں تھا، جس نے لاہور اور لائل پور کی یادیں تازہ کر دیں۔اعجاز حسین بھٹی (نیویارک) نے ہجرت کے دکھ اور پردیس کے موسموں کو خوبصورت لفظوں کا جامہ پہنایا۔راکند کور (انڈیانا) کی شاعری میں ایک گہرا احساس اور دھیما پن تھا جس نے خواتین کی بھرپور نمائندگی کی۔

عابد رشیدنے منتظم ہونے کے ساتھ جب مائیک سنبھالا تو ان کے اشعار نے ثابت کیا کہ ان کا دل واقعی پنجابی زبان کے لیے دھڑکتا ہے۔غلام مصطفٰے انجم کے کلام میں بلا کا اثر اور روانی تھی، جس نے محفل کو نئے جوش سے بھر دیا۔ساجد چودھری کے صدارتی کلام میں فکری گہرائی اور فن کی پختگی نمایاں تھی، جس نے سب کو داد دینے پر مجبور کیا۔راج لالی اور کشش ہوشیارپوری نے اپنے مخصوص انداز میں جدید دور کے مسائل اور جذباتی رشتوں کو موضوع بنایا۔گرلین کور اور طاہرہ ردا نے نسائی احساسات اور پنجابی تہذیب کے خوبصورت پہلوؤں کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا۔راز رنگونی اور بدر اسلام بدر (شکاگو) نے اپنے کلام سے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی سطح کے شاعر سے کم نہیں۔

سخنور پنجاب کے مشاعروں کی ایک خاص بات ان کا اعلیٰ درجے کا نظم و ضبط ہے۔ مہمانوں کے استقبال سے لے کر ان کے بیٹھنے اور وقت کی پابندی تک، ہر چیز انتہائی سلیقے سے ترتیب دی گئی تھی۔ ادبی تشنگی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ منتظمین نے مہمانوں کیلئے پروقار ڈنر کا بھی اہتمام کیا۔

منتظم عابد رشید کا کہنا تھا کہ یہ یادگار مشاعرہ بہت جلد یوٹیوب پر پنجاب سخنور کے چینل پر نشر کیا جائے گا، جہاں دنیا بھر میں بسنے والے لاکھوں پنجابی اس سحر انگیز محفل سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔انہوں نے تمام شعرا، معزز مہمانوں اور سامعین کاشکریہ ادا کیا جن کی شرکت نے تقریب کو لافانی بنا دیا۔ شکاگو کی اس شام کی خوشبو دیر تک دلوں کے دالان میں مہکتی رہے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button